مسلم اُمہ کی یکجہتی ناگزیر قرار (اداریہ)

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی چڑھائی اور اسے تباہ کرنے کا مشن اس وقت پوری شدت سے جاری ہے امریکہ ایران کی قیادت کو ختم کر کے اپنی پسند کی قیادت ایران میں لانے کی خواہش مند ہے تاکہ ایران کے تیل کے ذخیرہ کے ساتھ ساتھ وہاں کے وسائل پر بھی قبضہ کر سکے سچ تو یہ ہے کہ دنیا پر امریکی چوہدراہٹ کی ضد نے اس وقت پوری دنیا کو ایک نئی جنگ میں دھکیل دیا ہے ایران پر اسرائیلی وامریکی حملے سے ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے ارادے کھل کر سامنے آ گئے دوسری جانب پاکستان بھی حالت جنگ میں ہے افغانستان کی جانب سے بھارتی پشت پناہی پر پاکستان میں دہشت گرد حملے کا جس انداز میں پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے بھرپور جواب دیا ہے وہ افغان عوام اور حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے آیت اﷲ خامنہ ای کی امریکی وصہیونی فضائی حملے میں شہادت نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو نہ صرف افسردہ کر دیا ہے بلکہ انہیں امریکی اور اسرائیلی اقوام کے خلاف یکجا بھی کر دیا ہے امریکہ اور اسرائیل نے جدید ترین اور انتہائی خطرناک میزائلوں اور لڑاکا طیاروں سے ایران پر اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلاجواز اور بلااشتعال تابڑ توڑ حملوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا جس کے نتیجہ میں ہزار مرد وخواتین اور بچے شہید وزخمی ہو گئے آیت اﷲ خامنہ ای کی شہادت صرف ایران کے عوام کا ہی بڑا نقصان نہیں بلکہ پوری ملت اسلامیہ کا عظیم نقصان بھی ہے وہ نہ صرف ایک جید عالم دین تھے بلکہ ایک خودمختار ملک ایران کے سپریم لیڈر بھی تھے انہوں نے جس طرح ایران کے عوام کی راہنمائی کی اس کی دنیا بھر میں کوئی مثال نہیں ملتی یہ ایران کی تاریخ کا ایک اہم لمحہ ہے اس طرح کے نقصان کے گہرے جذباتی’ سیاسی اور قومی اثرات ہوتے ہیں ایرانی قوم اس ناقابل تلافی نقصان کا مقابلہ کرنے کی ہمت اور استقامت دکھا رہی ہے بہت جلد امریکی عوام اور ان کے راہنمائوں کو اس بات کا احساس ہو جائے گا کہ اسرائیل نے ٹرمپ کو استعمال کر کے دنیا بھر میں امریکہ کے خلاف نفرت کی لکیر کھینچ دی ہے جن جن ملکوں میں امریکی اڈے تھے وہ حالیہ جنگ میں بری طرح بے نقاب ہو گئے ہیں خود ان ملکوں کے عوام اب اپنے مسلم حکمرانوں سے سوال کر رہے ہیں کہ ان اڈوں کو کیا فائدہ جن کی وجہ سے ہم خوف کی زندگی گزار رہے ہیں اس وقت یہ بات طے ہو گئی ہے کہ اگر مسلم حکمرانوں نے خود کو ایک پلیٹ فارم میں اکٹھا نہیں کیا تو کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کا متنازع بیان امت مسلمہ کو جگانے کیلئے بہت اہم ہے کہ مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک گریٹر اسرائیل کا حصہ ہیں مسلمانوں کے خلاف اس وقت امریکہ کا اسرائیل اور انڈیا کا اتحاد کھل کر سامنے آ گیا ہے دنیا بھر میں امریکی اور اسرائیلی حکمرانوں کو ایران پر حملے کے خلاف سخت نفرت کا سامنا ہے جس کا اظہار عوامی مظاہروں میں کیا جا رہا ہے عالمی سطح پر حالات خطرناک ہو گئے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ نتائج کیا نکلتے ہیں مشرق وسطیٰ میں تضادات شدید سے شدید تر ہوتے نظر آ رہے ہیں اور ان حالات میں مسلم ممالک کے سربراہان کو ایک ہو کر یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور سفارتی سطح پر ان پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس حوالے سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اسرائیل کو ایران کے خلاف کارروائیاں ختم کرنے ایرانی قیادت کو نقصان پہنچانے سے باز رہنے پر مجبور کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں