محکمہ تعلیم کی پالیسیوں پر سوالات،مافیا غالب،پرنسپل کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

ٹھیکریوالہ (نامہ نگار)محکمہ تعلیم کی پالیسیوں پر سوالات، مافیا غالب، پرنسپل کو عہدے سے ہٹا دیا گیافیصل آباد کے ایک قدیمی اور اہم تعلیمی ادارے گورنمنٹ ٹیکنیکل ہائی سکول میں ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا، جہاں پرنسپل اطہر کامران کو عہدے سے ہٹا کر ڈسپوزل پر بھیج دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ محکمہ تعلیم کی پالیسیوں اور اندرونی دبا کے باعث سامنے آیا، جس نے تعلیمی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ پرنسپل اطہر کامران نے سکول میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے، طلبہ کے نتائج میں بہتری لانے اور غیر فعال اساتذہ کو متحرک کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے۔ تاہم ان اصلاحاتی کوششوں کو بعض اساتذہ نے اپنے مفادات کے خلاف سمجھتے ہوئے مخالفت شروع کر دی۔ بتایا جاتا ہے کہ چند اساتذہ نے گروپ بندی کر کے نہ صرف پرنسپل کے خلاف محاذ کھولا بلکہ دیگر عملے کو بھی ساتھ ملا لیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس گروپ نے اعلی افسران کو متعدد درخواستیں ارسال کیں، جن میں پرنسپل کے خلاف مختلف الزامات عائد کیے گئے۔ ان درخواستوں کے بعد متعلقہ افسران نے دبا میں آ کر سیکرٹری ایجوکیشن کو خط ارسال کیا، جس میں پرنسپل کو ڈسپوزل پر لینے کی سفارش کی گئی۔ بعد ازاں محکمہ تعلیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اطہر کامران کو عہدے سے ہٹا دیا۔تعلیمی حلقوں اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد اس اقدام کو میرٹ اور شفافیت کے اصولوں کے منافی قرار دے رہی ہے۔ ان کا مقف ہے کہ ایک محنتی اور دیانتدار افسر کو صرف اس وجہ سے ہٹانا کہ وہ نظام میں بہتری لانا چاہتا تھا، نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ اس سے اداروں میں اصلاحات کا عمل بھی متاثر ہوگا۔ماہرین تعلیم کے مطابق ایسے واقعات تعلیمی نظام میں پالیسی گیپس اور گورننس چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہیں، جنہیں فوری طور پر ایڈریس کرنا ناگزیر ہے تاکہ اداروں میں کارکردگی اور احتساب کا موثر نظام قائم کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں