مارچ کا مہینہ اور بچوں کا یوم حشر

مارچ کا مہینہ اور بچوں کا یوم حشر۔ اپنی نوعیت کا زبردست احتسابی نظام۔ پورے سال کا بیجا ہوا سامنے آئے گا۔ پاس فیل۔ اول الذکر کی صورت میں شادیانے، مبارک بادیں، داد وتحسین، مٹھائیاں شٹھائیاں بلکہ شہنائیاں اور بعض اوقات تو کھتائیوں سے منہ میٹھا، گفٹ شفٹ اور شریکے کی منجیاں مودھیاں جبکہ موخرالذکر میں تو رونا دھونا، آہ وبقا، لعن طعن، جگ ہنسائی، دشمنوں کے دل کی ٹھنڈک اور استثنائی صورت حال میں کچھ بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ بے چینی، ذہنی دبا اور اللہ معاف کرے خودسوزی وخودکشی۔ چیزوں کو ایزی لینے کا یقیننا یہی انجام ہوتا ہے۔ یہ بھی تو ایک منی قیامت کا سا سماں ہے۔ آج کی تیاری کل کی رسوائی سے محفوظ رکھتی ہے۔ اس حقیقت سے باخبر لوگ ہوشیار باش کی پالیسی پر گامزن رہتے تھے بلکہ رہتے ہیں۔ استاد تو استاد ہوتا ہے۔ نہ صرف راستہ دکھاتا ہے بلکہ ساتھ ساتھ چلتا ہے اور منزل پر پہنچا کر اپنا فرض پورا کر کے سرخرو ہو جاتا ہے۔ ایک وقت تھا جب بچوں کی دنیا میں بھی ایک مربوط جزا سزا کا نظام تھا۔ جھاڑ جھپاڑ، ڈنڈا سوٹا، ہورے مکے، چنڈاں شنڈاں، چھتر پولا اور بسا اوقات تشدد اس نظام کے اجزائے ترکیبی تھے۔ تاہم یہ سارا کچھ ترتیب سے ہی کیا جاتا تھا اور اس ترتیب وتدوین میں امیر غریب برابر ہوتے تھے۔ مرغا بنانا بھی اپنی نوعیت کی منفرد سزا تھی اور اس صف میں بھی محمود وایاز اکٹھے ہوتے تھے۔ اس سارے جامع پروگرام کو مارچ کے شروع ہونے سے پہلے ہی نافذ کردیا جاتا تھا۔ اور مارچ میں تو امتحان اور وہ بھی کڑا۔ کچھ سیانے والدین اپنے بچوں کے تابناک مستقبل کے لئے اساتذہ کی مٹھی بھی گرم کردیتے تھے۔ دیسی گھی کے ٹینوں کا ایک دور تھا اور پھر مڈیاکر طالب علموں کا نتیجہ قابل غور تھا۔ واہ مارچ تیرے آنے سے کتنی بڑی ہل چل شروع ہوجاتی ہے۔ ویسے بھی مارچ کرنے سے پہلے ہلچل کا ہونا فطری تقاضا ہے۔ مارچ، بچوں کا احتسابی نظام اور اس کے نتیجے میں جزا سزا کے ثمرات و نقصانات۔ ان ساری باتوں کے بارے میں حضرت انسان کو اگر شعوری طور پر بیدار کردیا جائے تو آج کا کام کل پر کبھی نہیں ٹالا جائیگا۔ روز محشر تو خیر ابھی تھوڑا آرہا ہے اور پھر بچے بچے ہوتے ہیں اور بزرگ بزرگ۔ ہم بچوں پر ہی توجہ دے دیں تو یہی بچے ایک نظام کے تابع اپنی زیست کے سفر میں چلتے چلتے بزرگ بن جائینگے اور شرف بزرگی کی بدولت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کامیاب ہو جائینگے افراط وتفریط نے ایک تو ہماری مت ماردی ہے۔ ہمارے ہاں جذباتیت کا مجموعی طور پر عنصر پایا جاتا ہے۔ ایک وقت تھا ہم بچوں کو مکمل طور پر اساتذہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے تھے۔ جٹ جانیں وجو جانیں۔ گوشت تہاڈا ہڈیاں ساڈیاں اور پھر آیا جمہور کا زمانہ۔ مار نہیں پیار۔ استاد کے ہاتھ سے ڈنڈا غائب اور زبان سے سارا کچھ کرنا ہے اور اگر کوئی جنونی استاد بصورت دیگر لائحہ عمل ترتیب دیتا ہے تو پھر قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آجائینگے۔ انکوائری، پرچہ اور وہ بھی ناقابل ضمانت، گرفتاری اور اس میں بھی ہتھکڑیاں۔ واہ رے کیا کمال کا متبادل نظام۔ استاد بھی تو بھگتے۔ بنام وغیرہ میں کھڑا ہو اور اس جرم ضعیفی پر معافی مانگے۔ پنجاب کا ایک اپنا کلچر ہے یہاں تو معافی مانگنے پر قتل معاف کردیئے جاتے ہیں۔ استاد کی سزا تو پھر استاد کی سزا ہے۔ مار ویسے تو سوار ہوتی ہے۔ اب ہم ویسے بھی انا کے گھوڑے پر پوری طرح سوار ہوچکے ہیں اور ہمارا گھوڑا بھی منہ زور ہے۔ رینگ بھی سکتا ہے اچھل کود بھی سکتا ہے اور دولتیاں مارنا تو خیر اس کی سرشت ہے۔ سرشت تبدیل کرنے کے لئے بھی ایک معتبر اور قابل استاد کی ضرورت ہے۔ ویسے تو زمانہ بھی بہت بڑا استاد ہے یہ بھی بہت کچھ سکھا دیتا ہے نہیں تو نکرے لگا دیتا ہے اور ببانگ دہل اعلان کرتا ہے جا اپنی حسرتوں پر آنسو بہا کر سو جا۔ یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ سرشت تبدیل کرنے سے ہی بہشت کے ملنے کا امکان ہے۔ نفس امارہ کو مارنے اور بچوں کے مارنے کے درمیان جو فرق ہے اس بات کا اساتذہ کو اگر پہلے ہی اندازہ ہو جاتا تو ان کے ہاتھ سے ڈنڈا نہ جاتا۔ ایک طرف ہاتھ میں ڈنڈا ہو اور دوسری طرف ہاتھ میں کتاب ہو نتائج کے بارے میں سوچ کر ہی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ کتاب کتاب ہے اور ڈنڈا ڈنڈا ہے۔ استاد اور شاگرد دونوں کے ہاتھ میں کتاب دینے کی ضرورت ہے اور پھر دونوں کو کتاب کی اہمیت کے بارے میں سنجیدہ کرنے کی ضرورت ہے۔ہمارا تعلیمی نظام مختلف مراحل سے گزرتا ہوا اس موڑ پر آگیا ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل سے مایوس ہوتے جارہے ہیں اور ہماری نوجوان نسل ہم سے مکمل طور پر بدظن ہو چکی ہے۔ وہ اپنے آپ کو عقل کل سمجھتی ہے اور اپنے بزرگوں میں بھی نوجوان تلاش کرنا چاہتی ہے اور اکثر بوجہ کالا کوئلہ دھوکہ کھا جاتی ہے۔ دنیا بہت آگے جا چکی ہے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے انقلاب برپا کردیا ہے۔ آنکھ جھپکنے سے پہلے پوری دنیا پر نظر دوڑائی جا سکتی ہے اور آنکھیں بند رکھنے سے آنکھیں جھپکنے سے پہلے ہر چیز کے تتر بتر ہونے کا امکان ہے اور کسی بھی چیز کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔ لہذا نوجوان نسل کی آنکھیں کھلنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہم نے آج تک جو کچھ کیا ہے وہ تھا بس خوف وہراس۔ آبادی بڑھ گئی ہے۔ وسائل کم ہو گئے ہیں آنے والے کل کو پتہ نہیں کیا ہو جائیگا وغیرہ وغیرہ ساری گفتگو اور ایک بچے کے لئے۔ بچے معصوم بچے جنہوں نے ابھی تک صرف ماں باپ کا پیار ہی دیکھا ہے۔ ان ساری باتوں سے اس کی مت ماری گئی ہے اور وہ حساس ہو گیا ہے اوراس کی حساسیت بھی اس حد تک کہ چھوٹی چھوٹی بات پر ذہنی دبا کا شکار۔ بچے پیارے بچے۔ خدا کا خوف کھائیں اور مستقبل میں کوئی عقلی اور صائب لائحہ عمل ترتیب دیں۔ اس کام کے لئے ہم سب کو احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا بصورت دیگر مظاہرے تو ہونگے۔ان بچوں کی مناسب تربیت کی ضرورت ہے۔ تعلیم وتربیت کا یکجا ہونا شرط اول ہے اور اس سارے کام کی تکمیل کے لئے اساتذہ کا اساسی کردار ہے۔ یہ حقیقت بھی مدنظر رکھنا ہوگی کہ آج اور گزرے ہوئے کل میں بڑا فرق ہے۔ آج استاد کے ہاتھ میں ڈنڈا دے کر اس کو بچوں کے پیچھے نہیں لگایا جا سکتا ہے اور نہ ہی استاد کو بنام وغیرہ میں تھانہ کچہری میں بار بارطلب کروانا کوئی دانشمندی ہے۔ سب کو ہوش کے ناخن لینا ہوں گے۔ استاد اور شاگرد کے کام کی نوعیت کے پیش نظر ان کے مابین تعلقات کی نوعیت کو ازسر نو مرتب کرنا ہوگا تاکہ استاد کے رشتے کا تقدس کبھی بھی پامال نہ کیا جا سکے اور شاگرد استاد کے خلاف محاذ آرائی پر نہ اتر آئے۔ ذہنوں کے بخار کے اترنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے ہمارے تعلیمی نظام کو نئے سرے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کون دیکھے۔ یہ ایک اہم سوال ہے اور کام بھی اتنا آسان نہیں ہے۔ بہرحال ہم سب کو دیکھنا ہو گا۔ آئیے مارچ اور بچوں کے احتسابی نظام اور اس کے اثرات پر غور کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں