مالی بحران،ترقیاتی اہداف کا حصول مشکلات سے دوچار

لاہور (بیوروچیف) وفاقی حکومتِ کی ایک اہم رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ترقیاتی وعدے اور بجٹ وسائل میں بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے ۔ ملک کے پائیدار ترقیاتی اہداف شدید مالی اور گورننس بحران کا شکار ہیں اور 2030تک یہ اہداف حاصل کرنا خطرے میں پڑ چکا ہے ۔وزارتِ منصوبہ بندی کی جانب سے جاری کی گئی فنانسنگ گیپ رپورٹ کے مطابق پاکستان کو ترقیاتی اہداف پورے کرنے کے لیے ہر سال تقریبا 46 ارب ڈالر اضافی وسائل درکار ہیں، جو مجموعی قومی پیداوار کا تقریبا 15 فیصد بنتے ہیں۔ رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ موجودہ ترقیاتی اخراجات ناکافی ہیں اور اگر اخراجات کا ڈھانچہ نہ بدلا گیا تو اہداف مزید پیچھے چلے جائیں گے ۔رپورٹ کے مطابق کورونا وبا، عالمی معاشی بحران، توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ، آئی ایم ایف پروگرامز اور موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی تباہ کاریوں نے پاکستان کی مالی گنجائش کو شدید متاثر کیا ہے ۔ 2022 کے سیلاب سے ملک کو تقریبا 30 ارب ڈالر سے زائد نقصان ہوا، جبکہ حالیہ سیلابوں سے بھی اربوں ڈالر کا نقصان رپورٹ ہوا ہے ۔وزارتِ منصوبہ بندی نے اعتراف کیا ہے کہ تعلیم، صحت اور صاف پانی کے شعبے سب سے بڑے مالی چیلنج بن چکے ہیں، جبکہ انسانی ترقی کے اشاریے علاقائی ممالک کے مقابلے میں پیچھے ہیں۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ترقیاتی ترجیحات اور مالی پالیسیوں میں فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو غربت کے خاتمے ، معیاری تعلیم اور صحت کے اہداف حاصل کرنا ممکن نہیں رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں