ملکی انڈسٹری کی زبوں حالی اور ایکسپورٹ کمی پر تشویش

فیصل آباد ( سٹاف رپورٹر) سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری اور سینئر سیاستدان رانا زاہد توصیف نے ملکی انڈسٹری کی زبوں حالی ،ابتری اور ایکسپورٹ میں مسلسل کمی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے حکومتی عدم دلچسپی ، مہنگی بجلی ، مہنگی گیس ، بے جا ٹیکسز پورے خطہ میں سب سے زیادہ بنک انٹریسٹ ریٹ ، پیداواری لاگت میں اضافہ و دیگر عوامل کا شاخسا نہ قرار دیا ہے انہوں نے کہا کہ اس و قت ملکی صنعت تیزی سے بند ہو رہی ہے جبکہ بعض ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی ملک چھوڑ کر جا چکی ہیں جو کہ انتہائی لمحہ فکریہ اور حکومت کیلئے باعث تشویش عمل ہے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو 25کروڑ کی آبادی میں کم از کم 4کروڑ لوگ بالواسطہ یا بلاواسطہ انڈسٹری سے منسلک ہیں رانا زاہد توصیف نے کہا کہ اس وقت ٹیکسٹائل انڈسٹری کی حالت زار قابل رحم ہے اس کی بنیادی وجہ خطہ کے دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں بجلی اور گیس کے نرخوں میں آئے روز اضافہ ہے جبکہ دیگر عوامل کے باعث بھی انڈسٹری کو شدید دھچکا لگا ہے انہوں نے کہا کہ گذشتہ ایک سال سے انڈسٹری کو تالے لگ رہے ہیں اور ہزاروں لوگ بے روزگاری کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں موجودہ صورت حال کے تناظر میں انڈسٹری مالکان بھی اضطراب کا شکار ہیں۔ حکومت کو دیکھنا چاہئے کہ انڈسٹری کی بندش سے جہاں ملک میں بے روزگاری بڑھے گی وہاں حکومتی ریونیو میں بھی قدرے کمی ہو گی۔ لہٰذا چھوٹی بڑی انڈسٹری کو بدترین بحران سے نکالنے کیلئے حکومت کو فوری طور پر کوئی حکمت عملی طے کرنا ہو گی ۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ٹیکسٹائل سے منسلک تمام تر صنعتیں بند ہو جائیں گی اس لئے حکومت محض زبانی جمع خرچ کی بجائے صنعت و تجارت کے فروغ کیلئے عملی ،ٹھوس اور مؤثر اقدامات کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں