ملک کی آبادی241.5ملین سے تجاوز کر چکی ہے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) ملک کی آبادی 241.5 ملین سے تجاوز کر چکی ہے اور موجودہ سالانہ شرح نمو 2.55 فیصد کے مطابق، 2030 تک یہ 300 ملین اور 2050 تک 400 ملین کے قریب پہنچنے کا امکان ہے، جو زندگی کے معیار اور بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے شدید چیلنجز پیدا کر رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی کی ہدایت پر شعبہ دیہی عمرانیات کے زیراہتمام منعقدہ سیمینار برائے آبادی کے مسائل پر آگاہی سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نائمہ نواز نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونٹی میں آگاہی، رویوں میں تبدیلی، تولیدی صحت کی خدمات تک رسائی اور باخبر فیصلے مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک صحت مند اور متوازن معاشرہ یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں۔ انہوں نے آبادی میں اضافہ کو کنٹرول کرنے میں تعلیم خاص طور پر خواتین کی تعلیم کی اہمیت پر زور دیا۔ ڈپٹی ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر آفیسر طیبہ اعظم نے کہا کہ آبادی میں اضافہ صحت، تعلیم، روزگار اور قدرتی وسائل پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔ انہوں نے پائیدار ترقی کے حصول کے لیے آگاہی، خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات، خواتین کو بااختیار بنانے اور نوجوانوں کی شمولیت کو کلیدی حکمت عملی قرار دیا۔ پنجاب فیملی پلاننگ پروگرام کے ڈویژنل کوآرڈینیٹر محمد انور احمد نے کہا کہ آبادی میں اضافہ اقتصادی استحکام، خوراک کی حفاظت اور سماجی ترقی کے لیے سنگین چیلنجز پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں اور پاپولیشن ویلفیئر ڈپارٹمنٹس کے درمیان تعاون ذمہ دارانہ آبادی کے نظم و نسق اور معاشرتی پائیداری کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں