25

مخصوص نشستوں کے فیصلوں میں غلطیاں ہیں،عرفان صدیقی

اسلام آباد(بیوروچیف)مسلم لیگ (ن) کے سینیٹرعرفان صدیقی نے کہا ہے کہ آئے دن قانون یہ کہہ کر ختم کردیا جاتا ہے کہ یہ آئین سے متصادم ہے، مخصوص نشستوں کے فیصلے پر بہت سے سوالات پیدا ہوئے ہیں، عدلیہ آئین سے متصادم فیصلہ کرے تو کون ٹھیک کرے گا، ہم غلطی کرتے ہیں تو عدلیہ اصلاح کردیتی ہے، جج کوئی پیغمبروں کا قبیلہ نہیں، مخصوص نشستوں کے فیصلے میں متعدد غلطیاں ہوئی ہیں۔ مخصوص نشستوں کے معاملے پر عدالتی فیصلے نے بہت سے سوالات پیدا کر کے معاملے کو بری طرح پیچیدہ بنا دیا ہے ۔ ملکی کی سب سے بڑی عدالت بھی آئین کے تابع ہے اگر آپ آئین کی پاسداری نہیں کریں گے تو ہم کہاں جائیں ۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ بغیر کسی سیاسی تفرقہ بازی کے اس کا جواب تلاش کیا جائے، ملک کی سب سے بڑی عدالت کو آئین کے تحت ہی کام کرنا چاہیے۔لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ آپ کی آزادی ہمیں آئین سے زیادہ عزیز نہیں، ہم نے آئین کے تحفظ کی قسم کھائی ہے، آپ نے پارلیمان نہیں بنائی، پارلیمان نے آپ کو بنایا ہے، آپ آئین نہیں بناتے، آئین ہم بناتے ہیں۔لیگی سینیٹر نے کہا کہ ایک خاص موضوع کے حوالے سے کچھ دنوں سے بات کررہا ہوں، حالیہ دنوں میں عدالتی فیصلے کے بعد ایک سوال پیدا ہوا، مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلہ ہوا اس فیصلے میں الیکشن ایکٹ کو بار بار توڑا گیا جس نے بہت سے سوالات پیدا ہوئے، معاملے کو اس اتنا پیچیدہ کردیا گیا کہ سلجھانا ناممکن ہوگیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ روزانہ سنتے ہیں کہ فلاں قانون آئین سے متصادم تھا، عدلیہ اس سے متعلق فیصلے کرتی ہے اور تشریح کرتی ہے، کیا یہ ممکن ہے کہ عدالت کا کوئی بنچ بھی غلطی کرسکتا ہے یا نہیں، عدلیہ غلطی کا مرتکب ہو جائے تو اس کا اسباب کیا تھے، آج یہ طے ہو جانا چاہیے کہ اگر کوئی فیصلہ آئین سے متصادم ہو تو کون ٹھیک کرے گا۔انہوں نے کہا کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے کو دو ماہ ہوگئے، ہماری اپیلیں سماعت کے لیے نہیں لگ رہیں، ہم نے آئین کی پاسداری کا حلف اٹھایا ہے، آپ نے بھی اٹھایا ہے۔عرفان صدیقی نے کہا کہ عدالتی فیصلے سے مسئلہ حل ہونے کے بجائے پیچیدہ ہوگیا ہے، 4 مارشل لا لگے، کسی ایک مارشل لا کے سامنے ہماری عدلیہ کھڑی نہیں ہوئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں