قومی مالیاتی معاہدہ کیلئے صوبائی اسمبلیوں کی منظوری لازمی قرار

اسلام آباد (بیوروچیف) آئی ایم ایف پروگرام کے تحت نافذ کیے جانے والے نیشنل فسکل پیکٹ (NFP)پر عملدرآمد کے لیے چاروں صوبوں کو اپنی کابینہ اور صوبائی اسمبلیوں سے منظوری لینا لازمی قرار دے دیا گیا ہے تاکہ وہ یکم جولائی 2025سے تمام اقسام کی سروسز پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) وصول کر سکیں اور منفی فہرست (Negative List) نوٹیفائی کر سکیں۔اس وقت سروسز پر جی ایس ٹی ایک مثبت فہرست (Positive List) کی بنیاد پر وصول کیا جا رہا ہے، مگر آئندہ مالی سال کے بجٹ سے اس نظام کو تبدیل کرتے ہوئے مثبت فہرست کی جگہ منفی فہرست کا نظام نافذ کیا جائے گا۔اسلام آباد کی حدود (ICT)میں جی ایس ٹی برائے سروسز کا نفاذ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے دائرہ اختیار میں ہو گا۔ آئین پاکستان 1973کے تحت، اشیا پر جی ایس ٹی وفاقی حکومت کا اختیار ہے جبکہ سروسز پر جی ایس ٹی صوبائی حکومتوں کا دائرہ اختیار ہے۔آئندہ بجٹ 2025-26سے صرف وہی سروسز جی ایس ٹی کے دائرے سے باہر ہوں گی جنہیں منفی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں