198

ماں ۔۔ لازوال نعمتِ خداوندی (حصہ دوئم)

تحریر: محمد عدنان رضا
کا انتظار ہو گا جو فون کال بند ہونے پر بھی دعاؤں کا ورد جاری رکھے گی ماں سے محبت دنیا کا ایک علیحدہ سا رشتہ ہے جو کہ انسان پر رب العالمین کا خاص کرم ہوتا ہے اور ایسا کرم کہ جسکی دنیا میں مثال ملنا محال ہے اور بیان سے قاصر ہے۔
ماں تیرے بعد بتا کون لبوں سے اپنے
وقت رخصت میرے ماتھے پر دعالکھے گا
سبھی ماؤں کی طرح ماں جی بھی کمال یاداشت کی حامل تھیں میرے چھوٹے بھائی بیرون ملک جاب کرتے ہیں جب کبھی فرصت میں انکے پاس بیٹھنا اور بھائیوں کا زکر ہونا تو ان کے پاکستان آنے اور جانے کا تزکرہ ہوتا تو ماں جی کو دونوں کے جانے اور کتنی دیر ان کو بیرون ملک ہو گئی ہے سال،مہینے تو دور،دن اور وقت تک یاد ہوتا اور یہ بھی بتا دیتی تھیں کہ اس بھائی کو اتنے دن ہو گئے ہیں اور اس کو اتنے ،میں نے از راہ تففن کہنا کہ ابھی تو ان کو چھ ماہ نہیں ہوئے تو انہوں نے آگے سے کہنا ،نہیں پتر ، مجھے تو دن اور وقت تک یاد ہے تم کیسے کہہ سکتے ہو، میں تو ایک ایک دن گن کے گزارتی ہوں اور واقعی ہی ان کی اپنے بیٹوں کے آنے اور جانے کے متعلق یاداشت حیران کن تھی۔
آ خری دنوں میں ماں جی جب اچانک بیمار ہوئیں اور چند دن کے لیے بیماری نے طول پکڑا تو عام انسان کی طرح میرے ذہن میں بھی وسوسوں نے ڈیرے ڈالنے شروع کر دیے تو میرے دل میں خیال آتا کہ ماں جی سے کوئی ا ن کی خواہش پوچھوں ،ان سے کہوں کہ کوئی نصیحت پکڑیں یا کوئی زندگی کا سبق ،مگر سچ تو یہ ہے کہ میرے کلیجے میں اتنی ہمت ہی نہ ہوئی کہ میں ان سے ایسی بات پوچھنے کے لیے حوصلہ اکٹھا کروں،بہت سوچ و بچار کے بعد اگر کوئی بات پوچھ پاتا تو وہ یہی کہ ماں جی اور سنائیں؟ سب ٹھیک ہے ؟وہ آگے سے اپنے ٹھیک ہونے کا بتاتی تو الفاظ ہی ختم ہو جاتے اور ہمت ہی نہ پڑ تی کہ آگے کچھ بول سکوں، بہت بار کوشش کی مگر میںہمیشہ کی طرح نا کام رہااور یہی صورتحال والدہ محترمہ کی تھیں کہ آخری ایام میں ان کو رخت سفر باندھنے کا معلوم ہو چکا تھا مگر باوجود اسکے انہوں نے مجھ پر ایسا ظاہر ہی ہونے نہیں دیا کہ کہیں میرا بیٹا پریشان ہی نہ ہو جائے اور ہمت ہی نہ چھوڑ جائے۔ہمیں پریشانی ،مصائب والم سے بچاتی بچاتی خود پریشانیاں و تکالیف جھیل کر ، اپنے بچوں کو اپنی دعاوں سے کامیاب کروا کر ،اعلی عہدوں پر بٹھا کر ،بہت سے راز اپنے ساتھ لے کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔
بقول اقبال:
کس کو ہو گا وطن میں آہ میرا انتظار
کون میرا (فون)خط نہ آنے سے ہو گا بے قرار
خاک مرقد پر تری یہ لیکر فریاد آؤں گا
اب دعائے نیم شب میں کس کو یاد آؤں گا
عمر بھر تیری محبت میری خدمت گر رہی
میں تیری خدمت کے قابل ہو ا تو تو چل بسی
یاد سے تیری دل آشنا معمور ہے
جیسے کعبے میں فضاء دعاؤں سے معمور ہے
تجھ کو مثل طفلک ہے دست وپا روتا ہے وہ
صبر سے نا آشنا صبح و مسا روتا ہے وہ
آخر میں انکی طرف سے دیا گیا ایک سبق جو کہ ان کا آزمودہ بھی تھا اور تکیہ کلام بھی کہ “بیٹا دینے والے کو رب دیتا ہے “ماں جی کا یہ سبق بھی تھا اور تاکید بھی اور روٹین بھی۔ کوئی بھی تہوار ہو،یا خوشی کا موقع ہو ،صدقہ خیرات ان کا محبوب مشغلہ تھا اہل محلہ ہو یا قریہ یا دیگر کوئی بھی مستحق انکے پاس آ جاتا تو کسی صورت خالی ہاتھ نہ بھیجتی اور میں سمجھتا ہوں کہ آج میری والدہ کے چمن میں اتنی بہاریں ہیں اور جو ہم سب کو میرے مالک نے نوازا ہے وہ ماں جی کی اس عادت خیر کی بدولت ہے کہ دینے والے کو رب دیتا ہے اور گھر آئے سوالی کو خالی نہیں بھیجنا۔ وہ کہتی تھیں کہ گھر آئے سوالی کو خالی واپس بھیجنے سے رب ناراض ہو جاتا ہے۔
یوں تو دل بہت شکستہ حال وغمگین ہے مگر اب کیا کیا جا سکتا ہے سوائے اپنے رب کی رضا میں راضی ہونے کے
اے میرے مالک ہم بہت لاچار ہیں تجھ سے یہی دست بستہ التجا کرتے ہیں کہ تمام احباب جنکی مائیں سلامت ہیں ان کا سایہ ان کی اولاد کے سروں پر قائم رکھنا اور جن کی جنت کو تو نے اپنے پاس بلا لیا ہے ان کی بخشش فرما دے اور ان سب کے صدقے ،سیدہ فاطمتہ الزہرا اور امہات المومنین کے صدقے ہماری والدہ کی بھی بخشش فرما دے اور ان سے راضی ہو جا۔بے شک تیری رضا میں ہی نجات ہے۔ آ مین
آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں