2

مقامی حکومتیں ناگزیر قرار (اداریہ)

دنیا بھر میں مقامی حکومتوں کی شاندار کارکردگی تسلیم کی گئی کیونکہ ان حکومتوں کی وجہ سے عوامی مسائل نہ صرف حل ہوتے ہیں بلکہ یہ ریاست کیلئے انتہائی مند ثابت ہوتی ہیں بلدیاتی یا مقامی حکومت ہی وہ واحد سطح ہے جہاں عوام اور ریاست آمنے سامنے ہوتے ہیں جہاں نہ فائلوں کی طوالت ہوتی ہے نہ طاقت کے غیر مرئی پردے اپنی ناگزیر ضروریات کی تکمیل کے لیے دور دراز علاقوں میں جانے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی نہ ہی اعلیٰ حکام سے ملنے کیلئے جدوجہد کرنی پڑتی ہے مقامی حکومتوں کے نمائندے عوام کی پہنچ میں ہوتے ہیں شہری جانتا ہے کہ اس کے محلے کی نالی کیوں بند ہے گلی کی سڑک کیوں ٹوٹی ہوئی ہے اور اس کا ذمہ دار کون ہے وہ یہ بھی جانتا ہے کہ کس کونسلر یا چیئرمین کی سطح پر اس کا مسئلہ حل ہو جائے گا اور اسے کس سے براہ راست رجوع کرنا ہو گا یہی وہ قربت ہے جو مقامی حکومتوں کو دیگر حکومتی سطحوں سے ممیز کرتی ہے بلدیاتی حکومتوں کو جمہوریت کی نرسری بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں جمہوریت اپنی اصل حالت میں نمایاں طور پر نظر آتی ہے منتخب نمائندے لوگوں کے مسائل ہی حل نہیں کرتے ان کے دُکھ درد میں بھی شریک ہوتے ہیں بیرونی دنیا تو اس حقیقت سے منہ نہیں موڑتے کہ بلدیاتی نظام میں تعطل نہیں آنا چاہیے مگر بدقسمتی سے پاکستان میں بلدیاتی نظام پر طرح طرح کے تجربے کئے جاتے ہیں صوبائی حکومتیں اپنی حکومتوں کو مضبوط کرنے کیلئے بلدیاتی نظام میں تبدیلیاں کرتی ہیں جس کے نتیجہ میں بلدیاتی نظام میں تعطل آتا ہے اور عوام کے مسائل مقامی سطح پر حل نہیں ہو پاتے ہمارے ہاں جب بھی مقامی سطح پر جمہوری نظام کو نپنے کا موقع دیا گیا لوگوں کے روزمرہ مسائل آسانی سے حل ہوئے گلیوں محلوںکی صفائی سے لیکر گٹر سسٹم کی رکاوٹوں کو دور کرنے پانی کی پائپ لائن کی خرابی صفائی ستھرائی وبائی امراض پر قابو پانے کیلئے اقدامات ایک طریقہ کار کے مطابق حل ہو جاتے ہیں مارکیٹ کی صورتحال پر بھی نظر رکھی جاتی ہے عملے کی غفلت کی وجہ سے پید اہونے والے مسائل سادہ کاغذ پر دی گئی ایک درخواست یا رجسٹر میں شکایت درج ہونے پر آسانی سے حل ہو جاتے ہیں اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جب بھی مارشل لائی حکومت نے اقتدار سنبھالا مقامی حکومتوں کے شفاف انتخابات کے ساتھ ساتھ مقامی حکومتوں کو نچلی سطح پر اختیارات سونپے گئے اور مقامی طور پر عوامی مسائل نہ صرف حل ہوئے بلکہ مقامی حکومتوں کے تحت ترقیاتی کام ہوئے مگر جب بھی سیاسی حکومتیں اقتدار میں آئیں بلدیاتی نظام پر ہی وار کیا گیا اور اسے صوبوں کی اسمبلیوں کے ارکان کو فنڈز کی مد میں ترقیاتی فنڈز دیکر ترقیاتی کام کرا کے عوام کو مطمئن کرنے کی کوششیں کی گئیں مگر اس سے نچلی سطح پر عوامی مسائل کا حل ہونا ممکن نہ ہو سکا حکومتوں نے گلیوں محلوں کے معاملات بھی اپنے ہاتھ میں لینے کو ترجیح دی مقامی حکومتوں کے انتخابات اور انہیں بااختیار بنانے سے روگردانی کی گئی جسکے مضر نتائج برآمد ہوئے صوبائی حکومتیں خود تو زیادہ اختیارات کا مطالبہ کرتی رہیں مگر نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی سے بچنے کیلئے مقامی حکومتوں کے انتخابات میں عدم دلچسپی کا پہلو نمایاں رہا یوں نچلی سطح پر صحت’ تعلیم اور متعدد دیگر شعبے متاثر ہوئے عوامی مسائل کو عوامی نمائندے ہی بہتر حل کر سکتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ جمہوری روایات کے مطابق تمام ادارے اپنے اپنے دائروں میں رہتے ہوئے مقامی حکومتوں سمیت تمام اداروں کو قانونی تقاضوں کے مطابق کام کرنے اور کارکردگی دکھانے کا موقع دیں تاکہ نچلی سطح پر نئی قیادت ابھر کر سامنے آتی رہے حکومتیں مخصوص اشرافیہ کی جاگر نہ بنیں اور بلدیاتی انتخابات میں تاخیر نہ کریں بلکہ ان حکومتوں کو تسلسل کے ساتھ چلنے دیں تاکہ جمہوریت یہ نرسریاں جمہوریت کی مضبوطی کیلئے اپنا کام انجام دیتی رہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں