”مانچسٹر آف پاکستان: ترقی اور خوبصورتی کی جانب ایک سفر”

فیصل آباد… ایک ایسا شہر جو کبھی ہجوم، بے ترتیبی اور مسائل کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج روشنی، خوبصورتی اور منظم ترقی کی نئی پہچان بن چکا ہے۔ یہ تبدیلی محض اتفاق نہیں بلکہ ایک وژنری قیادت، مؤثر ٹیم ورک اور مسلسل محنت کا نتیجہ ہے۔ اس تبدیلی کے مرکزی کردار جہانگیر انور ہیں، جنہوں نے بطور کمشنرآف فیصل آباد گورننس کو ایک نئی روح دی۔
جہانگیر انور نے فیصل آباد کو صرف فائلوں میں نہیں بلکہ عملی طور پر خوبصورت بنانے کا عزم کیا۔اس مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے چاروں اضلاع کے مسلسل دورے کیے، عوامی مسائل کو خود سنا اور فوری حل کو یقینی بنایا۔ ان کا اندازِ قیادت روایتی بیوروکریسی سے ہٹ کر ایک عملی اور عوام دوست طرز کا عکاس تھا۔ یہی وجہ ہے کہ افسران میں ایک نئی توانائی پیدا ہوئی اور شہریوں کا بھی انتظامیہ پہ اعتماد بحال ہوا۔
اگر اس قیادت کو ماضی کے آئینے میں دیکھا جائے تو طاہر حسین کی اصول پسندی اور مضبوط انتظامی گرفت ایک مثال کے طور پر سامنے آتی ہے، جبکہ تسنیم نورانی کو ایک ایسا”برانڈ”سمجھا جاتا ہے جس نے گورننس میں وژن، جرات اور توازن پیدا کیا۔ جہانگیر انور کی قیادت میں ان دونوں عظیم منتظمین کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے—ایک طرف اصولی سختی اور دوسری طرف عوامی خدمت کا نرم احساس۔
ان کی قیادت میں ڈپٹی کمشنرز نے مثالی کارکردگی دکھائی۔ عائشہ رضوان نے چنیوٹ میں نظم و نسق کو بہتر بنایا، ڈی سی ٹوبہ ٹیک سنگھ عمر میلہ نے دیہی اور زرعی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا، جبکہ ڈی سی جھنگ علی اکبر بھنڈر نے عوامی خدمت اور امن و امان میں قابلِ ذکر کامیابیاں حاصل کیں۔
فیصل آباد کے ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) ندیم ناصر ہر وقت کمشنر کے ساتھ شانہ بشانہ نظر آئے۔ تجاوزات کے خاتمے میں ان کی کارکردگی نمایاں رہی، جبکہ انہوں نے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ میں متعدد ترقیاتی اسکیمیں پیش کیں۔ بائی پاس، لنک روڈز اور رنگ روڈ جیسے منصوبے ان کی پیشہ ورانہ بصیرت کا ثبوت ہیں، جو مستقبل میں شہری ٹریفک کے مسائل کو حل کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ شہریوں سے براہِ راست رابطہ بھی ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو رہا۔
اداروں کے درمیان ہم آہنگی اس دور کی سب سے بڑی کامیابی رہی۔DG FDA آصف چوہدری نے کمشنر کے وژن کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ایف ڈی اے کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ انہوں نے شہر سے صنعتوں کی ری لوکیشن کے منصوبے پر بھی مؤثر انداز میں کام کیا، جس سے شہری ماحول اور ٹریفک کے مسائل میں بہتری آئی۔ شجرکاری مہم میں انہوں نے کنوینئر کے طور پر نمایاں کردار ادا کیا اور شہر کو سرسبز بنانے کی بنیاد رکھی۔
ایف ڈی اے سٹی میں ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ایف ڈی اے نے فیسکو ملازمین کیلئے پلاٹس فروخت کرنے کیلئے منصوبہ بنایا، جس سے اربوں روپے کا ریونیو پیدا ہوگا۔ ایـگورننس اور ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے ایف ڈی اے کے نظام کو شفاف اور مؤثر بنایا گیا، جو جدید گورننس کی ایک بہترین مثال ہے۔
اسی طرح DG PHA دلاور خان نے شہر کی خوبصورتی بڑھانے میں غیر معمولی خدمات انجام دیں۔ چوراہوں، سڑکوں اور پارکس کو جدید طرز پر ڈیزائن کیا گیا، لائٹس اور گرین بیلٹس کے ذریعے فیصل آباد کو ایک روشن اور خوبصورت شہر میں تبدیل کر دیا گیا۔
صحت کے شعبے میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ فیصل آباد انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (FIC) اور دیگر بڑے ہسپتالوں، خصوصاً الائیڈ ہسپتال میں سہولیات کی بہتری، مریضوں کی دیکھ بھال اور جدید طبی انتظامات نے شہریوں کو حقیقی ریلیف فراہم کیا۔ یہ اقدامات صحت کے نظام کو مضبوط بنانے میں سنگِ میل ثابت ہوئے۔
یہ تمام کامیابیاں اس وسیع وژن کا حصہ تھیں جسے صوبائی سطح پر مریم نواز نے متعارف کروایا اور جسے جہانگیر انور نے مؤثر انداز میں نافذ کیا۔ جرائم کے خلاف سخت اقدامات اور شہری تحفظ کو یقینی بنایا گیا، جس کے نتیجے میں آج شہری بلا خوف زندگی گزار رہے ہیں۔گرین بسوں کے آغاز نے شہری ٹرانسپور ٹ کو جدید اور ماحول دوست بنایا جبکہ سڑکوں پر لائٹنگ اور سگنلز نے شہر کو ایک مکمل اربن ماڈل میں تبدیل کر دیا۔
”ستھرا پنجاب”مہم اس دور کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہے۔ ایک ملین ٹن سے زائد کچرا شہر سے ڈمپنگ سائٹس تک منتقل کیا گیا، 1400 ویسٹ بینز نصب کیے گئے، 1000 سے زائد گاڑیاں روزانہ صفائی آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں، اور 7000 سے زائد فیلڈ اسٹاف دن رات خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس مہم کی قیادت ڈاکٹر رائے قمر الزمان، چئیرمین کیئر سروسز کنسورشیم نے کی۔
جہانگیر انور نے عوامی نمائندوں، میڈیا، مذہبی شخصیات، شہریوں، صنعتکاروں، شعراء اور ادیبوں کو عزت و احترام دیا اور ان کی خدمات کا اعتراف کیا، جو ان کی ہمہ گیر اور انسان دوست قیادت کا واضح ثبوت ہے۔یہ سب کچھ اس لیے ممکن ہوا کیونکہ قیادت مخلص تھی، ٹیم متحرک تھی اور وژن واضح تھا۔ جہانگیر انور نے نہ صرف شہر کو ترقی دی بلکہ ایک ایسا ماڈل پیش کیا جس میں گورننس، خوبصورتی، صفائی اور عوامی خدمت ایک ساتھ نظر آتی ہے۔
آج فیصل آباد کی ہر روشن سڑک، ہر سرسبز پارک اور ہر منظم بازار اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جب قیادت مضبوط ہو اور نیت خالص ہو تو شہر بدل جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا دور ہے جسے فیصل آباد کے لوگ طویل عرصے تک یاد رکھیں گے—ایک سنہری باب، جو تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں