فیصل آباد میں جرائم پیشہ افرادکا راج،پولیس حکام بے بس

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان کے دوسرے بڑے صنعتی شہر فیصل آباد میں بھتہ خوری’ اغواء برائے تاوان’ قتل وغارت گری اور سرعام لوٹ مار کی وارداتیں عروج پر پہنچ گئی’ سی پی او صاحبزادہ بلال عمر اور ان کی ٹیم جرائم پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی’ بڑھتی ہوئی وارداتوں پر ارکان اسمبلی اور شہری عدم تحفظ کا شکار ہو گئے۔ تفصیل کے مطابق فیصل آباد آج کل ڈاکوئوں اور چوروں کے نرغے میں آ چکا ہے۔ ڈاکوئوں اور چوروں کے گروہ سرعام شاہراہوں پر دندناتے پھرتے وارداتیں کرتے نظر آتے ہیں اور روزانہ ایک سو کے لگ بھگ وارداتیں معمول بن چکی ہیں جبکہ قتل وغارت گری کے ساتھ ساتھ اغواء برائے تاوان’ بھتہ خوری کی وارداتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ آئے روز تاجروں اور شہریوںکو اغواء کرکے تاوان اور بھتہ مانگا جا رہا ہے’ پولیس حکام بے بس نظر آتے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی’ ٹکٹ ہولڈرز نے بھی ایک اہم اجلاس کے دوران آر پی او ذیشان اصغر’ سی پی او صاحبزادہ بلال عمر اور ان کی ٹیم کی کارکردگی پر سوال اٹھا دیئے’ لوٹ مار کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر پولیس کے اعلیٰ حکام جرائم پیشہ افراد کو پکڑنے کی بجائے ان کا فون سننا تک گوارا نہیں کرتے اور صرف سوشل میڈیا پر کاغذی کارروائی دکھاتے ہوئے اعلیٰ حکام کو سب اچھا کی رپورٹ بھجوا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پولیس کے اعلیٰ افسران ان کا فون سننا گوارا نہیں کرتے تو عام آدمی کا کیا حال ہو گا۔ آئے روز قتل وغارت گری’ ڈکیتی’ راہزنی اور چوری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر شہری عدم تحفظ کا شکار نظر آتے ہیں اور ان کا گھروں سے نکلنا دوبھر ہو چکا ہے۔ جبکہ پولیس کا گشت نہ ہونے کے برابر ہے۔ دوسری طرف پولیس جرائم پیشہ افراد کو پکڑنے کی بجائے شاہراہوں میں ناکہ لگا کر شریف شہریوں کو تنگ کرنے میں مصروف نظر آتی ہے۔ آئی جی پنجاب کی طرف سے پولیس کلچر میں تبدیلی نہ ہو سکی۔ شہری حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف’ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان اور ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس افسران ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا کی بجائے شہریوں کو تحفظ اور ان کے جان ومال کی حفاظت کیلئے موثر اقدامات اور لوٹ مار کرنے والے جرائم پیشہ افراد کو نکیل ڈالنے کیلئے یقینی اقدامات کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں