62

قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے ایڈوانس وارننگ سسٹم ناگزیر (اداریہ)

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے ایڈوانس وارننگ سسٹم وقت کی ضرورت ہے پاکستانی ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثر 10ممالک میں شامل’ قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے وفاق اور صوبائی حکومتیں ذمہ داری کا احساس کریں گلگت بلتستان میں بارشوں اور سیلاب متاثرین میں امدادی چیکس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب۔ وزیراعظم نے کہا وفاقی ادارے گلگت بلتستان کی حکومت کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں متاثرہ عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے آیا ہوں دوبارہ آباد کاری تک دورے کرتا رہوں گا جاں بحق افراد کے لواحقین کو 10لاکھ روپے فی کس امداد جبکہ زخمیوں کو فی کس 5لاکھ کے چیکس دیئے گئے وزیراعظم نے کہا سات سال سے وارننگ سسٹم کاغذوں میں چل رہا ہے انہوں نے کہا سڑکوں کی بحالی اور تعمیرنو کیلئے وزارت مواصلات کام کر رہی ہے گھروں کی بحالی کیلئے 5لاکھ روپے فی کس امداد دی جا رہی ہے وزیراعظم نے گلگت بلتستان کے سیلاب متاثرہ علاقوں کیلئے 4ارب روپے امداد کا اعلان کیا وزیراعظم نے گلگت بلتستان میں سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ آبادیوں کی بحالی کیلئے اقدامات تیز کرنے’ مواصلات’ روابط ترجیحی بنیادوں پر بحال اور این ڈی ایم اے کو صوبائی حکومت کی ہر قسم کی معاونت کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مقامی آبادیوں کو پانی کی قدرتی گزرگاہوں سے دور آباد کیا جائے اور ہنگامی صورتحال میں فوری ریسکیو ومدد کیلئے جامع نظام تشکیل دیا جائے، وزیراعظم آفس میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف کی زیرصدارت گلگت بلتستان میں حالیہ مون سون وسیلابی صورتحال کے نتیجے میں نقصانات اور امدادی کارروائیوں وبحالی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا انہوں نے کہا کہ ان حادثات پر مجھ سمیت پوری قوم افسردہ ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موسمیاتی تبدیلی میں حصہ نہ ہونے کے برابر جبکہ اس کے مضراثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان شامل ہے وزیراعظم نے ہدایت کی کہ موسمیاتی تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے بروقت پیش گوئی’ امدادی کارروائیوں کیلئے تیاری اور خطرے سے دوچار علاقوں میں کلائیمیٹ ریزیلیٹ انفراسٹرکچر بنایا جائے سیاحتی مقامات کیلئے موسم کے اعتبار سے پیشگی آگاہی کا نظام تشکیل دیا جائے وزیراعظم نے این ڈی ایم اے اور وزارت موسمیاتی تبدیلی کو مل کر گلگت بلتستان میں آئندہ چند ماہ میں پیشگی اطلاعات ومانیٹرنگ کیلئے سینٹر بنانے کی بھی ہدایت کی،، گلگت بلتستان مین سیلاب کی تباہ کاریاں انسانی جانوں کا ضیاع افسوسناک ہے اس حوالے سے ریسکیو اور امدادی اداروں کی کوتاہی قابل معافی نہیں وزیراعظم کی جانب سے متاثرین کیلئے امدادی چیکس گھروں کی تعمیر اور علاقہ کی سڑکوں اور دیگر ترقیاتی کاموں کی بحالی کیلئے خطیر رقم کا اعلان خوش آئند ہے بلاشبہ سیلاب میں بہہ جانے والی قیمتی انسانوں جانوں کا صدمہ برداشت کرنا انتہائی مشکل ہے مگر قدرتی آفات سے مقابلہ کرنا بھی آسان نہیں وزیراعظم کی جانب سے جاں بحق ہونے والے افراد کے لیے 10لاکھ روپے فی کس مالی امداد زخمیوں کے 5لاکھ روپے فی کس امداد کی فراہمی ماثرین کے دکھوں کا کسی حد تک مداوا ہے مگر متبادل نہیں وزیراعظم نے گلگت بلتستان کے علاقوں میں سیلاب کی قدرتی گزر گاہوں سے دور آبادیاں قائم کرنے اور حکومتی سطح پر سیلاب کی پیشگی اطلاع کا جدید نظام قائم کرنیکا فیصلہ وقت کا تقاضا ہے اس حوالے سے گلگت بلتستان انتظامیہ کو بھی موسمی تبدیلی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے ہمہ وقت چوکس رہنا چاہیے جبکہ سیاحتی مقامات کے حوالے سے انتظامیہ کو ہوٹل ریسٹورنٹ مالکان کو بھی اس حفاظتی اقدامات اور سیاحوں کی جان ومال کے تحفظ کیلئے مؤثر اقدامات کرنیکی ہدایت دینی چاہیے تاکہ اس علاقہ میں آنیوالے سیاحوں کو کسی قسم کی پریشانی سے محفوظ رکھا جا سکے ضرورت اس امر کی ہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے ایڈوانس وارننگ سسٹم کے ساتھ ساتھ دیگر انتظامات پر بھی گہری نظر رکھی جائے تاکہ تفریحی علاقوں میں آنیوالے سیاحوں کو جانی ومالی نقصان سے محفوظ رکھنے میں مدد مل سکے۔ سیلاب کے دوران سیاحوں کو بھی دریائوں اور قدرتی آفت کے موقع پر آنیوالے پانی کی گزرگاہوں کے قریب سے جانا چاہیے تاکہ ان کی جانیں اور قیمتی گاڑیاں محفوظ رہ سکیں اور وہ خیروعافیت سے اپنے اپنے علاقوں میں جا سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں