36

ممبئی ٹرین دھماکوں کے 12مسلمان ملزمان بیگناہ قرار (اداریہ)

ممبئی ہائیکورٹ نے اہم فیصلے میں 2006ء کے ممبئی ٹرین دھماکوں میں سزا یافتہ تمام 12مسلمان افراد کو بے گناہ قرار دیکر بری کر دیا عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ کے دلائل میں تضادات تھے اور شواہد ناکافی تھے، اعترافی بیانات ناقابل اعتماد تھے اور واقعات کی کڑیاں مکمل نہیں تھیں’ استغاثہ ان کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں بُری طرح ناکام رہا، یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ ملزمان نے یہ جرم کیا۔ بھارتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق جسٹس انیل ایس کلود اور جسٹس شیام سی چندک پر مشتمل خصوصی ڈویژن بنچ نے مہاراشٹرا کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت کے 2015ء کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا، جس نے 5ملزمان کو سزائے موت اور 7کو مختلف دفعات کے تحت عمر قید کی سزا سنائی تھی 12 میں سے ایک ملزم کمال احمد ولد محمد وکیل انصاری 2021ء میں ناگپور جیل میں قید کے دوران کورونا وبا کا شکار ہو کر انتقال کر گیا تھا، بنچ نے ریمارکس میں کہا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف کیس کو معقول شک سے بالاتر ثابت کرنے میں بُری طرح ناکام رہا لہٰذا ان کی سزا کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اصل مجرم کو سزا دینا قانون کی حکمرانی اور عوام کی سلامتی کے لیے ضروری قدم ہے لیکن اگر کیس کو غلط طور پر حل شدہ ظاہر کیا جائے تو یہ عوامی اعتماد کو دھوکہ دیتا ہے اور حقیقی خطرہ برقرار رہتا ہے’ یہی اس مقدمے کا پیغام ہے یاد رہے کہ 11جولائی 2006ء کو ممبئی کی 7لوکل ٹرینوں میں شام 5بجکر 23منٹ سے 6بجکر 29منٹ کے دوران 7بم دھماکے ہوئے تھے جن میں 187افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے تقریباً 824زخمی ہوئے تھے، اس واقعے کے بعد ممبئی کے مختلف تھانوں میں 7الگ ایف آئی آرز درج کی گئی تھیں جنہیں بعد میں یکجا کر کے انسداد دہشت گردی سکواڈ کے حوالے کیا گیا تھا اے ٹی ایس نے 13افراد کو گرفتار کیا تھا جن کے ساتھ 15مفرور اور 2پہلے سے فوت شدہ ملزمان کیخلاف بھی مقدمہ چلایا گیا عمر قید پانے والے 7ملزمان میں تنویر احمد’ محمد ابراہیم انصاری’ محمد ماجد’ محمد شفیع’ شیخ محمد علی’ عالم شیخ’ محمد ساجد مرغوب انصاری’ مزمل اطہر الرحمان شیخ’ سہیل محمود شیخ اور ظہیر احمد لطیف الرحمان شیخ شامل تھے ایک اور ملزم عبدالواحد کو خصوصی عدالت نے 9سال قید کے بعد بری کر دیا تھا استغاثہ نے عینی شاہدین برآمدگیوں اور اعترافی بیانات کی بنیاد پر کیس بنایا تھا عدالت نے کل 8گواہان کے بیانات کا جائزہ لیا جن میں ٹیکسی ڈرائیورز’ بم نصب کرنے والے افراد اور بم تیار کرنے والے اور سازش کے گواہ شامل تھے عدالت نے سزائے موت پانے والے 5ملزمان کی سزائیں منسوخ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایم سی او سی کی عدالت 30ستمبر 2015ء کے فیصلے کی توثیق کرنے سے انکار کرتے ہیں تمام ملزمان کے خلاف تمام الزامات کالعدم قرار دیئے جاتے ہیں عدالت نے حکم دیا کہ اگر ملزمان کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں ہیں تو انہیں فوری رہا کر دیا جائے عدالت نے کمال انصاری کے وفات پا جانے کا بھی نوٹس لیا اور کہا کہ حتمی فیصلہ ان پر بھی لاگو ہو گا فیصلہ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے سنایا گیا جس میں ملزمان نے مختلف جیلوں سے شرکت کی، فیصلے کے بعد کئی ملزمان اپنے وکلاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جذباتی ہو گئے،، 19سال بعد ممبئی ٹرین دھماکوں کے تمام مسلمان ملزمان کو انصاف ملا ہائیکورٹ ملزمان کو بے گناہ قرار دیکر بری کر دیا جس سے یہ ثابت ہو گیا کہ ممبئی ٹرین حملے بھارتی حکومت کا ایک ایسا ڈرامہ تھا جس کے ذریعے مسلمانوں کو شدید دبائومیں لانا اور اپنی سیاست چمکانا تھا بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نت نئی سازشیں تیار کرنا عام سی بات ہے جس کا مقصد حکومت کو بھارتی عوام میں مقبولیت دلانا ہے حال ہی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایک چال چلی تھی اور پہلگام میں دہشت گردی کے واقعہ کا الزام پاکستان پر لگا کر اس کے سیاسی فائدے اٹھانے کی کوشش کی مگر مودی کے اس ڈرامے کا انجام پوری دنیا نے دیکھا مودی کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا بھارت اقلیتوں کے لیے کسی طور بھی محفوظ ملک نہیں رہا مسلمانوں کو خاص طور پر نشانہ بنانا ہندوئوں کا وطیرہ بن چکا ہے پہلگام واقعہ کی تحقیقات میں پاکستان نے شامل ہونے کی پیشکش کی تھی مگر مودی حقیقت سامنے آنے سے ڈر کر بھاگ گیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف اور پاکستان پر جتنے بھی بھارتی حکمرانوں نے الزامات عائد کئے وہ سب بھارتی ایجنسیوں کے کارنامے تھے آہستہ آہستہ سب ڈرامے سامنے آ رہے ہیں ممبئی ٹرین بم حملوں سے بھارتی حکمرانوں نے وقتی طور پر فائدہ حاصل کیا مگر ممبئی کی ہائیکورٹ نے کیس کی حقیقت کا جائزہ لیکر تمام 12مسلمان ملزمان کو بے گناہ قرار دیا جو حق سچ کی فتح ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں