فیصل آباد میں ٹریفک کے مسائل گھمبیر ہوچکے ہیں

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) سینئر سیاستدان رانا زاہد توصیف نے کہا ہے کہ لاکھوں کی آبادی والے صنعتی ، تجارتی شہر فیصل آباد میں کوئی نیا پراجیکٹ شروع نہ کرنے، بڑھتے عوامی مسائل ،سڑکوں کی ایک عرصہ سے شکستگی کے باعث فیصل آباد اجڑ کر رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ملک کے تیسرے بڑے شہر کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس ترقیاتی اور تمیراتی سکیموں کے حوالہ سے لاہور کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ڈویلپمنٹ کی رقم صرف لاہور پر ہی خرچ کیوں کی جا رہی ہے۔ یہ فیصل آباد کے لاکھوں عوام کے ساتھ سراسر نا انصافی ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ فیصل آباد کے ہسپتالوں، پارکوں کی حالت زار ناقابل رحم ہے۔ صوبائی وزیر صحت نے انسٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے دورہ کے دوران بنیادی سہولتوں کے فقدان کا از خود نظارہ کر دیکھ لیا ہے۔ خاص طور پر رورل بنیادی مراکز صحت میں ادوایات دستیاب نہیں۔ سرکاری تعلیمی اداروں کا بھی خدا ہی حافظ ہے۔ کئی سکولز سے عمارتوں سے محروم ہیں۔ رانا زاہد توصیف نے کہا ہے کہ بڑھتی آبادی اور بڑھتی گاڑیوں کے پیش نظر ٹریفک کے مسائل بھی گھمبیر ہو چکے ہیں۔ اس تناظر میں نئے انڈریاسز کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے دور میں اربوں روپے کی لاگت سے بہترین سڑکیں تعمیر کروائی تھی مگر اب نوبت یہ ہے کہ شکستہ سڑکوں کے پیج ورک کے لیے رقم نہیں۔شہر سے تجاوزات کے خاتمہ کی مہم اپنی جگہ درست ہے مگر خدارا عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے حکمت عملی طے کی جائے اور صوبائی حکومت سے ترقیاتی اور تعمیراتی سکیموں کے لیے فنڈز کے اجرا کے لیے کاوشیں کی جائیں۔ ملک کے تیسرے بڑے شہر کو یونہی “لاوارث” چھوڑنا کسی طرح کا انصاف نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں