53

معاشی استحکام کیلئے ریاستی اداروں میں یکسوئی ناگزیر (اداریہ)

ان دنوں پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے لگتا ہے کہ آنے والے حالات مزید مشکل ہوں گے ریاستی اداروں کے مابین مختلف معاملات میں شدت نظر آ رہی ہے پارلیمنٹ کی اپنی سوچ ہے عدلیہ آئین کی تشریح کر رہی ہے امن وامان کی صورتحال اپنی جگہ خراب ہے مہنگائی وبیروزگاری کا عفریت منہ کھولے ہوئے ہے ان حالات میں اگر توانائیاں’ وقت اور وسائل درست سمت میں استعمال نہ ہوں تو اندرونی طور پر بھی مسائل بڑھتے چلے جائیں گے اگر اس صورتحال پر قابو پانا ہے تو سب کو مل کر چلنا ہو گا 25کروڑ عوام حکومت’ سیاسی قیادتوں’ ریاستی اداروں کی جانب دیکھ رہے ہیں مگر ان کو موجودہ صورتحال سے نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا، ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر اور غذائی قلت کا شکار ہیں ملک بحرانوں کا شکار ہے اور بحرانوں سے نکلنے کیلئے ملک کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے سیاسی قیادتیں اپنے اختلافات بھلا کر قوم کی بہتری کیلئے وقف کریں معاشی استحکام سیاسی استحکام سے جڑا ہوا ہے ملک میں جب بھی امن کی فضاء قائم ہوتی ہے تو ایک سیاسی جماعت ملک میں پھر سے ہلچل مچانے کیلئے اپنے کارکنوں کو سڑکوں جلسوں’ جلوسوں کیلئے بلانا شروع کر دیتی ہے لہٰذا ایسے میں یہ کیسے ممکن ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام آئے اور قیام امن کی راہ ہموار ہو سکے لوگوں کو بند گلیوں میں دھکیلنا’ نعرے بازی’ جھوٹے وعدوں’ سبز باغ’ جذباتی تقاریر سے نکل کر عملی اقدامات کرنے سے ہی حالات بہتر ہو سکتے ہیں ریاستی اداروں میں تنائو کے اثرات ملکی معیشت پر اچھے اثرات مرتب نہیں کرتے، گزشتہ کم وبیش دس سالوں سے ملک میں سیاسی عدم استحکام آج بھی موجود ہے جو لاکھ کوششوں کے باوجود بھی جاری ہے وزیراعظم معاشی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے کوشاں ہیں تاہم تاحال ان کو وہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی جس کی توقع کی جا رہی ہے وزیراعظم کے مختلف ممالک کے دوروں کا بڑا مقصد ان ممالک کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں مختلف سیکٹرز میں سرمایہ کاری کی دعوت دینا ہے سوائے چین’ سعودی عرب کے ابھی دیگر ممالک کے سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری سے ہچکچا رہے ہیں جو سیاسی عدم استحکام اور ریاستی اداروں میں یکسوئی نہ ہونے کی وجہ سے ہے یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ملک کسی بھی قسم کے بحران میں ہو، بحران آئینی ہو، معاشی ہو، سیاسی ہو یا امن وامان کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہو جب تک ریاستی ادارے یکسوئی اور اتفاق رائے کے ساتھ کام نہیں کریں گے اتفاق رائے اور مشترکہ حکمت عملی نہیں ہو گی اس وقت تک نہ تو معاشی استحکام ہو سکتا ہے نہ سیاسی استحکام آ سکتا ہے نہ پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے نہ ہی آئینی بحران ختم ہو سکتا ہے ملک کے منتخب وزیراعظم’ افواج پاکستان کے سربراہ’ چیف جسٹس آف پاکستان متفقہ حکمت عملی نہیں اپناتے تو پھر اپنی کشتی ہچکولے کھاتی رہے گی ضرورت اس امر کی ہے کہ مقتدر حلقے سیاسی قیادتوں کو ایک میز پر لا کر سیاسی عدم استحکام کے خاتمہ میں معاونت کریں ملک کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کی کوششوں کو مزید تیز کیا جائے عدلیہ کے ساتھ حکومت کے تعلقات کا خوشگوار ہونا ضروری ہے اگر اس پر توجہ نہ دی گئی تو ملک کے سیاسی حالات سدھر نہیں سکیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں