مادر ملت کی57ویں برسی آج

کراچی (بیوروچیف) بانی پاکستان قائد اعظم کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کو ہم سے بچھڑے 57 برس بیت گئے۔۔مادر ملت تحریک پاکستان اور اس کے بعد بھی اپنے بھائی کے شانہ بشانہ رہیں۔۔گھر سے لیکر میدان سیاست تک قریبی ساتھی اور مشیر کا کردار بخوبی نبھایا۔بانی پاکستان کی دست راست، قائد اعظم کی سب سے قابل اعتماد ساتھی، مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کا یوم وفات، 31جولائی 1893کو کاٹھیاواڑ میں پیدا ہونے والی فاطمہ جناح، نہ صرف بانی پاکستان محمد علی جناح کی بہن تھیں بلکہ وہ خود بھی ایک بیدار ، تعلیم یافتہ، اور بے باک سیاسی شخصیت تھیں۔ قوم نے انہیں ”مادرِ ملت” کے باوقار لقب سے نوازا، ۔1923میں کلکتہ یونیورسٹی سے ڈینٹسٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد وہ برصغیر کی پہلی خاتون دندان ساز بنیں، ممبئی میں دانتوں کا کلینک کھول لیا۔قائد اعظم کی اہلیہ رتن بائی کی 1929میں موت کے بعد فاطمہ جناح نے اپنا کلینک بند کردیا، انہوں نے اپنے بھائی کی ذمے داریاں سنبھال لیں۔محترمہ فاطمہ جناح اپنے بھائی محمد علی جناح کی قریبی ساتھی اور مشیر تھیں، قائداعظم کے ہر قدم کے ساتھ، ہر بیان، ہر مسودے میں ان کی مشاورت شامل ہوتی۔انہوں نے قیام پاکستان کے بعد بھی سیاسی خدمات جاری رکھیں، وہ قائد حزب اختلاف اور صدارتی انتخاب میں امیدوار بھی رہیں، قدرتی آفات کے مواقع پر بھی ملک بھر کے دورے کیے اور عوام کی دلجوئی کی۔فاطمہ جناح نے خواتین کے لیے تعلیم نسواں اور تعلیم بالغاں کے مراکز بھی قائم کیے، نونہالوں پر توجہ دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی اپیل پر نیشنل کمیٹی کی صدر بنیں۔ تقسیمِ ہند اور اقتدار کی منتقلی کے دوران فاطمہ جناح نے خواتین کی امدادی کمیٹی بنائی، بعد میں آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن (اپوا) کی شکل اختیار کرلی۔اتحاد کی علامت محترمہ فاطمہ جناح 9جولائی 1967کو کراچی میں اپنے ذاتی گھر موہٹہ پیلس میں انتقال کر گئیں، انہیں مزار قائد کے احاطے میں سپرد خاک کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں