ملکی زرمبادلہ کے ذخائر21.6ارب ڈالر ہیں

اسلام آباد (بیورو چیف)وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر حکومتِ پاکستان نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (RDA) کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت اب غیر ملکی شہریوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی کمپنیوں اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو بھی روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کھولنے اور حکومتی سیکیورٹیز کے علاوہ نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری کی اجازت دی جائے گی جس پرانہیں پرکشش منافع دیا جائے گا۔اس امر کا اعلان وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے اپنے بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اہم اقدام حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کو عالمی مالیاتی منڈیوں کے ساتھ مزید مضبوطی سے جوڑا جائے اور ایک محفوظ اور شفاف ڈیجیٹل بینکاری نظام کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ دنیا بھر میں مقیم تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ پاکستانیوں پر مشتمل ہماری اوورسیز کمیونٹی دنیا کی بڑی اور متحرک تارکینِ وطن کمیونٹیز میں شامل ہے۔ مشرقِ وسطیٰ سے لے کر یورپ تک، شمالی امریکا سے لے کر مشرقِ بعید تک پاکستانی ماہرین، کاروباری افراد، محنت کش اور طلبہ اپنے میزبان ممالک کی معیشتوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور ساتھ ہی اپنے خاندانوں اور کمیونٹیز کی پاکستان میں مسلسل مدد بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی نہ صرف ملک کی معاشی طاقت کا اہم ذریعہ ہیں بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کی ثقافت، کاروباری صلاحیت اور اقدار کے سفیر بھی ہیں۔قومی معیشت کو مضبوط بنانے میں اوورسیز پاکستانیوں کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مالی سال 2025 میں ترسیلاتِ زر نے ایک تاریخی سنگِ میل عبور کیا اور یہ رقم 38.3 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 26.6 فیصد اضافہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مالی سال 2026 کے دوران ترسیلاتِ زر کے 42 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، یہ شاندار کارکردگی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے پاکستان کی معیشت پر اعتماد اور ملک کی ترقی میں ان کی مسلسل حمایت کا واضح ثبوت ہے۔ ترسیلاتِ زر کی مضبوط کارکردگی کے باعث پاکستان اس وقت دنیا میں ترسیلاتِ زر وصول کرنے والے ممالک میں پانچویں جبکہ جنوبی ایشیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔وزیر خزانہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ترسیلاتِ زر پاکستان کے بیرونی کھاتوں کو مستحکم رکھنے میں سب سے اہم کردار ادا کر رہی ہیں، انہی کی بدولت ملک ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے اور اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے میں کامیاب ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 16.3 ارب ڈالر ہیں جبکہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 21.6 ارب ڈالر ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو پاکستان کے مالیاتی اور بینکاری نظام سے مزید جوڑنے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کمرشل بینکوں کے تعاون سے 10 ستمبر 2020 کو روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کا آغاز کیا تھا۔ اس اسکیم کا نعرہ دور رہ کر بھی پاس ہے۔ اس اقدام کا مقصد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ایک مکمل ڈیجیٹل اور آسان نظام کے ذریعے پاکستان کے بینکاری اور سرمایہ کاری کے نظام سے جوڑنا تھا۔انہوں نے بتایا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ ایک نمایاں ڈیجیٹل بینکاری سہولت ہے جس کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانی گھر بیٹھے بینک اکاؤنٹ کھول سکتے ہیں، حکومتی سیکیورٹیز اور نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں، پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں اور پاکستان میں جائیداد بھی خرید سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں مختلف جدید ڈیجیٹل بینکاری خدمات بھی دستیاب ہوتی ہیں۔وزیر خزانہ نے اس اقدام کی نمایاں کامیابیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً ساڑھے پانچ سال قبل شروع ہونے والا روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ پروگرام اہم سنگِ میل حاصل کر چکا ہے۔ فروری 2026 کے اختتام تک 9 لاکھ سے زائد روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کھولے جا چکے ہیں جبکہ ان اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر 12 ارب ڈالر سے زائد کی رقم آ چکی ہے۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں شامل بینکوں کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو جدید بینکاری سہولیات فراہم کرنے اور اس اسکیم کی تیز رفتار کامیابی پر مبارکباد دی۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے دائرہ کار کو غیر ملکی شہریوں، کمپنیوں اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں تک بڑھانے سے پاکستان ایک پرکشش سرمایہ کاری کی منزل کے طور پر مزید مضبوط ہوگا اور ملکی مالیاتی منڈیوں کو بھی فروغ ملے گا۔وزیر خزانہ نے اپنے بیان میں عالمی سرمایہ کاروں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لیے مکمل طور پر کھلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جاری اصلاحات، مضبوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مالیاتی نظام تک رسائی میں وسعت عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ، شفاف اور سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ انہوں نے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو دعوت دی کہ وہ پاکستان میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھائیں اور ملک کے معاشی مستقبل کے شراکت دار بنیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں