لمحوں کی خطاصدیوں کی سزا،کال سنٹر فراڈ کیس نے تحسین اعوان کی ”بگ”پر دھبہ لگا دیا

فیصل آباد (وقائع نگار خصوصی) لمحوں کی خطائ… صدیوں کی سزا۔ بعض اوقات انسان جانے یا انجانے میں یا پھر کسی بہت بڑے لالچ کے چکر میں ایسا کام کر بیٹھتا ہے جو اس کی زندگی بھر کی جمع پونجی کیساتھ ساتھ اس کی عزت’ وقار’ احترام’ اکرام کو بھی صفحہ ہستی سے مٹا دیتا ہے، ملک تحسین اعوان کو بھی اس قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، موصوف نے بطور چیئرمین فیسکو جتنی عزت اور نام کمایا وہ سارے کا سارا کال سنٹر فراڈ کیس کی نذر ہو گیا۔ اس طرح موصوف کی عزت مٹی میں مل گئی، کچھ عرصہ پہلے تک شہرت کی بلندیوں کو چھونے والا انسان اب زمین پر خاک چھان رہا ہے، کال سنٹر فراڈ کیس میں ملک تحسین اعوان کا کس حد تک ہاتھ ہے، اس کا فیصلہ تو NCCIA کا ادارہ اپنی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد منظرعام پر لائے گا۔ فی الحال موصوف کال سنٹر فراڈ کیس کے حوالے سے درج ہونیوالے 7مقدمات کا ملزم ہے، جس میں اس نے 19جولائی تک عدالت سے عبوری ضمانت کروا رکھی ہے، اس حوالے سے موصوف نے ایک ویڈیو پیغام بھی جاری کیا ہے اور اپنے اوپر لگنے والے الزامات کی تردید کی ہے۔ ملک تحسین اعوان پر الزامات کسی پرائیویٹ شخص نے نہیں لگائے بلکہ ایف آئی اے کے ذیلی ادارے NCCIA نے ایک حساس ادارے کی معاونت سے اس کے ڈیرہ پر کامیاب ترین ریڈ کر کے وہاں سے 149 کے لگ بھگ ملکی وغیر ملکی ملزمان اور بھاری تعداد میں لیپ ٹاپس وغیرہ برآمد کر کے عائد کیا ہے۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا قول ہے کہ دولت، طاقت، اختیار انسان کو بدلتا نہیں بلکہ بے نقاب کرتا ہے۔ بعض لوگ دولت، طاقت اور اختیار کے نشہ میں بدمست ہو جاتے ہیں کہ ان کی ساری کی ساری اصلیت سامنے آ جاتی ہے۔ بلاشبہ! ملک تحسین اعوان نے بطور چیئرمین فیسکو عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور بہت سارے تاریخ ساز اقدامات کر کے فیسکو کی نیک نامی میں اضافہ کیا، اس بابت ”ڈیلی بزنس رپورٹ” میں شائع ہونے والی خبریں اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اس کے بعد ملک تحسین اعوان کے ذہن میں کیا بات آئی اور وہ کس طرح اس نیٹ ورک کا حصہ بنے اور اپنی ذاتی جگہ پر اس قسم کا گھنائونا کاروبار کیوں ہونے دیا، اس بات کا جواب تو ملک تحسین اعوان ہی دے سکتے ہیں۔ اگر ان مقدمات کی تفتیش کے نتیجے میں ملک تحسین اعوان کا نام ان مقدمات سے خارج ہو بھی جاتا ہے پھر بھی اس کیس میں جس طرح ان کا دامن چاک ہوا اور کردار داغدار ہوا اس کی بحالی شائد ممکن نہ ہو سکے۔ اس کیس نے ملک تحسین اعوان کے ساتھ ساتھ ان کی فیملی خاص طور پر ان کے بچوں کیلئے بہت ساری مشکلات پیدا کر دی ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سنگین سے سنگین تر ہوتی جائیں گی۔ ملک تحسین اعوان نے اپنے طور پر چک جھمرہ کے حلقہ این اے95 سے ایم این اے کا الیکشن لڑنے کا خواب جو دیکھا تھا وہ محض خواب ہی ثابت ہوا اور اب ان کے لیے سیاسی میدان میں خود کو زندہ رکھنا مشکل بلکہ ناممکن نظر آ رہا ہے، ملک تحسین اعوان کے ڈیرے سے پکڑے جانیوالے آن لائن فراڈ کے عالمی نیٹ ورک کی بازگشت دُنیا بھر میں سنائی دی جا رہی ہے۔ اس وجہ سے پاکستان اور پاکستانیوں کے کردار پر بھی انگلیاں اٹھ رہی ہیں یہی وجہ ہے کہ حکومت نے متعلقہ اداروں کو اس کیس کی 100 فیصد میرٹ پر تحقیقات کرنے اور اس میں ملوث کرداروں کو کیفرکردار تک پہنچانے کا حکم دے دیا ہے۔ ملک تحسین اعوان خود کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کا رہنما کہتے ہیں مگر مسلم لیگ (ن) فیصل آباد کے ضلعی جنرل سیکرٹری آزاد علی تبسم نے اپنی پریس سٹیٹمنٹ میں ان کے اس دعوے کی مکمل طور پر تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ملک تحسین اعوان کا پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے، بطور جماعت مسلم لیگ (ن) اس فراڈ کیس کی مذمت کرتی ہے اور اس میں ملوث تمام کرداروں کو سخت ترین سزا دینے کا مطالبہ کرتی ہے۔ تاحال ملک تحسین اعوان کے دفاع میں کسی قسم کی سیاسی’ حکومتی شخصیت نے کوئی بات نہیں کی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائدین اور کارکنان بھی خاموش ہیں بلکہ اکثروبیشتر تو سوشل میڈیا پر ملک تحسین اعوان پر کڑی تنقید کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں