65

ملک میں سیاسی جوڑتوڑ کا کھیل عروج پر (اداریہ)

ان دنوں ایک بار پھر ملک میں سیاسی جوڑ توڑ کا کھیل عروج پر ہے حکومت آئینی پیکج اور مختلف آئینی ترامیم کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپنی نمبر گیم پوری کرنے کیلئے کوشاں ہے جبکہ حزب مخالف حکومت کو ہر سطح پر ناکام بنانا چاہتی ہے گوکہ ہمارے ملک میں سیاسی قوت کا کھیل کوئی نیا نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے یہ سلسلہ چل رہا ہے اور شائد چلتا رہے آجکل سوشل میڈیا کا دور ہے اور اب تو گھر بیٹھے ہی کوئی بھی سیاسی شخصیت اخبارات کی شہ سرخیوں میں آ جاتی ہے جس کا کئی بار ہم نظارہ کر چکے ہیں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ اور پاپولر میڈیا جسے فیس بک بھی کہتے ہیں ایک جادو کا کام کر رہے ہیں ایک کلک پر کوئی بھی شخص ہزاروں افراد کے ساتھ رابطے میں آ جاتا ہے، ہمارے ملک میں پاور پالیٹکس کا کھیل اب اگلے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے آئینی ترامیم کے سلسلے میں جو کچھ پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کے باہر ہو رہا ہے یہ جوڑ توڑ کا کھیل عروج پر پہنچا ہوا ہے کہیں اراکین پارلیمنٹ کے اغواء کے ڈرامے اور ڈرانے دھمکانے کی بات ہو رہی ہے تو کہیں لین دین کے معاملات طے ہونے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے حکومت اور اپوزیشن مولانا فضل الرحمان کے گھر کے دن رات چکر لگا رہے ہیں کبھی خبر آتی ہے کہ مولانا حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں تو کبھی یہ خبر ملتی ہے کہ فضل الرحمان اپوزیشن کا ساتھ دیں گے اور کبھی فضل الرحمان کی بھاری شرائط اور مطالبات کا ذکر ہوتا ہے ایک عجیب سی کیفیت ہے عوام بے بسی سے یہ سب تماشا دیکھ رہے ہیں کہ ان کے منتخب نمائندے جنہیں اپنے مسائل کے حل کیلئے اسمبلی میں بھیجا گیا ہے وہ ان کے مسائل سے منہ موڑ کر پاور پالیٹکس کا خوفناک کھیل کھیل رہے ہیں پارلیمنٹ میں ہونے والی آئینی ترامیم کا جائزہ لیں تو کبھی بھی کوئی بھی ترمیم عام آدمی کی فلاح اور بہتری کے پیش نظر نہیں ہوئی ہمیشہ حکمران اشرافیہ کو ہی فائدہ پہنچانے کے لیے یہ کھیل رچایا جاتا ہے ہمارے ہاں کہنے کو تو جمہوریت ہے مگر جمہوریت کہیں نظر نہیں آ رہی جمہوری معاشروں میں اظہار کی آزادی ہوتی ہے ایک دوسرے کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے، ہمارے ہاں بہت سے دانشور اسٹیبلشمنٹ کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ نقصان ہمارے جمہوریت کے علمبردار راہنمائوں نے پہنچایا ہے اختلاف رائے یا سیاسی اختلاف ذاتی دشمنیوں میں تبدیل ہوئے سیاست کو اقتدار اور اختیارات کے حصول کا ذریعہ بنایا گیا بعدازاں جمہوریت کے نام پر عوامی ووٹ کے ذریعے اقتدار حاصل کیا گیا جب اقتدار مل گیا تو عوامی نمائندے عوام سے لاتعلق ہو گئے اور ووٹرز کو بھلا کر اقتدار کے مزے لینے لگے نتیجتاً عوام کے مسائل میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور عوامی نمائندگان کی تجوریاں بھرتی رہتی ہیں جو لمحہ فکریہ سے کم نہیں یہ ایسا کھیل جو جمہوری سوچ’ فکر’ معاشرت کیلئے خطرہ بن رہا ہے، عدالتی اختیارات کے نام پر جس طرح عدلیہ کو بے اختیار کرنے’ ان اختیارات پر قبضہ کرنے اور حکومت کے طول اقتدار کیلئے جو راستہ اپنایا جا رہا ہے سیاسی حلقوں میں اسے پذیرائی نہیں مل رہی یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر عدالتی اصلاحات کرنا ہی مقصود ہے تو اس میں جلدی کے بجائے پارلیمنٹ کے تمام ارکان کو قائل کر کے ساتھ لیکر قانون سازی کی جائے دن رات جوڑ توڑ کی سرگرمیاں یہ ظاہر کر رہی ہیں کہ حکومت مخالفین کو نیچا دکھانے کیلئے ہر حد تک جانے کیلئے تیار ہے اور عدالتی اصلاحات کے لیے اس وقت نمبر آف گیم پوری کرنے کیلئے کوشاں ہے مولانا فضل الرحمان کو رام کرنے کیلئے اہم شخصیات کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں جو رابطوں میں مصروف ہیں، عدلیہ’ پارلیمنٹ’ حکومت’ حزب اختلاف ایک دوسرے کے سامنے آ گئے اگر سیاسی راہنمائوں کی آپس کی لڑائیاں’ ریشہ دوانیاں اور اختلافات ختم نہ ہوئے اور اختلافات کی سیاسی جنگ یونہی جاری رہی تو عوام کی فلاح اور بہتری کیلئے کام کیسے ہو گا؟ ملک کو نازک حالات سے کون نکالے گا ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فریقین ذاتی انا کے خول سے باہر نکل کر قوم اور ملک کی بہتری کیلئے سوچیں کیونکہ وطن ہے تو سب کچھ ہے! پاور پالیٹکس کو ملک دشمنوں’ دہشت گردوں’ مہنگائی’ بیروزگاری کیخلاف استعمال کر کے اس سے بہترین نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں