1

”ماں” جس کا کوئی نعم البدل نہیں

والدین اﷲ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہیں اور ان کی شان ختم نہ ہونے والی ایک حقیقت ہے، مجھے اپنے والدین سے جو پیار ملا وہ دم آخر بھی یاد رہے گا، اﷲ تعالیٰ کا کروڑ ہا بار شکر ہے کہ اس نے مجھے والدین کی خدمت کرنے اور ان کی دعائیں لینے کا شرف بخشا، والدین کی دعائیں رائیگاں نہیں جاتیں، ان کے اس دارفانی سے کوچ کر جانے کے بعد بھی ان کی دعائیں اپنی اولاد کے تعاقب میں رہتی ہیں، میرے والدین نے جو دعائیں مجھے دیں، ان کے ثمرات آج تک جاری وساری ہیں، انسان اس دنیا میں جو کچھ بھی ہے، اپنے والدین کی وجہ سے ہے جو اپنی اولاد کی بہترین تربیت اور پرورش کیلئے اپنی جان تک لڑا دیتے ہیں اور ساری زندگی اولاد کیلئے راحت وآسانی پیدا کرنے کیلئے کوشاں رہتے ہیں، اگر ہم میں سے کسی کے والدین زندہ ہیں تو ہمیں ان کی خدمت کا کوئی موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے، ان کی دیکھ بھال میں کسی قسم کی کوتاہی ہرگز نہیں ہونی چاہیے، جن لوگوں کے والدین اس دنیا میں نہیں رہے، انہیں ان کیلئے ایصال ثواب کرتے رہنا چاہیے، بے شک! ماں باپ کا کوئی نعم البدل نہیں، یہ ایک تاریخ ساز حقیقت ہے کہ ہر مذہب اور تہذیب نے ان کی عظمت کو تسلیم کیا ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص محبوب خدا، حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا، یارسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم! میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپۖ نے ارشاد فرمایا تیری ماں! انہوں نے عرض کیا پھر کون؟ آپ نے فرمایا: تیری ماں، انہوں نے عرض کیا پھر کون؟ آپۖ نے فرمایا تیری ماں، چوتھی مرتبہ سوال کرنے پر حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تیرا باپ، یہاں پر غور کرنے کی بات ہے کہ آپۖ نے ماں کا مرتبہ باپ سے تین گنا زیادہ فرمایا ہے کیونکہ ماں ہی ایک ایسی ہستی ہے جس کے پیروں تلے جنت ہے، ماں سے محبت وعقیدت کا اظہار اور ان کے قدموں کا بوسہ لینا مقدر والوں کو ہی نصیب ہوتا ہے اور میری خوش بختی ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے میرا شمار بھی ایسے مقدر والوں میں کیا ہے ماں ایک ایسی عظیم ہستی ہے جس کی محبت، قربانی اور شفقت کی کوئی مثال نہیں ملتی، وہ اپنے بچوں کی زندگی آسان اور خوشگوار بنانے کیلئے اپنی راحت اور سکون قربان کر دیتی ہے، ماں کی محبت بے لوث اور خالص ہوتی ہے، وہ اپنی اولاد کی چھوٹی سے چھوٹی خوشی کے لیے اپنی بڑی سے بڑی خواہش قربان کر دیتی ہے، بچپن میں وہ راتوں کو جاگ کر اپنی اولاد کو سکون دیتی ہے، ان کے بیمار ہونے پر خود پریشان ہو جاتی ہے اور ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھتی ہے، ماں کی دعائیں ہر مشکل کو آسان بنا دیتی ہیں اور اولاد کی کامیابیوں میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، ماں کی عظمت کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے، ماں کا کوئی نعم البدل نہیں، ہمیں ان کی قدر کرنی چاہیے اور ان کی زندگیوں میں خوشیاں لانی چاہئیں، وقت گزرنے کا پتہ بھی نہیں چلتا مگر وقت کی رفتار جتنی مرضی تیز ہو جائے، حالات جیسے مرضی ہو جائیں مگر جو زخم قلب وجان اور روح پر لگے ہوں وہ ہمیشہ تروتازہ رہتے ہیں، خاص طور پر والدین کی جدائی کا زخم کبھی بھی نہیں بھرتا، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ زخم گہرے سے گہرا ہوتا چلا جاتا ہے، آج 3فروری ہے، بارہ برس قبل اسی تاریخ کو میری والدہ ماجدہ مجھے چھوڑ کر اﷲ رب العزت کے پاس چلی گئیں، میری ماں انتہائی صابرہ خاتون تھیں جنہوں نے اپنی زندگی میں بے شمار غم دیکھے، انتہائی کٹھن مراحل طے کئے، خاص طور پر اپنے 4جوان سال بیٹوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے کفن زیب تن کر کے موت کی وادی میں جاتے دیکھا، جوان اولاد کی موت کا صدمہ والدین کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں ہوتا مگر پھر بھی میری ماں نے انتہائی صبر وتحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے باقی بچوں کی دیکھ بھال اور پرورش میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، میں اپنے بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا، میرے ساتھ میرے والدین کا پیار محبت حد سے زیادہ تھا، تقریباً تیرہ برس قبل اپنے آبائی علاقے عبداﷲ پور سے رخت سفر باندھا اور ہم اپنی والدہ محترمہ اور بچوں کو ساتھ لیکر چھوٹی ڈی گرائونڈ میں رہائش پذیر ہو گئے، اس گھر میں میری والدہ محترمہ گیارہ ماہ تک ہمارے ساتھ رہیں اور پھر 3فروری 2014ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں، آج ان کی بارہویں برسی پر میرے دل کی عجیب کیفیت اور آنکھیں اشکبار ہیں، فروری کے آغاز سے ہی ہر سال والدہ محترمہ کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں اور میں اپنی ماں کی قبر پر پہنچ کر فاتحہ خوانی کر کے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر لیتا ہوں، ماں سے زیادہ اولاد سے محبت کرنے والا کوئی نہیں، ماں اپنے بچوں کیلئے جیتی ہے اور بچے اس کی سب سے بڑی دولت ہوتے ہیں، بلاشبہ! ماں آرام وسکون جان بھی ہے اور عظمت کا نشان بھی، ماں محبت کا جہان اور عطیہ رحمان ہے، بحرمحبت کی گہرائی میں ہر چیز کو سمیٹے ہوئے احساس کو ماں کہتے ہیں، اپنی ماں میں مجھے ہمیشہ چاند کی چاندنی’ شام کی شفق’ سحر کی شبنم’ دھنک کے رنگ اور ستاروں کی چمک نظر آئی، کائنات کے سب رنگ ماں کی محبت میں چھپے ہوئے ہیں، ماں کی شان ایک نہ ختم ہونے والی داستان ہے، مجھے اپنی ماں سے جو پیار ملا وہ دم آخر بھی یاد رہے گا اور میری ماں کی دعائیں مجھے ہمیشہ کامیابیوں سے ہمکنار کرتی رہیں گی، ان کی باتیں ہمارے لئے ہمیشہ رہنمائی کا ذریعہ ہیں اور ان کی یادیں ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی، دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے پیارے حبیب حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل میرے والدین کی کامل بخشش ومغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرما کر انہیں جنتی بہاریں نصیب فرمائے، آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں