4

لچکدار فصلیں،موسمیاتی لحاظ سے موافق زراعت خوراک صحت اور معاشروں کا تحفظ کیسے کرتی ہے

موسمیاتی تبدیلی اب کوئی دور کا خطرہ نہیں رہی بلکہ یہ اس انداز کو بدل رہی ہے جس طرح ہم خوراک اگاتے ہیں، اس کی غذائیت کو برقرار رکھتے ہیں اور اپنی کمیونٹیز کی صحت کو محفوظ بناتے ہیں۔ موسمیاتی لحاظ سے موافق زراعت (Climate-Smart Agriculture)ایک عملی اور سائنسی بنیادوں پر مبنی طریقہ ہے جو زرعی پیداوار میں اضافہ کرتا ہے، شدید موسمی حالات کے مقابلے میں لچک پیدا کرتا ہے اور گرین ہاس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ خوراکی تحفظ کو عوامی صحت سے جوڑ کر، یہ طریقہ صحت مند اور پائیدار معاشروں کی طرف ایک مثر راستہ فراہم کرتا ہے۔
اپنی بنیاد میں، موسمیاتی لحاظ سے موافق زراعت تین اہم اہداف پر مشتمل ہے: زرعی پیداوار میں پائیدار اضافہ، موسمیاتی اثرات کے مطابق خود کو ڈھالنا اور لچک پیدا کرنا، اور جہاں ممکن ہو گرین ہاس گیسوں کے اخراج میں کمی یا خاتمہ۔ صورتحال نہایت تشویشناک ہے کیونکہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، بے ترتیب بارشیں، مٹی کی زرخیزی میں کمی، اور کیڑوں و بیماریوں کے نئے انداز پہلے ہی فصلوں کی پیداوار کو متاثر کر رہے ہیں۔ یہ عوامل براہِ راست غذائی قلت اور خوراکی عدم تحفظ کا سبب بنتے ہیں، جبکہ عوامی صحت کے خطرات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔
موسمیاتی لحاظ سے موافق زراعت میں شامل عملی حکمتِ عملیاں کسانوں اور کمیونٹیز کے لیے قابلِ عمل حل فراہم کرتی ہیں۔ اخراج میں کمی کے لیے کھاد کے محتاط استعمال جیسے اقدامات شامل ہیں، جبکہ موافقت کے لیے ایسی تکنیکیں اپنائی جاتی ہیں جو مشکل حالات میں بھی فصلوں کو محفوظ رکھیں۔ ان میں خشک سالی برداشت کرنے والی فصلیں، مخلوط کاشت ، بارش کے پانی کا ذخیرہ، مٹی کا بہتر انتظام، اور ڈرِپ آبپاشی جیسے جدید نظام شامل ہیں۔ یہ تمام طریقے خوراک کی دستیابی، غذائیت اور زرعی آمدن کو مستحکم رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
حقیقی مثالیں اس طریقہ کار کی کامیابی کو واضح کرتی ہیں۔ پاکستان میں (2023) موسمیاتی لحاظ سے موافق دیہات میں شمسی توانائی سے چلنے والی آبپاشی اور نامیاتی کاشتکاری متعارف کرائی گئی، جس سے فصلوں کی پیداوار میں تقریبا 25 فیصد اضافہ ہوا اور کھاد کے استعمال میں تقریبا 40فیصد کمی آئی ۔ بھارت میں (2024)مہاراشٹر کے کسانوں نے بارش کے پانی کے ذخیرے اور مخلوط کاشت کے ذریعے خشک سالی کے دوران مٹی کی زرخیزی اور خوراکی تحفظ برقرار رکھا۔ کینیا میں (2024) نیم خشک علاقوں میں ایگرو فاریسٹری اور ڈرِپ آبپاشی کے امتزاج سے خوراک میں تنوع آیا اور غذائی قلت میں تقریبا 15 فیصد کمی دیکھی گئی۔
زرعی تکنیکوں کے ساتھ ساتھ مثر تعاون بھی کامیابی کیلئے ضروری ہے۔ حکومتوں، زرعی توسیعی اداروں، مقامی کمیونٹیز، محققین اور نجی شعبے کو سرمایہ کاری، علم کی منتقلی اور معاون پالیسیوں کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ نگرانی کے نظام بھی اہم ہیں تاکہ خوراکی تحفظ، غذائی نتائج اور ماحولیاتی اثرات کا مسلسل جائزہ لیا جا سکے۔
آخر میں موسمیاتی لحاظ سے موافق زراعت کوئی ایک جادوئی حل نہیں بلکہ مختلف عملی طریقوں کا ایک لچکدار مجموعہ ہے۔ جب اسے مقامی ضروریات کے مطابق اپنایا جائے تو یہ فصلوں کا تحفظ کرتی ہے، غذائیت کو بہتر بناتی ہے اور عوامی صحت کو محفوظ رکھتی ہے۔ بڑھتے ہوئے موسمی دبا کے اس دور میں، اس طرزِ زراعت کو اپنانا ایک مضبوط اور صحت مند مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں