فیصل آباد میں دوسرے روز بھی بارش،چھت گرنے سے بہن بھائی جاں بحق

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) فیصل آباد میں گزشتہ شب مسلسل دوسری رات بھی موسلا دھار بارش سے جل تھل ہو گیا، نشیبی
علاقوں میں بارشی پانی جمع ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا’ متعدد فیڈر ٹریپ ہونے سے کاروبار زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا۔ تفصیل کے مطابق مسلسل دوسری شب بھی فیصل آباد اور اس کے گردونواح میں طوفانی بارش سے مین شاہراہوں اور نشیبی علاقوں میں بارشی پانی جمع ہو گیا، گزشتہ شب سب سے زیادہ جیل روڈ پر 78ملی میٹر’ گلستان کالونی میں 76′ غلام محمد آباد میں 52′ علامہ اقبال کالونی میں 54′ مدینہ ٹائون میں 35 اور ڈوگر بستی میں 29 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ محکمہ واسا کا عملہ بارش کے بعد شاہراہوں اور نشیبی علاقوں میں پانی کے اخراج کیلئے سرگرم ہو گیا۔ ایم ڈی واسا سہیل قادر چیمہ کی ہدایت پر فیلڈ سٹاف سمیت مشینری کو فنکشنل کر دیا گیا۔ تفصیل کے مطابق گزشتہ شب بھی رات 12 بجے کے قریب شروع ہونے والی بارش کا سلسلہ صبح تک جاری رہا۔ شہر کے نشیبی علاقے جوہڑ کا منظر پیش کرنے لگے، گلی’ محلوں میں بارشی پانی جمع ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ جبکہ فیسکو کی نااہلی کے باعث درجنوں فیڈر ٹریپ کر گئے اور شہر کے کئی علاقوں کی بجلی بند ہونے سے کاروبار زندگی بری طرح متاثر رہی جبکہ موسم سرما کی بارش کے بعد موسم خوشگوار ہو گیا اور گرمی کے ستائے ہوئے شہریوں نے سکھ کا سانس لیا۔دریں اثنائ۔فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) گزشتہ شب ہونے والی شدید بارش کے دوران گھر کی چھت گرنے سے ملبے تلے
دب کر بہن بھائی جاں بحق’ خاندان کے سات افراد بری طرح زخمی ہو گئے، ریسکیو1122 نے موقع پر پہنچ کر نعشیں ورثاء کے حوالے کر کے زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرتے ہوئے ہسپتال منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ شب شدید بارش کے دوران تاندلیانوالہ کے علاقہ 609 گ ب میں ظہور احمد گھر میں سو رہے تھے کہ اچانک گھر کی خستہ حال چھت زمین بوس ہو گئی۔ چھت گرنے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو1122 کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں، زخمیوں کو ملبے تلے سے نکالا تو 12سالہ راحیلہ دختر ظہور احمد اور 8سالہ ابوذر ولد ظہور احمد ملبے سے دب کر زندگی کی بازی ہار چکے تھے جبکہ 60سالہ غلام فاطمہ بی بی زوجہ محب علی’ 45سالہ سمیرا بی بی زوجہ ظہور’ 60سالہ نوراں بی بی زوجہ منشا’ 8سالہ حسین فاطمہ دختر ظہور احمد’ 4سالہ ابوبکر ولد نور احمد’ 3سالہ دعا فاطمہ دختر ظہور احمد اور 10سالہ آمنہ دختر ظہور احمد بری طرح زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کرتے ہوئے ہسپتال منتقل کر دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں