7

معاشی صورتحال مزید بہتر بنانے کی ضرورت (اداریہ)

وطن عزیز میں مختلف بحران تاحال حل نہیں کئے جا سکے تاہم موجودہ حکومت مسائل حل کرنے کیلئے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے معاشی صورتحال پہلے سے کچھ بہتر ہے تاہم اس کو مزید بہتر بنانا ضروری ہے ماضی کی غلطیوں’ عالمی دبائو’ اندرونی کمزوریوں اور حالیہ اصلاحی اقدامات میں ایک ساتھ اثرانداز ہو رہے ہیں۔ ملک کی معیشت گزشتہ چند برسوں میں جن شدید بحرانوں سے گزری وہ تاریخ میں کم ہی دیکھے گئے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی’ بے قابو مہنگائی روپے کی قدر میں تیز گراوٹ’ توانائی کے بحران اور مالیاتی خسارے نے عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کیا، تاہم اس تاریک منظرنامے میں کچھ ایسے ناقابل تردید حقائق بھی موجود ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ اگر درست سمت میں مستقل فیصلے کئے جائیں تو بہتری کے امکانات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے سب سے پہلے یہ حقیقت تسلیم کرنا ضروری ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا معاشی مسئلہ ساختی نوعیت کا ہے دہائیوں سے ریاستی اخراجات آمدن سے زیادہ رہے ٹیکس محدود رہا اشرافیہ کو مراعات ملتی رہیں اور عام آدمی پر بوجھ بڑھتا گیا پاکستان کی معیشت بیرونی قرضوں پر انحصار کرتی رہی جس کے نتیجہ میں پالیسی سازی میں خودمختاری کمزور ہوتی چلی گئی۔ عالمی مالیاتی اداروں کے پروگرام وقتی ریلیف تو دیتے رہے مگر بنیادی اصلاحات نہ ہونے کے باعث ہر چند سال بعد معیشت دوبارہ اسی دائرہ میں آ کھڑی ہوئی حالیہ برسوں میں مہنگائی نے جس شدت سے عوام کی قوت خرید متاثر کی اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی اشیائے خوردونوش بجلی گیس اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ محض اعداد وشمار نہیں بلکہ کروڑوں خاندانوں کی روزمرہ زندگی کا کڑوا سچ ہے اس کے باوجود یہ بھی حقیقت ہے کہ حالیہ مہینوں میں مہنگائی کی رفتار میں بتدریج کمی دیکھی گئی جو سخت مالیاتی پالیسی طلب میں کمی اور کچھ حد تک استحکام کا نتیجہ ہے یہ کمی اگرچہ عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے کافی نہیں مگر یہ اس بات کا ثبوت ضرور ہے کہ درست پالیسی سے بدلی جا سکتی ہے زرمبادلہ کے ذخائر کے حوالے سے بھی صورتحال مکمل طور پر یکساں کے لیے ناکافی دکھائی دیتے تھے جس سے دیوالیہ ہونے کا خوف حقیقی محسوس ہونے لگا تھا تاہم موجودہ حکومت نے معاشی صورتحال میں بہتری کیلئے فوری فیصلے کئے اور اس کے اثرات محسوس ہونا شروع ہو گئے بے شک معاشی صورتحال میں بہتری آ رہی ہے لیکن اس کے باوجود معیشت کی بہتری کیلئے بہت سے فوری اقدامات کی ضرورت ہے ٹیکس نظام کو مضبوط بنانے کیلئے اقدامات بھی ناگزیر ہیں وزیراعظم کی معاشی ٹیم کی کوششوں سے معیشت کو سنبھالا مل چکا ہے امید ہے معیشت کے استحکام کیلئے ٹھوس اور مؤثر اقدامات میں تاخیر نہیں کی جائے گی مالیاتی اداروں سے حاصل کئے قرضے جتنی جلدی ممکن ہو سکے ان کی ادائیگی کرنی ضروری ہے کیونکہ ہم اس وقت مالیاتی اداروں کے رحم وکرم پر ہیں جب تک ان سے آزادی نہیں ملتی ہم اپنے پائوں پر کھڑے نہیں ہو سکتے ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیکس نیٹ میں اضافہ کیا جائے حکومتی اخراجات میں مزید کمی کی جائے اور اشرافیہ کو دی جانے والی مراعات ختم کی جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں