57

ملکی معیشت استحکام کی راہ پر گامزن (اداریہ)

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت معیشت کی صورتحال کے جائزہ کیلئے اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف وفود سے ہونیوالی ملاقاتوں پر بریفنگ دی’وزیراعظم کوبتایا گیا کہ ملکی معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہے اور بیرونی سرمایہ کار حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کررہے ہیں’معاشی اقدامات کی بدولت اسٹاک مارکیٹ میں تیزی آگئی ہے کاروباری سرگرمیوں میں اضافے سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہورہے ہیں’ترسیلات زر میںاضافہ سے زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہوئے ہیں’پنجاب میں زرعی شعبے میں ہونیوالی اصلاحات بھی لوگوں کی معاشی حالت بہتر بنانے میں معاون ہونگی لیکن مجموعی قومی معیشت کی ترقی کیلئے تمام شعبہ جات کو ٹیکس ادا کرنا پڑیں گے۔اجلاس کے شرکاء کو معاشی اعشاریوں ‘مہنگائی کی موجودہ صورتحال’ٹیکس چوری اور اس میں معاونت کرنیوالوں کیخلاف کارروائیوں سے آگاہ کیا گیااور فیصلے کیے گئے’وزیراعظم نے معاشی خود کفالت کیلئے قومی اور بین الاقوامی سطح پر جاری حکومت کوششوں پربھی روشنی ڈالی۔اتحادی حکومت کی ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کی کوششیں بتدریج کامیابی سے ہمکنار ہوتی جارہی ہیں اقتصادی مشکلات پر قابو پانے کیلئے اپنے طور پر اٹھائے جانیوالے حکومتی اقدامات اور کچھ آئی ایم ایف اور دوسرے قرض دہندگان کی شرائط پر عملدرآمد کی بدولت ملکی معیشت میں یقینا بہتری آرہی ہے’زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کی نوید مل رہی ہے ترسیلات زر بھی بڑھی ہیں مگر ابھی بہت کام کرنا باقی ہے’حکومت کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ مہنگائی کی شرح میں کمی آئی ہے مگر یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ کئی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ بھی ہوا ہے’توانائی شعبہ میں گردشی قرضہ2.393ٹریلین روپے تک پہنچ گیا ہے اور رواں مالی سال میں مزید36ارب روپے کے اضافہ کا خدشہ ہے نئے ٹیکسوں کے نفاذ اور پرانے ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کا بوجھ بھی صارفین کی پریشانی کا باعث ہے اور بھی بہت سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے عوام کی قوت خرید متاثر ہوئی ہے مگر ان تمام مسائل کا حل اورمعاشی بدحالی مزید اقدامات کی متقاضی ہے’تجارتی خسارہ پر قابو پانے ‘انڈسٹری کا پہیہ چلانے’روزگار کے مواقع بڑھانے’غربت میں کمی کیلئے مؤثر اقدامات بھی ناگزیر ہیں ملک میں سیاسی عدم استحکام غیر ملکی سرمایہ کاری میں بڑی رکاوٹ ہے حکومت اس جانب بھی توجہ دے ‘ذخیرہ اندوزوں ‘ناجائز منافع خوری’سمگلنگ کے دھندہ نے ملکی تجارت اور معیشت کو بھی نقصان پہنچایا ہے اس بارے بھی سخت پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے’اتحادی حکومت کو معاشی استحکام کیلئے مزید کوشش کرنا ہوں گی ‘بلا شبہ موجودہ حکومت نے عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد حاصل کر لیا ہے تاہم اس کے باوجود بھی حکومت کو معیشت کی بحالی کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں’ایف بی آر کی کارکردگی کوبھی بہتر قرار دیا جارہا ہے کہ اس نے بعض سخت اقدامات کرکے ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرکے ملکی خزانے میں گذشتہ سال کی نسبت زیادہ محاصل جمع کرائے ہیں جو خوش آئند ہے’اس حوالے سے ایف بی آر کو عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی طرف سے دئیے گئے اہداف پہ زیادہ سے زیادہ توجہ مبذول کرنی چاہیے تاکہ وہ سرخرو ہوسکے’وزیراعظم کی معاشی ٹیم خصوصاً وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی کارکردگی مثالی ہے ‘امید ہے کہ وہ اپنے وعدے کے مطابق آئی ایم ایف سے پاکستان کی قرضوں کے حوالے سے جان چھڑانے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں