فیصل آباد میں سانس لینا منع ہے؟

پاکستان کا ‘مانچسٹر’ کہلانے والا شہر، فیصل آباد، آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اسکی صنعتی ترقی اس کے شہریوں کی زندگی نگل رہی ہے۔ ہم نے برسوں خود کو اس دھوکے میں رکھا کہ فضائی آلودگی صرف سردیوں کی ‘اسموگ’کا نام ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ فیصل آباد اب بارہ مہینے ایک خاموش قاتل کی زد میں ہے۔ اگر سردیاں دکھائی دینے والی موت ہیں تو گرمیاں خاموش زہر ہیں۔ سردیو ں میں جب درجہ حرارت گرتا ہے تو تھر مل انورژن (Thermal Inversion)کے باعث آلودگی کی ایک دبیز چادر شہر کو ڈھانپ لیتی ہے ۔ نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ ، سلفر اور pm2.5 (باریک ذرات) کی سطح عالمی ادارہ صحت کی مقررہ حد سے کئی گنا تجاوز کر جاتی ہے۔ ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں سانس کے مریضوں کا رش اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ہماری ہوا اب سانس لینے کے قابل نہیں رہی۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جیسے ہی دھند چھٹتی ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ خطرہ ٹل گیا۔ اورگرمیوں میں جب آسمان نیلا نظر آتا ہے، تب فیصل آباد ایک مختلف قسم کی کیمیائی جنگ کی کیفیت میں ہوتا ہے۔ 1تیز دھوپ اور صنعتی دھو ئیں کے ملاپ سے زمین کے قریب اوزون گیس پیدا ہوتی ہے۔ یہ وہ گیس ہے جو پھیپھڑوں کے ٹشوز کیلئے نقصان دہ ہوتی ہے۔2کنکریٹ کے ڈھانچے اور ہریالی کی کمی کی وجہ سے فیصل آباد کا درجہ حرارت گرد و نواح کے دیہات سے تین چار درجے زیادہ رہتا ہے۔ یہ تپش آلودہ ذرات کو فضا میں معلق رکھتی ہے۔3لوڈ شیڈنگ کے دوران چلنے والے ہزارو ں صنعتی جنریٹر وہ زہریلا دھواں خارج کرتے ہیں جو براہ راست گلی محلوں کی ہوا کو بوجھل کر دیتا ہے۔طبی طور پر یہ ثابت ہو چکا ہے کہ pm 2.5صرف پھیپھڑوں تک محدود نہیں رہتا، بلکہ یہ خون کی گردش میں شامل ہو کر دل کے دورے اور فالج کا سبب بنتا ہے۔ حاملہ خواتین اور بچوں کے لیے یہ ہوا ایک مستقل خطرہ ہے۔ معاشی لحاظ سے دیکھیں تو ایک بیمار افرادی قوت کبھی بھی عالمی مقابلے کی دوڑ میں نہیں جیت سکتی۔ طبی اخراجات میں اضافہ اور مزدوروں کی گرتی ہوئی کارکردگی فیصل آباد کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے وہ “پوشیدہ ٹیکس” ہے جس کا حساب کوئی نہیں لگا رہا۔حکومتی سطح پر زیگ زیگ ٹیکنالوجی اور شجرکاری کے دعوے اپنی جگہ، مگر زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ مانیٹرنگ کا نظام محض کاغذوں تک محدود ہے۔ ہمیں اب روایتی طریقوں سے نکل کر جنگی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہوں گے (ڈیجیٹل مانیٹرنگ ) شہر کے ہر صنعتی زون میں ریئل ٹائم ایئر کوالٹی مانیٹرز لگائے جائیں جن کا ڈیٹا عوام کے لیے لائیو دستیاب ہو۔(گرین ٹرانسپورٹ )فیصل آباد جیسے گنجان شہر کے لیے الیکٹرک بسیں اب لگژری نہیں، ضرورت ہیں۔ (صنعتی اصلاحات ) بوائلرز اور پاور لومز میں مناسب فلٹریشن سسٹم کی تنصیب کو لازمی قرار دیا جائے اور خلاف ورزی پر بھاری جرمانے کے بجا ئے صنعت کی بندش جیسے سخت اقدامات کیے جائیں۔ (اربن فاریسٹ )جاپانی ”میاواکی” تکنیک کے ذریعے شہر کے قلب میں چھوٹے جنگلات اگائے جائیں تا کہ اوزون اور تپش کے اثر کو کم کیا جا سکے۔فیصل آباد پاکستان کا صنعتی مرکز ہے، جہاں فیکٹریوں، ٹریفک، اور ورکشاپوں کی وجہ سے فضائی آلودگی، درجہ حرارت میں اضافہ، اور ہریالی کی کمی ایک واضح مسئلہ بن چکے ہیں۔ روایتی شجرکاری کے باوجود، شہر کے بہت سے حصے آج بھی خشک اور بے ترتیب نظر آتے ہیں۔اسی تناظر میں جاپانی ماہر اکیرا میاواکی کی ایجاد کردہ میاواکی تکنیک ایک جدید اور مثر شجرکاری طریقہ کے طور پر سامنے آتی حضرا ت فیصل آباد کی پہچان اس کی چمنیاں نہیں، اس کے جیتے جاگتے انسان ہونے چاہئیں۔ اگر ہم نے آج صنعتی لالچ اور ماحولیاتی تحفظ کے در میان توازن پیدا نہ کیا، تو وہ دن دور نہیں جب یہ شہر معاشی نقشے پر تو موجود ہوگا، مگر یہاں کی فضا میں صرف قبرستان جیسی خاموشی ملے گی ۔ یہ وقت “اسموگ سیزن” کا انتظار کرنے کا نہیں، بلکہ پورے سال کی “ماحولیاتی جنگ” لڑنے اور اپنے شہر اور ملک پاکستان کو فضائی آلودگی سے پاک ،سر سبز اور صاف ستھرا بنانے کیلئے جدوجہد کرنے کا ہے۔ آئے اپنے آپ سے وعدہ کریں کہ ہم سب اپنے گھر کے تمام افراد کے نام پر ہر سال ایک ایک پودا لگائیں گے اور اسکا خیال بھی رکھیں گے۔ جہاں بھی ممکن ہوا اپنے احباب اور مقتدر قوتوں کو اس امر کی اہمیت پر توجہ دلاتے رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں