لوگ طلاق کیلئے اے آئی سے مشورہ لینے لگے

نیوجرسی (مانیٹرنگ ڈیسک) پہلے زندگی کے اہم فیصلے ماں باپ، دوست یا ماہر نفسیات کے مشورے کے تحت کیے جاتے تھے لیکن آج بدلتی دنیا میں ہر فیصلہ ایک کلک دور ہوتا ہے، مصنوعی ذہانت یا چیٹ بوٹس، جو نہ تھکتے ہیں، نہ جھنجھلاتے اور نہ فیصلوں پر سوال اٹھاتے ہیں، بریک اپ یا طلاق ،نوکری چھوڑنے یا ملک بدلنے جیسے بڑے فیصلوں میں لوگ چیٹ جی پی ٹی جیسے چیٹ بوٹس کو اپنا غیرجانبدارمشیر بنا رہے ہیں۔ یہ رجحان خاص طور پر نوجوانوں میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں اے آئی نہ صرف فوری رائے دیتا ہے بلکہ صارف کی گفتگو کی پوری تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے ذاتی نوعیت کی ہدایت بھی فراہم کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں لوگ اب اپنے ذاتی، جذباتی اور فیصلہ کن معاملات میں اے آئی کو بطور مشیر استعمال کرنے لگے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ کی ریاست نیو جرسی میں رہنے والی ایک خاتون نے چند ماہ کے تعلق کو ختم کرنے سے پہلے ہفتوں تک چیٹ بوٹ سے گفتگو کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں