فیصل آباد پارکنگ کمپنی یا پارکنگ مافیا

فیصل آباد، جسے اپنی صنعتی ترقی کی وجہ سے ‘پاکستان کا مانچسٹر’ کہا جاتا ہے، آج ایک انتظامی مخمصے کا شکار ہے۔ شہر کی سڑکوں پر بڑھتا ہوا ٹریفک کا دبا اب محض انتظامی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ‘پارکنگ فیس’ کی وصولی، مالیات کی غیر شفافیت اور قانونی اختیارات کے گرد گھومتا ایک ایسا گورکھ دھندہ بن چکا ہے جس نے عام شہری کو ذہنی اور مالی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ سرکاری آڈٹ رپورٹس اور زمینی حقائق اس ادارے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑے کر رہے ہیں جسے ‘سہولت’ کے نام پر قائم کیا گیا تھا۔
پارکنگ کمپنی کا قیام اور قانونی حیثیت کا سوال
فیصل آباد پارکنگ کمپنی (FPCL) کا قیام 2013-14 میں اس مقصد کے تحت عمل میں لایا گیا تھا کہ شہر میں پارکنگ کے فرسودہ نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔ اسے کمپنیز ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ کیا گیا، لیکن یہاں ایک بڑا قانونی خلا موجود ہے۔ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت عوامی سڑکیں، بازار اور فٹ پاتھ میونسپل کارپوریشن کی ملکیت ہیں۔ قانون کے مطابق، ان مقامات پر پارکنگ فیس وصول کرنا ایک ‘میونسپل چارج’ ہے اور انہی مقامات پر تعمیرات اور منصوبہ جات بھی صرف مقامی حکومت کا اختیار ہے۔ میری رائے کے مطابق قانونی طور پر ، پارکنگ کمپنی کی حیثیت محض ایک ‘ایجنٹ’ کی ہے، مگر عملی طور پر یہ ادارہ اکثر ایک خود مختار اتھارٹی کے طور پر کام کرتا نظر آتا ہے، جو کہ اس کے قانونی مینڈیٹ سے تجاوز کر جاتا ہے۔
کروڑوں روپے کہاں گئے؟
آڈیٹر جنرل آف پاکستان (AGP) کی رپورٹس فیصل آباد پارکنگ کمپنی کے مالیاتی نظم و ضبط کا پول کھولتی ہیں۔ طے شدہ معاہدے کے تحت حاصل ہونے والی آمدن کا 75 فیصد میونسپل کارپوریشن کو اور 25 فیصد کمپنی کو ملنا تھا۔ تاہم، آڈٹ ایئر 2018-19 کی رپورٹ انکشاف کرتی ہے کہ کمپنی نے کروڑوں روپے کی رقم مقامی حکومت کو بروقت منتقل نہیں کی۔ یہ مالی بدانتظامی پنجاب فنانشل رولز کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس کا بوجھ بالآخر شہر کے ترقیاتی کاموں پر پڑتا ہے۔
”بندر بانٹ” کا انکشاف
شاید سب سے افسوسناک پہلو ہسپتالوں کی پارکنگ کا ہے۔ معلومات کے مطابق 2023,24 میں مختلف تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں پارکنگ کے ٹھیکے کسی کھلی نیلامی (Open Auction) کے بغیر ہی دے دیے گئے۔ اس غیر قانونی عمل سے سرکاری خزانے کو تقریبا 27.5 ملین روپے کا نقصان پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ مریضوں اور ان کے لواحقین سے وصول کی جانے والی یہ رقم سہولیات کی بہتری کے بجائے مبینہ طور پر انتظامی نااہلی کی نذر ہو گئی۔۔
قانون کے رکھوالوں کا اپنا قانون؟
ضلعی کچہری اور سیشن عدالتوں کے اطراف پارکنگ کا معاملہ سب سے زیادہ متنازع ہے۔ یہاں ‘پنجاب بار کونسل ایکٹ’ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بار ایسوسی ایشن خود پارکنگ کے ٹھیکے دیتی اور فیس وصول کرتی ہے۔ قانونی طور پر بار کو عوامی سڑکوں پر فیس وصول کرنے کا کوئی اختیار نہیں، مگر انتظامیہ کی خاموشی نے اسے ایک ‘متوازی ریاست’ بنا دیا ہے۔ آڈٹ حکام کے مطابق اس علاقے سے حاصل ہونے والا سالانہ کرڑوں روپیہ سرکاری خزانے کے بجائے نجی جیبوں میں جا رہا ہے، اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔
گھنٹہ گھر؛
یہاں پارکنگ کمپنی کا کنٹرول برائے نام ہے۔ غیر قانونی کارندے پرچیوں کے بغیر وصولی کرتے ہیں اور تجاوزات نے پارکنگ زونز کو ختم کر دیا ہے۔
ڈی گرائونڈ ؛
پلازہ مالکان نے بیسمنٹس کو دکانوں میں بدل دیا ہے، جس کا خمیازہ شہری سڑک پر فیس دے کر بھگتتے ہیں۔
کوہ نور سٹی؛
یہاں نجی ڈویلپرز اور پارکنگ کمپنی کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شہری پستا ہے۔ جڑانوالہ روڈ پر سڑک کے بیچوں بیچ کھڑی گاڑیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ انتظامیہ کا مقصد ٹریفک کی روانی نہیں بلکہ صرف فیس وصولی ہے۔
شہریوں پر اثرات اور آئینی حقوق
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 9 ہر شہری کو زندگی کی بنیادی سہولیات کا حق دیتا ہے۔ لیکن فیصل آباد میں پارکنگ فیس اب ایک ‘غیر شفاف ٹیکس’ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نہ کوئی ریٹ لسٹ آویزاں ہے، نہ شکایت کا مثر نظام، اور نہ ہی گاڑیوں کی حفاظت کی کوئی ضمانت۔ شہریوں کا سوال ہے کہ اگر فیس دینے کے باوجود سڑک پر گاڑی کھڑی کرنی ہے اور ٹریفک جام میں پھنسنا ہے، تو اس کمپنی کا فائدہ کیا؟
فیصل آباد میں پارکنگ کا بحران صرف اسی صورت حل ہو سکتا ہے جب
1۔ تمام پارکنگ سائٹس کی اوپن آکشن کے ذریعے شفاف نیلامی کی جائے۔
2۔کچہری اور ہسپتالوں کی پارکنگ کو بار یا دیگر گروہوں کے بجائے مکمل طور پر سرکاری دھارے میں لایا جائے۔
3۔جدید ٹیکنالوجی اور ای-ٹکٹنگ کا 100 فیصد نفاذ کیا جائے تاکہ ریونیو کی ‘لیکج’ بند ہو۔
4۔آڈٹ اعتراضات میں ملوث افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
وقت آ گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور حکومت پنجاب اس ”منظم لوٹ مار” کا نوٹس لیں اور فیصل آباد کے شہریوں کو ان کے قانونی اور آئینی حقوق فراہم کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں