7

ملک بھر میں یکساں بلدیاتی نظام ناگزیر قرار (اداریہ)

اس حقیقت سے کسی صورت انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بلدیاتی نظام ہی عوامی مسائل کا حل ہے جب تک پورے ملک میں یکساں بلدیاتی نظام نہیں ہو گا اس وقت تک نچلی سطح پر عوام کے مسائل کا حل ممکن نہیں ہو سکتا بدقسمتی سے ہمارے ملک میں بلدیاتی نظام پر نت نئے تجربے کئے جاتے رہے ہیں جس کی وجہ سے چاروں صوبوں میں مختلف نظام رائج ہیں جو عوامی مسائل کو حل کرنے کے بجائے بڑھا رہے ہیں جو لمحہ فکریہ سے کم نہیں مؤثر بلدیاتی نظام ہی عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے کا ضامن ہو سکتا ہے ایسا بلدیاتی نظام جس میں زیادہ سے زیادہ اختیارات’ وسائل یونین کونسل تحصل وضلع کی سطح پر تفویض کئے گئے ہیں بلدیاتی نمائندوں کو خود بخود ان کی یونین کونسل تحصیل وضلع کے ترقیاتی فنڈز ملنے چاہئیں جس سے وہ ترقیاتی بورڈ سے منظوری لیکر متعلقہ ڈپٹی کمشنر کے ذریعے کام کرائیں ہر ضلع کے ترقیاتی بورڈ میں مقامی اراکین صوبائی وقومی اسمبلی اور نیسٹ اور مقامی بریگیڈیئر سطح کا آرمی آفیسر ممبرز ہوں اور ہر ضلع کی مقامی منتخب قیادت ہی اس ضلع کے ترقیاتی منصوبوں میں کامیابی سے چلنے والے اپیکس کمیٹیوں کی طرز پر کمیٹی جو ترقیاتی منصوبوں کی منظوری فنڈز کے استعمال اور ترقیاتی منصوبوں کے معیار کی جانچ پڑتال کرے سابق صدر وجنرل پرویز مشرف کے دور میں سب سے بہتر بلدیاتی نظام رائج تھا جس میں ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ ترقیاتی کام کرائے گئے بلدیاتی ادارے سیاست کی نرسریاں ہیں اور انہی نرسریوں سے صوبائی قومی سینیٹ میں نمائندگی کیلئے راہنما جنم لیتے ہیں مگر ہمارے ہاں بلدیاتی نظام کو صوبائی حکومتیں اور سیاستدان اپنی مرضی کے مطابق چلانا چاہتے ہیں چند خاندانوں کا سیاست پر قبضہ ہے اور یہ کسی بھی طور پر اختیارات’ اقتدار اور وسائل کو نکلنے نہیں دیا جا رہا دنیا بھر میں مقامی حکومتوں کا نظام ہے منتخب نمائندے عوام کے مسائل کو ان کی دہلیز پر حل کرتے ہیں اختیارات کو انتہائی نچلی سطح تک منصفانہ تقسیم سے وفاقی وصوبائی حکومتیں بہت سے مسائل سے آزاد رہتی ہیں اور آزادی کے ساتھ قانون سازی پر توجہ دیتی ہیں پرویز مشرف بے شک فوجی حکمران تھے مگر انہوں نے اپنے دور اقتدار میں باقاعدگی سے بلدیاتی انتخابات کرائے اور ملک بھر میں اختیارات ضلع تحصیل اور یونین کونسل کو تفویض کئے ان کے دور میں ریکارڈ ترقیاتی کام ہوئے کسی ایم این اے’ ایم پی اے کو ترقیاتی فنڈز نہیں دیئے گئے بلکہ ترقیاتی فنڈز کا استعمال مقامی حکومتوں کے ذریعے کیا گیا اس سے ملک میں تعمیر وترقی کے نئے دور کا آغاز ہوا اور عوام کافی حد تک مطمئن تھے اس وقت سب سے زیادہ مسائل نچلی سطح پر ہیں اور بلدیاتی نظام کے غیر فعال ہونے سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لہٰذا اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پورے ملک میں یکساں بلدیاتی نظام رائج کیا جائے صوبائی حکومتیں بلدیاتی اداروں کو اختیارات منتقل کریں ارکان قومی وصوبائی اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دینے کے بجائے بلدیاتی نمائندگان کو فراہم کئے جائیں بلوچستان’ سندھ’ خیبرپختونخوا اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات ایک ہی جیسا نہیں جو مسائل پیدا کر رہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاستدان ماضی کے رویے ترک کر کے دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی قانون سازی کر کے ملک میں ایک جیسا بلدیاتی نظام رائج کر کے غیر حمایتی بنیادوں پر ہر دور میں بلدیاتی الیکشن کرانے کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کریں تاکہ نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی سے عوام کے مسائل حل کرنے میں کامیابی حاصل ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں