31

معاشی ترقی کیلئے برآمدات میں اضافہ ناگزیر قرار (اداریہ)

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ معاشی ترقی کیلئے برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے وزیراعظم کی زیرصدارت ملکی برآمدات کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیراعظم کو مالی سال 2025-26ء کی اب تک کی برآمدات ودرآمدات پر بریفنگ دی گئی، اجلاس میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان’ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب’ وفاقی وزیر قومی غذائی رانا تنویر حسین’ وزیر مملکت برائے خزانہ وریلوے بلال اظہر کیانی’ وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر اور متعلقہ سرکاری افسران نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا حکومت برآمدات میں اضافے کی خاطر کاروباری افراد اور برآمدکنندگان کو ہر ممکن سہولیات پہنچانے کیلئے کوشاں ہے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے فروغ کے لیے ترجیحی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا تاکہ برآمدات کے شعبے میں وسعت کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع بھی بڑھیں، وزیراعظم نے وفاقی وزراء برائے تجارت’ صنعت وپیداوار اور قومی غذائی تحفظ کو مختلف صنعتی وتجارتی شہروں میں برآمدکنندگان کے پاس خود جانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کولڈ چین اور صنعت وتجارت سے منسلک دیگر شعبوں کو فروغ کے لیے صوبوں سے روابط مزید بہتر بنائے جائیں،، وزیراعظم کی اہم وفاقی وزارتوں کے وفاقی وزراء کو برآمدکنندگان سے خود رابطے کر کے تجارت کو فروغ دینے کی ہدایت خوش آئند ہے، وزیراعظم کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں مالی سال 2025-26ء کی اب تک برآمدات اور درآمدات پر بریفنگ دی گئی جس کے بعد وزیراعظم نے کہا کہ حکومت برآمدات میں اضافہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے فروغ کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے پاکستان کی برآمدات میں اضافہ وقت کی ضرورت ہے برآمدات بڑھیں گی تو ملکی معیشت مستحکم ہو گی ماضی کی حکومتوں میں برآمدات میں اضافہ کیلئے قابل ذکر کام نہیں کیا گیا تاہم موجودہ حکومت ملکی معیشت کے استحکام کیلئے برآمدات میں اضافہ کیلئے ہر ممکن اقدامات کرنے کیلئے پرعزم ہے ایک وقت تھا کہ پاکستان کی برآمدات کی بدولت ملکی معیشت نہ صرف مستحکم تھی بلکہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بھی حوصلہ افزاء تھے ملک میں خوشحال کا دور دورہ تھا روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے تھے ٹیکسٹائل ملز سمیت دیگر انڈسٹری کی تین شفٹوں میں ہزاروں افراد کو روزگار میسر تھا تاہم ناقص منصوبہ بندی اور بجلی وگیس کے نرخوں میں ہوشربا اضافہ کے ساتھ ساتھ ٹیکسوں میں اضافہ سے انڈسٹری زوال پذیر ہونا شروع ہو گئی اور صنعتکاروں میں مایوسی پھیل گئی شہباز شریف کی حکومت نے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانے کے ساتھ ساتھ ملک کی معیشت کی بہتری کیلئے فوری فیصلے کر کے پاکستان کو ایک بار معاشی طور پر اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کی سرتوڑ کوششیں کیں غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ ملا انڈسٹری کیلئے مثبت فیصلے کئے گئے اب وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ برآمدات میں اضافہ کے اقدامات کئے جائیں برآمدکنندگان کو سہولیات ملیں گی تو وہ برآمدات بڑھانے کیلئے کوششیں کریں گے انڈسٹری کا پہیہ چلے گا تو روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جب روزگار ملے گا تو عوام خوشحال ہوں گے اور ملک سے بے چینی کا خاتمہ ہو گا ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ملکی برآمدات میں اضافہ کیلئے مؤثر منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ صنعتوں کیلئے بجلی گیس اور ٹیکسوں میں کمی کرے تاکہ صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکے اور ہمارے صنعتکار بیرون ملک کیلئے برآمدات میں اضافہ کریں کیونکہ معاشی ترقی کیلئے برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے اسی میں قومی ترقی اور معیشت کے استحکام کا راز مضمر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں