مذاکرات پرPTIمیں پھوٹ،سخت اور متعدل مزاج رہنما آمنے سامنے

اسلام آباد (عظیم صدیقی) PTI ہارڈ لائسز کے نرغے میں چلی گئی’ سخت مزاج اور متعدل مزاج ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے، بانی پی ٹی آئی کی طرف سے محمود خان اچکزئی کو مذاکرات کرنے نہ کرنے کا اختیار دینے کے بعد اچکزئی اور وزیراعظم شہباز شریف دونوں نے مذاکرات کا عندیہ دیا تو علیمہ خان اور سوشل میڈیا گروپ نے مذاکرات کے امکانات کو رد کر دیا۔ گزشتہ ہفتہ کے دن اور ہر منگل کے روز اڈیالہ جیل کے باہر احتجاجی حاضری صرف 10فی صد رہ گئی’ احتجاج میں ناکامی پر پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ نیدرجنوں تنظیمیں تحلیل کر دیں جس کے بعد بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے مذاکرات کاروں کی کوششیں رائیگاں ہو گئیں۔ بظاہر معاملات بند گلی میں داخل ہو گئے ہیں۔ پی ٹی آئی نے بحیثیت جماعت گزشتہ ہفتے تحفظ پاکستان کانفرنس کے انعقاد کیلئے 29لاکھ کے اخراجات میں اپنا حصہ صرف 5لاکھ ڈالا تھا جبکہ PTI سے باہر کے لیڈروں مصطفی نواز کھوکھر نے 10لاکھ’ اچکزئی نے 5لاکھ’ راجہ ناصر عباس نے 5لاکھ ادا کئے تھے۔ یوں PTI اپنے قائد کی رہائی سے عملاً لاتعلق نظر آتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں