54

ملک بھر میں جشن آزادی ملی جوش وجذبہ سے منایا گیا (اداریہ)

ملک میں 77واں جشن آزاد ملی جوش وجذبہ سے منایا گیا نمازفجر کے بعد مساجد میں ملک کے امن وسلامتی اور خوشحالی کیلئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں تحریک آزادی پاکستان کے شہداء کے لیے قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مرکزی تقریب منعقد ہوئی صوبائی دارالحکومتوں میں جشن آزادی کی تقاریب کا انعقاد کیا گیا سرکاری ونجی عمارتوں کے ساتھ ساتھ گلیوں’ بازاروں اور عوامی مقامات کو سبز پرچموں سے سجایا گیا تھا ملک بھر میں سکولوں کے بچوں سمیت ہر مکتبہ فکر کے افراد نے ریلیاں نکالیں ریلیوں میں پاکستان زندہ باد کے نعرے گونجتے رہے مختلف سیاسی’ سماجی’ مذہبی تنظیموں کی جانب سے ملک کے 77ویں یوم آزادی کے حوالے سے رنگارنگ تقریبات کا اہتمام کیا گیا مقررین نے تحریک پاکستان کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ان کے کارہائے نمایاں پر روشنی ڈالی’ وفاقی دارالحکومت اور چاروں صوبائی حکومتوں میں اس موقع پر سخت سکیورٹی کا انتظام کیا گیا گلگت بلتستان اور آزاد جموں وکشمیر میں بھی جشن آزادی منایا گیا کراچی میں مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب منعقد ہوئی جبکہ تمام دن بھر سیاسی سماجی مذہبی اور اہم شخصیات کی جانب سے مزار قائد پر بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا رہا لاہور میں علامہ اقبال کے مزار پر بھی تقریب ہوئی جس میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے خصوصی شرکت کی اس موقع پر سخت سکیورٹی کے انتظامات کئے گئے تھے صوبہ پنجاب کے تمام 36اضلاع اور ان کی تمام تحصیلوں میں سرکاری طور پر جشن آزادی منایا گیا جبکہ سماجی’ فلاحی’ سیاسی تنظیموں نے تقاریب کا انعقاد کیا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر جسن آزادی کے جلوسوں ریلیوں کی حفاظت کیلئے انتظامیہ اور پولیس نے فول پروف انتظامات کئے تھے مجموعی طور پر پنجاب بھر میں امن وامان رہا فیصل آباد ڈویژن میں قیام امن کیلئے آر پی او ڈاکٹر عابد خان کے احکامات پر ڈویژن بھر کی پولیس الرٹ رہی اور کہیں بھی کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ کی رپورٹ نہیں ملی’ جھنگ’ چنیوٹ’ ٹوبہ ٹیک سنگھ’ فیصل آباد کے اضلاع میں جشن آزادی انتہائی جوش وخروش سے منایا گیا کمشنر آفس میں محترمہ سلوت سعید نے پرچم کشائی کی قومی ترانہ پڑھا گیا تفریحی مقامات پر سکیورٹی سخت رہی منچلے موٹرسائیکلوں پر پاکستان کے پرچم لہرائے ریلیوں میں شریک ہوئے اس موقع پر ڈولفن فورس کے سکواڈ’ پولیس اہلکاروں اور ٹریفک پولیس نے بھی ٹریفک کی روانی کے لیے بہترین انتظامات کئے خواتین اور بچوں کا تفریحی مقامات پر رش رہا جشن آزادی کی تقریبات رات گئے تک جاری رہیں” 14اگست یوم آزادی پر ہم خوب ہلہ گلہ کرتے ہیں خوشیاں مناتے ہیں لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ دن بہت غوروفکر کا دن ہے یہ ان بے شمار افراد کی قربانیوں کو یاد کرنے کا وقت ہے جنہوں نے ملک کی آزادی کے لیے جدوجہد کی، پاکستان کا 77واں یوم آزادی نہ صرف ماضی کا جشن ہے بلکہ مستقبل کی جانب امید اور عزم کے ساتھ دیکھنے کا موقع بھی ہے پچھلی سات دہائیوں میں پاکستان کا سفر صبر’ عزم’ ترقی کا رہا ہے جیسے جیسے قوم آگے بڑھ رہی ہے اسے اپنے بانیوں کے اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے چیلنجز کا مقابلہ بہادری کے ساتھ کریت ہوئے اور اپنے تمام شہریوں کے لیے ایک خوشحال مستقبل تعمیر کرنے کی کوشش جاری رکھنی چاہیے قائداعظم کے الفاظ میں ایمان’ اتحاد’ نظم وضبط کے ساتھ’ کوئی بھی قابل قدر چیز ایسی نہیں ہے جسے آپ حاصل نہ کر سکیں ہم سب کو عہد کرنا ہو گا کہ ہم ملکر ایک مضبوط’ خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھیں گے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں بھی ایک آزاد اور خود مختار مملکت میں سانس لے سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں