ملکی ماحولیاتی خسارہGDPکے2.4فیصد تک محدود

اسلام آباد(بیوروچیف) پاکستان کا مجموعی مالیاتی خسارہ رواں مالی سال کے ابتدائی نو مہینوں میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 2.4 فیصد یعنی تقریبا 30 کھرب روپے تک محدود رکھا گیا جس میں صوبوں کی طرف سے 10 کھرب روپے کے فاضل محصولات کا بڑا کردار رہا۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق وفاقی حکومت کی خالص ریونیو وصولیاں 74 کھرب روپے رہیں، جب کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت 50 کھرب روپے صوبوں کو منتقل کیے گئے۔ وفاقی حکومت کا کل مصروف شدہ خرچ 114 کھرب روپے رہا جس کے نتیجے میں وفاقی سطح پر بجٹ خسارہ 40 کھرب روپے کے قریب رہا۔ تاہم صوبوں کی جانب سے 10 کھرب روپے کا فاضل بجٹ فراہم کیے جانے کے بعد مجموعی بجٹ خسارہ مارچ 2025 کے اختتام تک 30 کھرب روپے یا جی ڈی پی کا 2.4 فیصد تک محدود کر دیا گیا۔ اب آئی ایم ایف کا مشن آئندہ ہفتے پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ آئندہ بجٹ کے لیے مجموعی مالیاتی اور بجٹ فریم ورک پر بات چیت کی جا سکے۔رواں مالی سال کے پہلے نو مہینوں کے دوران مجموعی محصولات 133 کھرب روپے جبکہ کل اخراجات 163 کھرب روپے (جو کہ جی ڈی پی کا 13.2فیصد بنتے ہیں) رہے، لہذا بجٹ خسارہ 29 کھرب 70 ارب روپے (جی ڈی پی کا 2.4فیصد) ریکارڈ کیا گیا۔پرائمری بیلنس (بغیر سود کے مالیاتی توازن) میں 34 کھرب روپے (جی ڈی پی کا 2.8 فیصد) کا فاضل ریکارڈ کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں