45

ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن (اداریہ)

وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ معیشت بتدریج مستحکم ہو رہی ہے بیرونی سرمایہ کاروں کا منافع باہر جانے ایل سی نہ کھلنے کے مسائل ختم ہو گئے 30جون کو ختم مالی سال ملٹی نیشنلز کا 2.3ارب ڈالر کا منافع باہر گیا ہے ایف بی آر کے اضافی اختیارات کا انکم ٹیکس نہیں سیلز ٹیکس سے تعلق ہے حکومت کے پاس جتنی مالیاتی اسپیس تھی اتنا ریلیف تنخواہ داروں کو دے چکے ہیں غذائی اشیاء کی قیمتیں کم یا زیادہ ہوتی رہتی ہیں، ایف بی آر کے اضافی اختیارات 5کروڑ روپے سے زائد سیلز ٹیکس غبن کرنے والے فرد پر لاگو ہوں گے 24سرکاری اداروں کو نجکاری کمیشن کے حوالے کر دیا گیا ہے بیمار صنعتوں کی بحالی میں بینکوں کو اسپانسرز کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ریفنڈ مسائل کو جلد حل کر لیا جائے گا،، دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے آسان اور قومی زبان اردو میں ٹیکس گوشوارے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ انہیں بھرنے کے عمل میں مدد کیلئے ہیلپ لائن قائم کی جائے ڈیجیٹل انوائسنگ کا بھی اردو میں اجراء اور ٹیکس اصلاحات میں عام آدمی کی سہولت پر توجہ مرکوز کی جائے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا تاریخی سطح عبور کرنا کاروباری برادری کے ملکی معیشت پر اعتماد کا مظہر ہے حکومت کی اولین ترجیحات میں ٹیکس بیس کا اضافہ اور غریب آدمی پر ٹیکس کے بوجھ میں مزید کمی شامل ہے ملک معاشی استحکام کے بعد معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے،، وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر خزانہ وسینیٹرمحمد اورنگ زیب نے قوم کو ملکی معیشت کے استحکام کی جانب گامزن ہونے کی خبریں دی ہیں جو خوش آئند ہیں ملکی معیشت کو مستحکم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس کے لیے سب سے ضروری چیز صنعتوں کی بحالی برآمدات میں اضافہ ہے مگر حکومت ان دونوں شعبوں کو ابھی تک بام عروج پر لیجانے میں کامیاب نہیں ہو سکی دونوں شعبوں کو مکمل طور پر فعال بنائے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل کرنا دشوار ہے حکومت کو صنعتوں کیلئے بجلی’ گیس سستی کرنے ٹیکسوں میں کمی کرنے کے فوری اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ بیمار صنعتوں کی بحالی کیلئے صنعتکار اقدامات کر سکیں انڈسٹری سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے بدقسمتی سے انڈسٹری پر حکومتی توجہ نہ ہونے سے یہ مسلسل خسارے کا شکار ہے اور صنعتکار انڈسٹری میں شفٹیں کم کرنے پر مجبور ہیں جبکہ مہنگے خام مال کی وجہ سے انڈسٹری کی بندش سے بے روزگاری بڑھ رہی ہے عالمی منڈی میں ہماری مصنوعات مہنگی ہونے کے باعث ان کی طلب میں کمی ہو رہی ہے جو لمحہ فکریہ ہے جب تک صنعتوں کی بحالی’ کاروباری کمپنیوں کے رُکے ہوئے ریفنڈ سمیت دیگر مسائل حل نہیں ہوں گے اس وقت تک معیشت کو عروج پر پہنچانے کا خواب پورا نہیں ہو گا وزیراعظم’ وزیر خزانہ اور معاشی ٹیم کو اس معاملے پر بھی غور کرنا ہو گا ایک وقت تھا کہ پاکستان کی برآمدات کا عالمی منڈیوں میں راج تھا مگر پھر ایسا وقت بھی آیا کہ بھارت بنگلہ دیش ہم سے برآمدات بڑھانے میں بازی لے گیا مگر ہماری حکومت نے اس تنزلی کا نوٹس نہیں لیا اب جبکہ ملکی معیشت ترقی کی جانب گامزن ہونے کی نوید سنائی جا رہی ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ انڈسٹری کی بحالی اور برآمدات پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو اور ہم قرضے لینے کیلئے عالمی مالیاتی اداروں کے دست نگر نہ رہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں