72

ملکی دفاع ناقابل تسخیر بن چکا (اداریہ)

وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان کا دفاع پہلے ہی مستحکم تھا’ جو اب ناقابل تسخیر بن چکا ہے ہمارے ایٹمی اثاثے ہماری قومی سلامتی کے نگہبان ہیں اور دشمن ہماری جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جسارت نہیں کر سکتا لاہور میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ معرکہ حق میں پاک فوج نے شجاعت تدبر اور مہارت کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا اس فتح کے نتیجے میں پاکستان کا وقار عالمی سطح پر مزید بلند ہوا دنیا نے مشاہدہ کیا کہ ہماری فضائی’ بری اور بحری افواج نے جرأت تکنیکی مہارت اور جدید ٹیکنالوجی کو استعمال میں لا کر نہایت قلیل وقت میں دشمن کو کاری ضرب لگائی انہوں نے کہا کامیاب وہی قومیں اور افواج ہوتی ہیں جو امن کے دنوں میں جنگ کی مکمل تیاری رکھتی ہیں اور پاک افواج نے اسی اصول کو عملی جامہ پہنایا ہے ہماری مسلح افواج ہمہ وقت تیار اور چاق وچوبند رہتی ہیں کوئی بھی فوج عوامی حمایت کے بغیر نہ جنگ لڑ سکتی ہے نہ فتح یاب ہو سکتی ہے آج پاکستانی قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے سیاسی قیادت اور عسکری اداروں کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہے جو صرف دفاع تک محدود نہیں بلکہ اقتصادی استحکام کے لیے بھی ایک مربوط قومی عزم کی غمازی کرتی ہے 6مئی کو بھارتی جارحیت کے ابتدائی گھنٹوں میں ہی ہمارے شاہینوں نے بھارت میں حملے کر کے ان کے چھ جنگی طیارے مار گرائے معرکہ حق میں پاکستان کی اس کامیابی کی پوری دنیا میں دھوم مچ گئی۔ بھارتی وزیراعظم مودی جو پاکستان کو دھمکیاں دیتا تھا اس شکست پر اپنا سا منہ لیکر رہ گیا اسے بھارتی پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے تابڑ توڑ سوالوں کے جواب دینا مشکل ہو گیا مودی کی حالت قابل رحم ہو چکی ہے اس کا اقتدار ڈانواول ہے بھارت نے پاکستان کو ترنوالہ سمجھا تھا مگر جب پاکستان نے اپنی دفاعی قوت کا مظاہرہ کیا تو اس کے ہوش ٹھکانے آ گئے،، بلاشبہ پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہو چکا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت پاکستان پر جارحیت مسلط کرنے سے قبل ضرور سوچے گی کہ اس کا نتیجہ کیا ہو گا! دفاعی فتوحات کے ساتھ ساتھ سیاسی استحکام اور معاشی میدان میں بھی کامیابی کیلئے کوششیں بھی ناگزیر ہیں اس وقت ملک کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے جن میں مہنگائی’ بے روزگاری’ دہشت گردی سرفہرست ہیں حکومت کو ان چیلنجز سے نمٹنے کیلئے بھی ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے معاشی استحکام کے ثمرات عام آدمی تک پہنچنے چاہئیں بعض شعبوں میں اور انتظامی کے باعث صورتحال بدتر ہونا لمحہ فکریہ ہے سرکاری محکموں میں پائی جانے والی خامیوں اور خرابیوں پر بھی حکومت کو کڑی نگاہ رکھنی چاہیے سب سے اہم ضرورت سیاسی استحکام کی ہے اس سلسلے میں سیاسی قیادت کو اپوزیشن کے ساتھ مذکارات کر کے ملکی تعمیر وترقی خوشحالی قومی سلامتی کے حوالے سے ایک پیج پرآنا چاہیے تاکہ پاکستان کے دشمن سیاسی عدم استحکام کا فائدہ نہ اٹھا سکیں پاکستان کو خطے میں قیام امن کیلئے کوششیں جاری رکھنی چاہئیں ساتھ ہی ملک دشمنوں کی شاطرانہ چالوں سے بھی ہوشیار رہنا ہو گا جدید دفاعی سازوسامان کے حصول کیلئے کوششیں جاری رکھنی چاہئیں وقت کے تقاضوں کے مطابق دفاعی تیاریاں ملکی دفاع وقومی سلامتی کیلئے ضروری ہیں ان سے بالکل غافل نہیں رہنا چاہیے…

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں