مسلسل سکرولنگ اور سوشل میڈیا کی نوجوانوں پر بڑھتی ہوئی گرفت

حال ہی میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے کردار اور نوجوانوں کی ذہنی صحت پر ان کے اثرات کے حوالے سے دنیا بھر میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ خاص طور پر مارک زکربرگ، جو میٹا کے چیف ایگزیکٹو ہیں، کو لاس اینجلس کی عدالت میں طلب کیا گیا تاکہ وہ اس الزام کا جواب دیں کہ ان کے پلیٹ فارمز نوجوانوں کو مسلسل سوشل میڈیا پر لگاتار وقت گزارنے کے لیے مجبور کرتے ہیں۔ الزامات کے مطابق انسٹاگرام اور یوٹیوب کے الگوریدمز ایسے ڈیزائن کیے گئے ہیں کہ صارفین کو جذباتی اور دلچسپی پیدا کرنے والے مواد کے ذریعے لمبے وقت تک پلیٹ فارم پر برقرار رکھا جاتا ہے۔میٹا کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ کمپنی نے حفاظتی اقدامات اور والدین کے کنٹرول کے اوزار متعارف کرائے ہیں تاکہ کم عمر صارفین محفوظ رہیں، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ کمپنی کا بنیادی ماڈل زیادہ وقت آن لائن گزارنے کو فروغ دیتا ہے۔ اسی حوالے سے ایک مقدمہ بھی دائر کیا گیا ہے جس میں ایک خاتون نے کمپنی پر الزام عائد کیا کہ اس کے نوجوان بچے کی ذہنی صحت سوشل میڈیا کی وجہ سے متاثر ہوئی۔ اگرچہ دیگر پلیٹ فارمز کے خلاف بھی مقدمات چل رہے ہیں، لیکن دنیا کی توجہ میٹا پر مرکوز ہے کیونکہ اس کی رسائی سب سے وسیع ہے۔پاکستان میں اس مسئلے کی شدت نمایاں ہے۔ ملک میں تقریبا سات کروڑ افراد سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں اور زیادہ تر موبائل فون کے ذریعے ہر وقت اس سے جڑے رہتے ہیں۔ نوجوان طبقے میں روزانہ تین سے پانچ گھنٹے سوشل میڈیا استعمال معمول بن چکا ہے، جبکہ جوان اور بالغ صارفین بھی دو سے تین گھنٹے روزانہ آن لائن گزار دیتے ہیں۔ یہ مسلسل رسائی نوجوانوں کے ذہنی اور جذباتی استحکام پر اثر ڈال رہی ہے۔ماہرین نفسیات اور تعلیم کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ طویل عرصے تک سوشل میڈیا کے استعمال سے بچوں اور نوجوانوں میں ڈپریشن، انزائٹی، نیند کے مسائل، توجہ میں کمی اور جسمانی تشویش جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ پاکستانی کلینکس اور اسکولوں میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ بچے اور نوجوان مسلسل سکرولنگ کی عادت کے باعث اپنی روزمرہ زندگی اور تعلیمی سرگرمیوں پر توجہ نہیں دے پاتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ عادت صرف نوجوانوں تک محدود نہیں بلکہ بڑی عمر کے افراد بھی سوشل میڈیا کی لت کا شکار ہو رہے ہیں۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سوشل میڈیا کے لیے عمر کی حدود ہونی چاہیے؟ معاشرے میں عمر کی بنیاد پر متعدد سرگرمیوں میں حد مقرر ہوتی ہے، جیسے ووٹ دینے، گاڑی چلانے یا شناختی کارڈ حاصل کرنے کی اہلیت۔ لیکن سوشل میڈیا میں کوئی حقیقی پابندی نہیں ہے اور ہر شخص اپنی تاریخ پیدائش درج کرکے اکائونٹ بنا سکتا ہے، چاہے وہ عمر کے لحاظ سے مناسب نہ بھی ہو۔دنیا کے کئی ممالک اس مسئلے کو قانونی طور پر سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر آسٹریلیا نے بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے قوانین متعارف کرائے ہیں تاکہ کم عمر صارفین کے لیے والدین کی رضامندی ضروری ہو اور پلیٹ فارمز کو ذمہ دار بنایا جائے۔ دیگر ممالک بھی اس طرح کے اقدامات پر غور کر رہے ہیں تاکہ الگوریدمز کی شفافیت اور بچوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ابتدائی سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز اتنے پیچیدہ الگوریدمز استعمال نہیں کرتے تھے، لیکن آج کے پلیٹ فارمز مصنوعی ذہانت کے ذریعے صارفین کے رویے کا تجزیہ کرتے ہیں اور مواد کو اسی کے مطابق پیش کرتے ہیں، جس سے زیادہ وقت پلیٹ فارم پر گزارنا یقینی بنایا جاتا ہے۔ اگرچہ عدالت میں قانونی ذمہ داری ابھی طے نہیں ہوئی، مگر حقیقت یہ ہے کہ نوجوانوں کو زیادہ وقت آن لائن رکھنے کے لیے یہ پلیٹ فارمز خاص طور پر ڈیزائن کیے گئے ہیں۔حل کا راستہ توازن میں ہے۔ والدین کو فعال نگرانی کرنی چاہیے، بچوں کے لیے الگ عمر کے مطابق پلیٹ فارمز جیسے یوٹیوب کڈز کے استعمال کو فروغ دینا چاہیے، اور تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل لٹریسی اور ذمہ دار سوشل میڈیا استعمال کے بارے میں آگاہی شامل کی جانی چاہیے۔ ساتھ ہی نوجوان خود بھی اپنی اسکرین ٹائم کو محدود کرنا اور آن لائن مواد کے بارے میں شعور پیدا کرنا سیکھیں۔ سوشل میڈیا اپنی طاقت کے لحاظ سے بے حد موثر ذریعہ ہے۔ یہ تعلیم، تفریح اور رابطے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے، لیکن اگر حدود، شعور اور ذمہ داری نہ ہو تو یہ نوجوانوں کے جذبات، رویوں اور سماجی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ پاکستانی نوجوانوں کے لیے چیلنج یہ ہے کہ رسائی آسان ہے، لیکن اعتدال، شعور اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنا زیادہ ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں