86

لیگی کارکن میاں محمد نواز شریف کی توجہ کے منتظر……

میاں محمد نواز شریف نے مسلم لیگ (ن) کی صدارت کا منصب دوبارہ سنبھالنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کے اس فیصلہ نے پارٹی کارکنوں میں نئی روح پھونک دی ہے، بلاشبہ! میاں محمد نواز شریف نے ہمیشہ کارکنوں کو عزت بخشی ہے اسی لئے کارکن پرامید ہیں کہ انہیں اب ان کا جائز مقام ملے گا، وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کی صدارت سے استعفیٰ دیدیا ہے’ انہوں نے پارٹی کے سیکرٹری جنرل کو اپنے فیصلے سے تحریری آگاہ کر دیا، شہباز شریف نے اپنے استعفیٰ میں لکھا ہے کہ پارٹی اصولوں اور اقدار کے ساتھ پختہ وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے جماعت کی تاریخ کے اہم موڑ پر یہ تحریر لکھ رہا ہوں، 2017ء میں قائد محمد نواز شریف سے ناحق وزارت عظمیٰ اور جماعت کی صدارت چھین لی گئی، ہماری جماعت اور قیادت نے تمام مشکلات کا جرأت اور ثابت قدمی سے مقابلہ کیا، دور ابتلا وآزمائش میں میاں محمد نواز شریف نے جماعت کی صدارت کی امانت مجھے سونپی تھی، پوری دیانتداری اور جذبے سے یہ فرض ادا کرنے کی کوشش کی، میرے محبوب قائد کی بریت ان کے باوقار کردار اور قوم کی خدمت کے بے داغ ماضی کی گواہی ہے، اس عہدے کو ایک امانت سمجھا ہے، جسے اپنے قائد کو واپس لوٹا رہا ہوں کہ وہ ملک اور جماعت کی رہنمائی فرمائیں، 2024ء کے عام انتخابات کے بعد جماعت نے مجھے وزیراعظم بنایا، اپنے محبوب قائد میاں محمد نواز شریف سے غیر متزلزل وفاداری کا حلف دہراتا ہوں، احساس ذمہ داری اور جماعت کے اصولوں کے مطابق عہدے سے استعفیٰ پیش کرتا ہوں، وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے (ن) لیگ کی صدارت سے استعفیٰ کے مندرجات اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ پارٹی کے تمام لیڈر اور کارکنان کو میاں محمد نواز شریف کی قیادت پر مکمل اعتماد ہے اور ان کا پارٹی صدر بننا لیگی کارکنوں کے دل کی آواز ہے، یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ سیاسی کارکنان سیاسی جماعتوں کی جان ہوتے ہیں، انہی کارکنوں کی وجہ سے جماعتوں کا وجود قائم رہتا ہے اور یہ عوام میں زندہ رہتی ہیں جن سیاسی جماعتوں کے قائدین اپنے کارکنوں کو ان کا جائز مقام دیں اور انہیں عزت بخشیں وہ سیاسی جماعتیں عوام میں مقبولیت حاصل کرتی ہیں، سیاسی کارکن جماعت کے نظریے اور منشور کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور اپنے قائدین کا بیانیہ جس جوش وجذبہ سے بیان کرتے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہے، ہماری سیاسی تاریخ میں کئی ایک ایسے سیاسی کارکنان گزرے ہیں، جنہوں
نے انتھک محنت کی بدولت ایک بلند سیاسی مقام حاصل کیا، مخلص سیاسی کارکن اپنے لیڈروں کے شانہ بشانہ بے لوث اور کسی طمع ولالچ کے بغیر نظریے کی آبیاری کیلئے کام کرتے ہیں، عوام کی نبض پر ان کا ہاتھ ہوتا ہے اور یہ اپنی جماعت کی رہنمائی بھی کرتے ہیں، سیاسی قائدین کو انہی کارکنوں کی بدولت عوام کے موڈ سے بھی آگاہی ہوتی ہے کہ ایک عام آدمی کیا سوچ رہا ہے، سیاسی کارکنوں کی حقیقت حال سے آگاہی کا سبب یہ ہے کہ ان کے ڈور ٹوڈور رابطے ہوتے ہیں اور ان کی بھرپور محنت اور جدوجہد کے باعث ہی عوام ان کے قائدین کا دم بھرتے ہیں، مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے لیے یہ بات نوید مسرت ہے کہ اب میاں محمد نواز شریف پارٹی صدارت کا منصب سنبھالنے والے ہیں۔ ان کے وزارت عظمیٰ اور لیگی صدارت سے علیحدگی کے بعد ملکی سیاست نے کئی کروٹیں بدلی ہیں، موجودہ حالات میں کئی لیگی کارکنان پارٹی قیادت سے نالاں ہیں اور فیصل آباد میں بھی لیگی کارکنوں کو گلے شکوے کرتے دیکھا جا رہا ہے’ مانچسٹر آف پاکستان کے سرگرم لیگی کارکنوں نے سابق وزیرمملکت پانی وبجلی چوہدری عابد شیر علی سے ملاقات کر کے انہیں تحفظات سے آگاہ کیا، لیگی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ہم نے ہمیشہ قائدین کی ہر کال پر لبیک کہا ہے، دور آمریت میں کسی بھی ظلم وجبر کے سامنے ہمارے قدم نہیں ڈگمگائے، ملک میں جمہوری اقدار کے فروغ اور پارٹی کی عوامی مقبولیت کیلئے ہم شب وروزکوشاں رہے مگرہمیں نظراندازکیاجارہا ہے،پارٹی قائدین ورکروں کوان کاجائز مقام دیں،ہم اپنے قائد میاں محمد نوازشریف کے بیانیے کیساتھ کھڑے ہیں،اس حقیقت سے ہرخاص وعام آگاہ ہے کہ فیصل آباد کو مسلم لیگ(ن)کا مضبوط ترین قلعہ بنانا کارکنوں کی قربانیوں کا ثمر ہے مگرجب کارکنوں کوہی نظراندازکرنا شروع کردیا جائے تومخالف سیاسی قوتوں کواس سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل جاتا ہے، سابق وزیرمملکت چوہدری عابد شیرعلی نے تمام ترتحفظات سننے کے بعد لیگی ورکروں کویقین دلایا کہ وہ قائد میاں محمد نوازشریف تک ورکروں کی آواز پہنچائیں گے، میاں محمد نوازشریف کا مسلم لیگ( ن) کی صدارت کا منصب سنبھالنا لیگی کارکنوں کے دلوں کی آواز ہے اورامید ہے کہ ان کا قائدانہ کردار لیگی کارکنوں میں بھرپورجوش وجذبہ پیدا کریگا اورپارٹی ایک بارپھرعوامی مقبولیت کی نئی بلندیوں پرپہنچ جائیگی،اس وقت لیگی کارکنان کا کوئی پرسان حال نہیں اوران کے قائدین سے گلے شکوے حقائق پرمبنی ہیں،وفاق اورصوبہ پنجاب میں حکومتیں ہونے کے باوجود لیگی کارکنوں کی اداروں میں کوئی شنوائی نہیں ہورہی ہے،میاں محمد نوازشریف کوچاہیے کہ وہ پارٹی صدربنتے ہی کارکنوں کی امنگوں کے عین مطابق فیصلے کریں،انہیں حکومتی خول سے نکل کر اپنے بھائی وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف اوراپنی بیٹی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے علاوہ پارٹی کارکنوں سے ملنا چاہیے،ملک بھر میں تحصیل،ضلعی اورڈویژنل سطح پر ورکرزکنونشنز کروانے چاہیے جس کے دوران وہ بیوروکریسی کونہ آنے دیں بلکہ لیگی کارکنوں کوبلائیں اور ان کی باتیں اوران کے تحفظات سنیں،سابق وزیرمملکت پانی وبجلی چوہدری عابد شیرعلی سے ملاقات کے دوران فیصل آباد کے لیگی کارکنوں نے جوگلے شکوے کئے ان پر ہمدردانہ غور کرنا ضروری ہے،میاں محمد نوازشریف کوچاہیے کہ وہ لیگی کارکنوں کودرپیش مسائل کے حل اوران کی تجاویز پرغور کیلئے کمیٹیاں بنائیں،فیصل آباد کے لیگی کارکنوں کوفیصل آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی ، واسا،پی ایچ اے اوردیگراداروں میں بھی نمائندگی دی جائے،اسی طرح دیگرشہروں میں لیگی کارکنوں کومناسب جگہوں پرایڈجسٹ کیا جائے،یقینی طور پر اس سے عوامی مسائل حل ہونگے اورمسلم لیگ( ن) کی عوامی قوت بڑھے گی اوراگرایسا نہ کیاگیا تو2029ء کے الیکشن کے نتائج حالیہ الیکشن نتائج سے بھی زیادہ بھیانک ہونگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں