53

معاشی بحران پر قابو پانا ناگزیر قرار (اداریہ)

پاکستان میں معاشی بحران کے باعث عام آدمی سمیت بزنس کمیونٹی کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے حکمران اقتدار کو طول دینے کیلئے ہاتھ پائوں مار رہے ہیں مشکلات ہیں کہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں مسلسل معاشی بحران نے ملک کو ترقی کی دوڑ میں اتنا بیک کر دیا ہے کہ اس کو صحیح سمت میں ڈالنے کیلئے برسوں لگ جائیں گے ارباب اقتدار مہنگائی کم کرنے میں عملاً ناکام ہو چکے ہیں محض دکھاوے اور ڈنگ ٹپائو قسم کی پالیسیوں سے معیشت میں بہتری ممکن نہیں ہے المیہ یہ ہے سندھ میں پیپلزپارٹی گزشتہ دو دہائیوں سے حکومت میں ہے پنجاب میں شریف فیملی لمبے عرصے سے اقتدار میں جبکہ ”کے پی” میں پی ٹی آئی برسراقتدار ہے لیکن اس کے باوجود عوام کی حالت میں کسی قسم کی کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی ملک کی تینوں جماعتیں پیپلزپارٹی’ (ن) لیگ’ پی ٹی آئی ملک کی معیشت کو بہتر کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں یہ جماعتیں ڈیلیور کرنے میں ناکام رہی ہیں، عوام مہنگائی سے پریشان ہیں لیکن دوسری طرف حکومت اشرافیہ کے مفادات کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں ہر ادارے میں اور شعبہ میں کرپشن کی انتہا ہو چکی ہے قومی ادارے خسارے کا شکار ہیں حکومت بیرونی قرضے حاصل کر کے نظام حکومت چلا رہی ہے معاشی بحران بدتر ہوتا جا رہا ہے جس کا حل سیاسی استحکام کے سوا کچھ اور نہیں جب سیاسی قیادتیں مل بیٹھیں گی اور ملکی معیشت کیلئے متفقہ طور پر یکجان ہو گی تو بتدریج معاشی بحران پر قابو پانا ممکن ہو گا، بدقسمتی سے گزشتہ 7دہائیوں سے جو بھی برسراقتدار آیا اس نے مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا، بجلی گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ بھی کاروباری طبقہ کیلئے مشکلات پیدا کر رہا ہے حکومت کے پاس کوئی ٹھوس منصوبہ بندی نہیں، بزنس کمیونٹی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور ٹیکسوں کے ذریعے محاصل جمع کراتی ہے جو معیشت کیلئے انتہائی اہم ہیں اگر ملک میں ٹیکس دہندگان نہ ہو تو ملکی نظام کا چلنا دشوار ہو جائے، ناقص حکومتی پالیسیوں کے باعث انڈسٹری دم توڑ رہی ہے صنعتکاروں’ برآمدکنندگان اور بزنس کمیونٹی خصوصاً چھوٹے تاجروں دکانداروں میں بے چینی ہے بجلی گیس کے بڑھتے نرخوں کے باعث انڈسٹری مالکان کیلئے صنعتوں کا پہیہ رواں دواں کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے جو لمحہ فکریہ سے کم نہیں! بے روزگاری کا عفریت منہ کھولے غریبوں کو نگل رہا ہے حکمرانوں نے اپنی مراعات میں تو اصافہ کر لیا مگر عوام تاجروں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد پر ٹیکسوں میں اضافہ کر کے ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا ہے ٹیکسٹائل سیکٹر کی حالت بدتر ہو رہی ہے ملک کیلئے زرمبادلہ کمانے والی انڈسٹری اور برآمدکنندگان حکومت کی پالیسیوں سے نالاں ہیں اس صورتحال سے نجات کیلئے حکومت کو غور کرنا ہو گا اور انڈسٹری کا پہیہ رواں دواں کرنے کیلئے انڈسٹری مالکان اور کاروباری اداروں کیلئے مراعات کا اعلان کرنا ہو گا جبکہ تمام سیاسی قیادتوں کو اپنے اختلافات بھلانا ہوں گے معاشی بحران پر قابو پانے کیلئے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں اگر مزید تاخیر کی گئی تو معیشت تباہی کنارے پہنچ جائے گی جو کسی صورت بھی ملک وقوم کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہو گی ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران کفایت شعاری اپنائیں عام آدمی کی حالت سنوارنے پر توجہ دیں پاور کمپنیوں کے ایک لاکھ 90ہزار ملازمین کو مفت بجلی فراہم کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے اسی طرح گیس کمپنیاں بھی ملازمین کو مفت گیس فراہمی کا سلسلہ بند کریں اشرافیہ کو دی جانے والی مراعات ختم کی جائیں اس اقدام سے بھی معاشی بحران پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں