49

معاشی ترقی کیلئے پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر (اداریہ)

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی’ ترقی’ اصلاحات’ خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کیلئے سال 2024ء اہم ہے جہاں ہم اپنے مستقبل کی سمت متعین کر رہے ہیں اس کے لیے قابل بھروسہ اور معیاری ڈیٹا کی فراہمی ناگزیر ہے تاکہ ہم درست فیصلے کر سکیں اور ٹیکنالوجی کے انقلاب میں دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل سکیں’ معاشی میدان میں ترقی کیلئے ہمیں پالیسیوں کے تسلسل اور استحکام کی اشد ضرورت ہے تاکہ ملک کی معیشت کو استحکام حاصل ہو سکے’ ڈیٹا فیسٹ 2024ء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں تبدیلی کی رفتار تاریخ میں بے مثال ہے تختی سے فائیوجی تک کا سفر ہماری ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والی پیش رفت کی بہترین مثال ہے اس انقلاب کی بنیاد ڈیٹا اور جدید ٹیکنالوجی پر ہے جو ہر شعبے میں تبدیلی لا رہی ہے ڈیجیٹل انقلاب میں ڈیٹا وہ ایندھن ہے جو ترقی کی گاڑی کو آگے بڑھا رہا ہے مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کی ترقی میں ڈیٹا کا معیار نہایت اہم ہے کیونکہ کسی بھی اصول یا نظام کی کارکردگی اس ڈیٹا کی درستی اور معیار پر منحصر ہوتی ہے کسی بھی قوم کی ترقی کے پیچھے کم ازکم 10سال کی مسلسل اور مضبوط پالیسیاں ہوتی ہیں جو ان کی ترقی کی راہ ہموار کرتی ہیں ہمیں بھی ایسے پالیسی فریم ورک کی ضرورت ہے جو طویل المدتی ہو اور تسلسل کے ساتھ عملدرآمد کے ذریعے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے وفاقی وزیر احسن اقبال نے ہمیشہ ملک کی ترقی اور معیشت کی مضبوطی کیلئے پالیسیوں پر زور دیا ہے وہ بہت محنتی اور محب وطن شہری ہیں اور ہر وقت ملک کی ترقی کیلئے فکرمند رہتے ہیں ان کو (ن) لیگ کی حکومت میں ہر دفعہ بہت زیادہ ذمہ داریاں سونپ دی جاتی ہیں مگر اس کے باوجود انہوں نے کبھی بھی بیزاری کا اظہار نہیں کیا معاشی ترقی کیلئے پالیسیوں کے تسلسل کے حوالے سے احسن اقبال اتحادی حکومت کی معاشی ٹیم کو مشورے بھی دیتے رہتے ہیں وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور ان کی معاشی ٹیم ملکی معیشت کے استحکام کیلئے متحرک ہے اور اس کے ثمرات بھی حاصل ہونا شروع ہو چکے ہیں شہباز شریف نے آٹھ فروری کے الیکشن کے بعد وزیراعظم کا عہدہ سنبھالتے ہی سب سے پہلے اپنی توجہ معیشت کی مضبوطی پر مبذول کی اور سعودی عرب’ متحدہ عرب امارات’ چین’ ترکی کے دورے کئے اور وہاں کے سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کر کے ان کو پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی جس کے بعد سعودی عرب متحدہ عرب امارات اور چین کے ساتھ ساتھ ایران نے بھی سرمایہ کاری کے حوالے سے کئی معاہدوں پر دستخط کئے حال ہی میں سعودی عرب اور چین کے سرمایہ کاروں کی جانب سے اربوں ڈالرز کے معاہدے کئے گئے ہیں جس کے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں وزیراعظم شہباز شریف معیشت کو پائوں پر کھڑا کرنے کیلئے تیزی سے کام کر رہے ہیں اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس حوالے سے کامیابی ضرور حاصل ہو گی حکومت نے کفایت شعاری مہم بھی شروع کر رکھی ہے حکومت نے بعض سرکاری اداروں میں رائٹ سائزنگ بھی شروع کر رکھی ہے ہزاروں کی تعداد میں سرکاری آسامیاں ختم کی جا رہی ہیں اس اقدام سے بھی سرکاری خزانے پر بوجھ کم کرنے میں مدد ملے گی ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس نیٹ بڑھایا جا رہا ہے ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور خزانے میں متواتر اضافہ ہو رہا ہے جو خوش آئند ہے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اگر ہماری کوششیں کامیاب رہیں اور ملکی معیشت مستحکم ہو گئی تو شائد اس بار آئی ایم ایف سے ہمارا قرضہ لینے کا پروگرام آخری ہو! خدا کرے معاشی بحران ختم ہو جائے تو اور ہم عالمی مالیاتی اداروں کے آگے قرضوں کے لیے ہاتھ نہ پھیلائیں اگر موجودہ اتحادی حکومت ملک کو معاشی قوت بنانے میں کامیاب ہو گئی تو دنیا میں ہمارے وقار میں اضافہ ہو گا اور عالمی تجارت میں بھی ہمارا حصہ بڑھے گا جس سے معیشت مضبوط اور ملک ترقی کی منازل طے کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں