32

محبوب مصطفی ۖ…حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

آپ کا نام عبد اللہ۔ابوبکر کنیت صدیق لقب۔ آپ کے والد کا نام عثمان اور کنیت ابو قہافہ اور والدہ کا نام سلمی اور کنیت ام الخیر۔ زمانہ جاہلیت میں بھی آپ نے کبھی بت پرستی نہیں کی۔ ایک دن آپ کے والد ابو قہافہ (جو ابھی ایمان نہیں لائے تھے) آپ کو لیکر بت خانہ میں گئے اور کہا۔ انہیں سجدہ کرو۔ یہ تمہارے خدا ہیں۔ وہ یہ کہہ کر باہر چلے گئے،آپ نے بتوں سے سوال کیا۔ میں بھوکا ہوں۔ مجھے کھانا دو۔ میں ننگا ھوں۔ مجھے کپڑا پہنا۔ وہ بت کچھ نہ بولا۔ آپ نے ایک پتھر لیکر فرمایا۔ میں تجھے مارتا ہوں۔ اگر تو خدا ھے۔ تو اپنے آپ کو بچا۔ لیکن آگے سے کوئی جواب نہ آیا۔ آپ نے اس کو پتھر مارا۔ اور وہ بت نیچے گر گیا۔ آپ کے والد نے واپس آکر کر یہ سب کچھ دیکھا۔ تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پکڑ کر آپکی والدہ ام الخیر کے پاس لیکر آئے۔ اور یہ سارا واقعہ سنایا۔ آپکی والدہ نے جواب دیا۔ اس بچے کو کچھ نہ کہو۔ جس رات یہ پیدا ہوا تھا۔ میرے پاس کوئی نہ تھا۔ ہاتف غیبی سے آواز آئی۔ اے اللہ کی سچی بندی تجھے خوش خبری ھو۔ اس آزاد بچے کی جس کا نام آسمانوں میں نام صدیق ہے۔ جو محمد ۖ کا رفیق سفر ھو گا۔ بہت سے صحابہ کرام اور تابعین فرماتے ہیں۔ سب پہلے ایمان لانے والے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ نبی پاکۖ فرماتے ہیں۔ جب میں نے کسی کو بھی اسلام کی دعوت دی۔ تو اس کو تردد ہوا۔ لیکن جب ابو بکر کو میں نے اسلام پیش کیا۔ تو انہوں نے بغیر تردد اسلام قبول کیا۔ مردوں میں حضرت ابوبکر صدیق رضی ا للہ عنہ سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے ہیں۔ایک دن نبی پاکۖ نے حضرت ابو بکر کو انگوٹھی دی۔ اور فرمایا۔ اس پر لا الہ الا اللہ لکھوا لا۔آپ نے انگوٹھی صراف کو دی اور فرمایا۔ اس پر کلمہ شریف لکھ دو۔ جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ انگوٹھی واپس لیکر نبی پاک ۖ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ اس پر کلمہ شریف اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نام لکھا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ اے ابو بکر میں نے تو صرف اللہ کا نام لکھوانے کو کہا تھا۔ مگر تم نے میرا اور اپنا نام بھی لکھوا لیا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جواب دیا۔ کہ آپ کا نام تو میں نے لکھوایا ہے۔ کیونکہ میرے ایمان اور عشق نے یہ برداشت نہ کیا۔ کہ آپ کو اللہ کے نام سے جدا کروں۔ اس کے فورا بعد حضرت جبرائیل حاضر ہوئے۔ اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ۖ ابوبکر کا نام میں نے لکھا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالی یہ پسند نہیں کرتا۔ کہ صدیق کو آپ سے علیحدہ رکھے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت قرآن پاک سے ثابت ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہلیان روئے زمین اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ایمان کا وزن کیا جائے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ایمان کا پلہ بھاری ھو گا۔ ایک دن آپ کے والد ابو قہافہ (جو ابھی ایمان نہ لائے تھے) نے نبی پاک ۖ کی شان میں ہلکی سی گستاخی کر دی۔ جب آپ نے یہ سنا تو اپنے والد کے منہ پر طمانچہ دے مارا۔ ابو قحافہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچے۔ اور شکایت کی۔ کہ آپ کے غلام نے میرے منہ پر طمانچہ مارا ھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے پوچھا۔ تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جواب دیا۔ کہ یا رسول اللہ ۖمجھے والدین کے حقوق کا بخوبی علم ہے۔ لیکن آپکی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتا۔ کیونکہ آقاۖ۔ آپ کا ہی فرمان مبارک ہے۔ ” تم میں سے اس وقت کوئی کامل مومن نہیں ھو سکتا” جب تک ماں باپ اور تمام لوگوں سے زیادہ مجھے محبوب نہ رکھے۔ایک دن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور آپ کا بیٹا عبد الرحمن اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے۔ کہ آپ کے بیٹے نے کہا۔ ابا جان۔ جب میں ایمان نہیں لایا تھا۔ تو ایک جنگ کے موقع پر تین دفعہ آپ میری تلوار کے نیچے آئے۔ لیکن باپ ہونے کیوجہ سے میں نے آپکو چھوڑ دیا۔ یہ سن کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا عشق رسول ۖ جوش پر آیا۔ اور فرمایا۔ بیٹے سن تین مرتبہ تو نے مجھے قابو پایا اور چھوڑ دیا۔ مگر تم ایک دفعہ میری تلوار کے نیچے آجاتے تو میں دشمن رسولۖ سمجھ کر تمہارا سر تن سے جدا کر دیتا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ رسولۖ نے ایک دن ہم لوگوں کو اللہ کی راہ میں صدقہ اور خیرات کرنے کا حکم دیا۔ میں نے خیال کیا کہ آج کا دن ہے کہ میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے نیکیوں میں آگے بڑھ جائوں گا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں گھر کا آدھا مال لیکر بارگا ہ مصطفی ۖمیں حاضر ہوا۔ آقاۖنے دریافت کیا۔ گھر والوں کیلئے کتنا مال چھوڑا۔ میں نے عرض کیا۔ آدھا مال ان کیلئے چھوڑ آیا ہوں۔ پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنا مال لیکر نبی پاکۖ کی با رگاہ میں پہنچے۔ رسول اللہۖ نے ان سے پوچھا۔ اپنے اہل و عیال کیلئے کیاچھوڑ آئے ھو۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جواب دیا۔ میرے اور میرے اہل خانہ کیلئے اللہ اور اس کا رسولۖ کافی ہیں۔
پروانے کو چراغ ہے بلبل کو پھول بس صدیق کے لئے ہے خدا کا رسول بس
ترمذی شریف کی حدیث ہے۔ کسی شخص کے مال نے مجھے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا۔ جتنا فائدہ ابو بکر کے مال نے پہنچایا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ وہ خوش نصیب واحد صحابی ہیں جن کی صحابیت قرآن سے ثابت ہے۔ آپ تمام روئے زمین پر انبیائے کرام کے بعد تمام انسانوں میں افضل ترین شخص میں۔ نبی کریم ۖنے آپکو زندگی میں ہی جنت کی بشارت عطا فرمائی۔ اللہ تعالی نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ایسی چار خصلتیں عطا فرمائیں۔ جو کسی دوسرے شخص کو نہیں عطا فرمائیں۔ اول – آپ کا نام صدیق رکھا کسی دوسرے کا نام صدیق نہیں۔ دوئم۔ آپ غار ثور میں نبی پاک ۖکے ساتھ رہے۔ سوئم – آپ ہجرت کی رات نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے رفیق سفر رہے۔ چہارم۔نبی پاکۖ نے آپکو حکم فرمایا کہ آپ صحابہ کرام کو نماز پڑھائیں۔ دوسرے لوگ آپ کے مقتدی بنیں۔ ایک بہت بڑی خصوصیت کہ آپ صحابی، آپ کے والد صحابی آپ کے بیٹے عبد الرحمن صحابی اور ان کے بیٹے ابو عتیق محمد رضوان اللہ علیہم اجمعین صحابی۔ یعنی آپکی چارنسلیں صحابی ہیں۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے 22 جمادی الآخر بروز پیر 13ھ مدینہ طیبہ میں وفات پائی اور نبی کریم ۖ کے مزار پر انوار کے پہلو میں مدفون ہوئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں