فیصل آباد سمیت صوبہ بھر میں منافع خور مافیا نے ”ات ”مچا دی

فیصل آباد(آن لائن) رمضان المباک کی آمد آمد، منافع خورواور ذخیر اندوز شہریوں کو لوٹنے کیلئے سرگرم، مصنوعی مہنگائی کاجن بے قابو،فیصل آباد سمیت صوبے بھر میں مصنوعی مہنگائی کو پنجاب حکومت ضلعی سطح پرکنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام، چینی،کوکنگ آئل،گھی، دودھ دہی،گوشت، انڈے ، بیسن،دالیں،چال،کھجور،ایل پی جی گیس سمیت بیکری اور پھل سبزیوں کی قیمتوں کی ریٹ لسٹیں غائب،مارکیٹ اور بازاروں میں منا فع خوروں اور ذخیزاندازوں نے اپنے اپنے ریٹ مقرر کرلیے،ایک ہفتے کے دوران برائلر مرغی کا گوشت تاریخ کی بلند ترین سطح پرپہنچ گیا، فی کلو گرام مرغی کا گوشت689روپے کاہوگیا۔چند روز کے دوران برائلر مرغی کے گوشت کی قیمت میں 50سے150روپے تک اضافہ ہو چکا ہے۔ چینی کی قیمتوں میں بھی اضافہ،چینی فی کلو 160 سے 170 روپے تک فروخت ہو نے لگی، روٹی اور نان کی قیمتوں میں دو روپے سے پانچ روپے تک اضافہ کردیا گیا،ایل پی جی گیس کی قیمت میں فی کلو 20روپے اضافہ،کھجوریں بھی 100سے 200روپے فی کلو اضافہ،دودھ،دہی اور گوشت کے ریٹ ہی مختلف ہیں، منا فع خوروں کے سامنے ضلعی انتظامیہ بے بس جبکہ ڈپٹی کمشنر اور ڈویژنل کمشنر صاف ستھر اپنجاب اور تجاوزات کے خلاف مہم میں مصروف، آن لائن کے مطابق رمضان المباک کی آمد سے قبل ہی برائلر کی قیمت نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی، مارکیٹ میں برائلرگوشت کی قیمت 650 روپے فی کلو سے بھی تجاوز کر گئی ہے جبکہ 900گرام کی قیمت 610روپے اور فی کلو گرام قیمت 689روپے ہو گئی جبکہ فارمی انڈے بھی فی درجن 270سے 300روپے میں فروخت ہو رہے ہیں اور اوپن مارکیٹ میں کوکنگ آئل اور گھی کی قیمتوں کے ہر کمپنی کے الگ الگ ریٹ ہیں مختلف کمپنیوں کے ریٹ 50سے 100روپے تک فی کلو فرق ہے اس طرح شہر بھر میں دودھ بھی 140روپے سے 260روپے فی کلو میں فروخت ہورہا ہے دہی 180سے 260روپے فی کلوجبکہ ضلعی انتظامیہ اپنے ہی جاری ریٹ پر 750روپے بیف اور1450روپے مٹن کی قیمتوں پر عملدرآمد کرنے میں مکمل طو پر ر ناکام ہے. شہر بھرمیں بیف 1200روپے،مٹن 2200روپے کلو تک فروخت ہورہاہے، قصاب سرکاری ریٹ پر گوشت فروخت کرنے پر تیار نہیں ہیں, شہر یو ں کے لئے برائلر مرغی کے ساتھ گو شت کھا نا مشکل ہو گیا چند روز میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے گلی محلوں میں چینی 160سے 170روپے میں فروخت ہورہی ہے دال چناسمیت دیگر دالیں بھی مہنگی ہوگئیں،چال 340سے 360روپے فی کلو فروخت ہورہے ہیں،کھجور جوکہ پہلے 400روپے میں فروخت ہوہی تھی اب 500سے 600روپے فی کلو ہوگئی ہے، اور منافع خوروں چکی مالکان اور شہر یوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں بیسن380سے 400روپے فی کلو،آٹے کی قیمتوں میں بھی اضافہ شروع ہوگیا ہے،صابن 50والا 80روپے چائے کی پتی میں 50سے 100وپے فی کلو اضافہ ہوچکا، بیکری اٹیمز سمیت دیگر کھا نے پینے کی اشیا میں آئے روز اضافہ ہورہاہے سیب،انار،کیلا اوردیگرپھلوں کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے اسی طرح آلو،بندگوبھی،شملہ مرچ، پالک،دیگر استعمال ہونے والی سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں کم ہونے کی بجائے ان میں اضافہ شروع ہوگیا ہے، سرکاری ریٹ لسٹ پر عملدرآمد نہ ہونے سے عوام کو مہنگائی کا دوہرا بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔،مصنوعی مہنگائی کے سامنے پنجاب ضلعی انتظامیہ منافع خوروں کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوچکی ہے،منافع خوروں ضلعی انتظامیہ کے احکامات پر عمل نہیں کرتے اس طرح دودھ کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے شہر اور گردونواح میں دودھ فروشوں نے اپنے ہی ریٹ مقرر کررکھے ہیں۔ جبکہ فیصل آباد کی انتظامیہ صاف ستھرا پنجاب اور تجاوزات کے خلاف مہم میں مصروف ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں