52

معاشی ترقی اور مہنگائی میں کمی کے حکومتی دعوے (اداریہ)

گزشتہ دو دہائیوں سے ملک میں مہنگائی ڈیرے ڈال ہوئے ہے اس پر قابو پانے کے تمام اقدامات بھی مہنگائی میں کمی لانے میں ناکام نظر آ رہے ہیں ملکی معیشت کے حوالے سے حکومت کے دعوے خواہ کچھ بھی ہوں لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عوام مسلسل تنگ دستی اور معاشی تنزلی کا شکار ہیں مدتوں سے یہ بات کہی جا رہی ہے کہ مہنگائی میں کمی آ رہی ہے مگر مہنگائی آج بھی عروج پر ہے بے روزگاری بڑھ رہی ہے سرکاری ملازمتوں کیلئے میرٹ کا خیال نہیں رکھا جا رہا ارباب اختیار من مانیوں میں مصروف موجودہ حالات میں اتحادی حکومت پر بھاری ذمہ داریاں ہیں وفاق چاروں صوبوں کو ساتھ لیکر چل رہا ہے ملکی ترقی اور خوشحالی کیلئے وزیراعظم قوم کو خوشخبری دے رہے ہیں کہ معیشت بتدریج مستحکم ہو رہی ہے، یہ سب کچھ درست ہے مگر حقیقت میں ترقی وخوشحالی کا راز صرف ملک میں اندرونی وبیرونی سرمایہ کاری میں ہے اور اس کیلئے سیاسی استحکام کا ہونا ناگزیر ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ دنوں اپیکس کمیٹی اجلاس میں اس بات کا اعادہ بالخصوص کیا کہ ملک کی معیشت استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے اس کا کریڈٹ انہں نے وفاق اور صوبوں سمیت سب ہی کی جھولی میں ڈالتے ہوئے کہا کہ معاشی اور سیاسی استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں جس کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا وزیراعظم نے نے قوم کو ایک بار پھر نوید دی کہ حالیہ آئی ایم ایف کا پروگرام پاکستان کی تاریخ کا آخری پروگرام ہو گا،’ لیکن یہ کہنے سے نہیں بلکہ محنت دیانت اور خون پسینہ بہانے سے ہی ممکن ہو گا، پاکستان میں معاشی استحکام کیلئے پہلے سیاسی استحکام لازمی ہے آج بھی حکومت اس کام میں ناکام ہے جس کے سبب مسائل حل ہونے کا نام نہیں لے رہے اس وقت بھی مہنگائی عروج پر ہے وزیرخزانہ کہہ رہے ہیں کہ ملکی معیشت سنبھل گئی مہنگائی میں کمی آئی ہے معیشت کی بہتری کیلئے مقررہ اہداف حاصل کر لیں گے اور تمام شعبوں میں اصلاحات جاری رکھی جائیں گی لیکن پوری قوم دیکھ رہی ہے کہ معیشت ابھی تک اس مقام تک نہیں پہنچ پائی جس کی توقع کی جا رہی ہے، گزشتہ دنوں وزیر خزانہ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی ادارے پاکستان کی معاشی کارکردگی کے معترف ہیں علاوہ ازیں بہت سے دوست ممالک پاکستان کی قرض کے ذریعے مدد کر رہے ہیں اور سرمایہ کاری کی بھی یقین دہانیاں کرا چکے ہیں” وزیراعظم اور وزیرخزانہ عوام کے سامنے اپنی حکومتی کارکردگی پیش کر رہے ہیں مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ آخر معاشی ترقی اور مہنگائی میں کمی حقیقی معنوں میں نظر آ نہیں رہی! عام آدمی کے مسائل حل نہیں ہو رہے حکومت کی جانب سے ایسے کوئی اقدامات بھی دکھائی نہیں دے رہے جن کے زیراثر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی واقع ہو ایک دو بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کی جاتی ہیں تو اس سے اگلی مرتبہ میڈیا کے ذریعے عوام کو یہ بتانا شروع کر دیا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف لیوی بڑھانے اور جی ایس ٹی لگانے کیلئے دبائو ڈال رہا ہے آئی ایم ایف کا سارا دبائو عام آدمی کو نچوڑنے پر ہی کیوں ہے؟ کیا آئی ایم ایف نے اشرافیہ اور بیوروکریسی کو سرکاری خزانے سے ملنے والی مراعات وسہولیات کا ذکر کبھی نہیں کیا؟ حکومت عوام کو کیی بار یہ خوشخبری دے چکی ہے کہ مہنگائی سنگل ڈیجٹ پر آ چکی ہے مگر یہ حکومتی دعوے عوام کو مطمئن نہیں کر سکے سبزیاں’ پھل’ دودھ’ دہی’ انڈے’ مرغی کا گوشت’ بیف’ مٹن سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کے نرخوں میں کمی تاحال ممکن نظر نہیں آ رہی ہے اس پر قابو پائے بغیر عوام کے مسائل کیسے حل ہو سکتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ایسی پالیسیں مرتب کرے جن کی بدولت مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کیا جا سکے اگر مہنگائی کم نہ کی جا سکی تو حکومت کی کارکردگی سے عام آدمی مطمئن نہیں ہو سکتا…

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں