محرم الحرام میں ضابطہ اخلاق پر مکمل عملدرآمد کرنا ضروری ہے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) اتحادِ امت ہی وہ طاقت ہے جو دشمنانِ اسلام کے ہر وار کو ناکام بناتی ہے۔ پیر قاضی فیض رسول حیدررضوی۔ پاکستان کی بقا، سلامتی، اور ترقی کا راز اتحاد بین المسلمین اور قومی یکجہتی میں پنہاں ہے۔ محرم الحرام میں امن و امان کی فضا برقرار رکھنے، بھائی چارے کو فروغ دینے، اور دشمن قوتوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے تمام دینی طبقات ریاستی ضابطہ اخلاق پر مکمل عملدرآمد اور باہمی تعاون کے لیے یک آواز ہیں۔یہ بات پریس کلب میں ہونے والی ایک اہم پریس کانفرنس میں کہی گئی جس میں مختلف مکاتب فکر کی دینی قیادت نے شرکت کی۔ پریس کانفرنس سے پیر قاضی فیض رسول حیدررضوی، علامہ محمد ریاض کھرل،ڈاکٹر سید افتخار حسین نقوی ، پیر ابو احمد محمد مقصود احمد مدنی، صاحبزادہ ڈاکٹر پیر محمد معصوم شاہ، مفتی محمد انس مدنی، مفتی مظفر اقبال ،قاری محمد شریف کھرل، علامہ عزیز الحسن اعوان،پیر محمد صدیق الرحمان، علامہ غلام اللہ خان، مولانا محمد تنویر راٹھور، پروفیسر پیر محمد آصف رضا قادری اور مولانا محمدا کرم میدانی سمیت دیگر اکابرین نے خطاب کیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ محرم الحرام کے دوران ہر مکتبہ فکر کے علما اپنے خطابات میں اتحاد، رواداری اور احترام انسانیت کو فروغ دیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئی مقرر نہ تو دوسروں کے عقائد پر تنقید کرے گا اور نہ ہی کوئی ایسا فتوی جاری کیا جائے گا جو تفرقہ یا فساد کا باعث بنے۔علمائے کرام نے سوشل میڈیا پر نفرت انگیز یا اشتعال انگیز مواد سے گریز کی پرزور اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کو قومی یکجہتی اور امن کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے۔ اس ضمن میں اگر کوئی غیر مناسب مواد سامنے آئے تو فوری طور پر ریاستی اداروں سے رابطہ کر کے اس کا سدباب کیا جائے گا۔پریس کانفرنس کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور افواجِ پاکستان کے کردار کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور کہا گیا کہ قوم ان کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ مقررین نے اس اتحاد کو پاکستان کی 75سالہ تاریخ کا سب سے مضبوط قومی اتفاق رائے قرار دیا اور اس کی حفاظت کو ہر فرد کا شرعی و قومی فریضہ قرار دیا۔پریس کانفرنس میں اسلامی جمہوریہ ایران پر امریکی و اسرائیلی یلغار کی شدید مذمت کی گئی، جبکہ فلسطین اور کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے اقوام متحدہ، او آئی سی اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مو ئثرکردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔علما اکرام نے اعلان کیا کہ محرم الحرام کے دوران تمام مساجد، مدارس، مجالس اور جلوسوں میں آوازسائونڈصرف پنڈال تک محدود رکھی جائے گی۔ مقررین اپنے عقیدے کو بیان کریں گے لیکن کسی دوسرے عقیدے کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ یہ اصول نہ صرف ضابطہ اخلاق کا تقاضا ہے بلکہ قرآن و سنت کی تعلیمات کے عین مطابق بھی ہے۔آخر میں علما و مشائخ نے قوم سے اپیل کی کہ وہ باہمی اتحاد، ہم آہنگی اور امن کو مضبوط کریں اور دشمنانِ اسلام کو شکست دینے کے لیے صف بندی میں شامل ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ “پاکستان لا الہ الا اللہ کے نام پر بنا ہے، اس کی حفاظت ہم سب کا فرض ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں