53

معدنی وسائل سے فائدہ اٹھانا وقت کی ضرورت (اداریہ)

وطن عزیز پاکستان دنیا کے نقشہ میں ایک ایسا عظیم ملک ہے جس میں قدرتی وسائل کے ساتھ ساتھ 4موسم اور ٹھنڈے پانی کے چشمے لذیز ترین پھل’ غذائیت سے بھرپور سبزیاں اور اﷲ تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں موجود ہیں جن سے اس وطن میں رہنے والے فائدہ اٹھا رہے ہیں پاکستان 6لاکھ مربع کلومیٹر کے رقبے پر محیط معدنیات کے بڑے ذخائر سے مالامال ہے بلاشبہ اﷲ نے اس ملک کو وہ سب کچھ عطا کیا ہے جسکی کسی بھی قوم کو خوشحالی وترقی کیلئے ضرورت ہوتی ہے ہمارے پاس ہر قسم کے مناظر ہیں بلند ترین پہاڑ’ زرخیز زمین’ میدان’ دریا’ صحرا اور دنیا کے معروف ترین سمندری تجارتی راستوں کے ساتھ ساتھ وسیع ساحلی پٹیاں ہیں پاکستان کے پاس اپنی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے اﷲ کی جانب سے عطا کئے گئے بے شمار معدنی ذخائر موجود ہیں ہماری زمینوں کے نیچے سونا’ تانبا’ لوہا’ جواہرات’ سنگ مرمر’ تیل’ گیس اور دیگر بہت سی معدنیات موجود ہیں جنہیں ہم حتمی شکل دینے کے بعد اگر صحیح طریقے سے نکال کر مارکیٹ میں لائیں تو اس سے حاصل ہونیوالی آمدنی سے قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے لیکن اس کیلئے ٹیکنالوجی اور مہارت کی ضرورت ہے جس کی ہمارے پاس بہت سے شعبوں میں کمی ہے اس ملک میں 92معروف معدنیات ہیں جن میں سے 52کا تجارتی استعمال کیا جاتا ہے جن کی کل پیداوار 68.52 ملین میٹرک ٹن سالانہ ہے ہمارے ملک میں دنیا کی دوسری بڑی نمک کی کانیں ہیں تانبے سونے کے پانچویں بڑے ذخائر ہیں کوئلے کے دوسرے بڑے ذخائر کے ساتھ ساتھ اربوں بیرل خام تیل بھی موجود ہیں لیکن بدقسمتی سے معدنی ذخائر کی دولت موجود ہونے کے باوجود پاکستان عالمی اداروں سے قرضے لیکر اپنا نظام چلا رہا ہے کیوں؟ صوبہ بلوچستان مین تانبے سونے کے بہت بڑے ذخائر ہیں جو بنیادی طور پر ریکوڈک ضلع چاغی میں موجود ہیں ایک انداز کے مطابق 5.9بلین ٹن سے زیادہ سونے کے ذخائر ہیں انیٹوفاگاسٹا کمپنی ریکوڈک فیلڈمیں ایک لاکھ 70ہزار میٹرک ٹن تانبے اور 3لاکھ اونس سونے کی ابتدائی پیداوار پر کام کر رہی ہے یہ منصوبہ ایک سال میں 3لاکھ 50ہزار ٹن سے زیادہ تانبا اور 9لاکھ اونس سونا پیدا کر سکتا ہے ضلع چاغی میں واقع دہت کوہن نوکنڈی میں تانبے کے ذخائر موجود ہیں تانبے اورسونے کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع ہیں پاکستان کو قدرت نے قیمتی پتھروں کے بے شمار خزانوں سے نوازا ہے ان میں سے کچھ معدنی دنیا میں پاکستان کو نمایاں کرتے ہیں دنیا کے سب سے زیادہ مطلوبہ رنگ کے قیمتی پتھر’ جیسے ایمرالڈ’ روبی’ سیفائر پکھراج’ ایکوامیرین اور ٹورمالائن پاکستان میں پائے جاتے ہیں پاکستان میں پائے جانیوالے نایاب قیمتی پتھروں کے بھی وسیع ذخائر موجود ہیں پاکستان دنیا کے 30فی صد قیمتی پتھر پیدا کرتا ہے پاکستان کے شمالی اور شمال مغربی حصے ہندوکش’ ہمالیہ اور قراقرم تین عالمی مشہور سلسلوں میں گھرے ہوئے ہیں یہ پہاڑ معدنی ذخائر سے بھرپور ہیں گلگت بلتستان میں 34سے زائد اقسام کے قیمتی پتھر تیار کئے جا رہے ہیں سوات میں زمرد مشہور ہے اتنے بھرپور وسائل کے باوجود عالمی منڈی میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے معدنی ذخائر کے باوجود ہمارا ملک مقروض ہے حکومت نے گزشتہ دنوں معدنی ذخائر سے استفادہ کرنے کیلئے اقدامات شروع کرتے ہوئے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک تقریب کااہتمام کیا تھا اس حوالے سے حکومت کو کوششیں تیز کرنا ہونگی معدنی وسائل سے معاشی فائدہ اٹھانے کیلئے جدید ترین ٹیکنالوجی حاصل کی جائے مارکیٹنگ کے طریقوں کو اپ ڈیٹ کیا جانا چاہیے اور معدنی وسائل کی حقیقی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کیلئے ان تمام کوتاہیوں پر قابو پانا چاہیے جن کی وجہ سے ہم معاشی طور پر کمزور ہو رہے ہیں حکومت نے منرلز سے فائدہ اٹھانے کیلئے عالمی کمپنیوں کو آئوٹ سورس کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ انتہائی خوش آئند ہے اس نیک مقصد کے راستے میں روڑے اٹکانے کی بجائے تمام سٹیک ہولڈرز کو حکومت کا بھرپور ساتھ دینا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں