منافع خور مافیا بے لگام ،کھجور،پھلوں کی قیمتوں میں ہوشر با اضافہ

جڑانوالہ (نامہ نگار) ”خود ساختہ مہنگائی کا جن بے قابو” کھجور کی قیمت میں 4ہزار روپے فی من سے 12 ہزار فی من تک اصافہ نے عوام کی چیخیں نکال دیں،عوامی سماجی حلقوں کا وزیراعلیٰ پنجاب،کمشنر، ڈپٹی کمشنر فیصل آباد اور اسسٹنٹ کمشنر جڑانوالہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ،تفصیلات کے مطابق رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں ذخیرہ اندوزوں نے خود ساختہ مہنگائی کرکے حکومتی احکامات کو ہوا میں اڑا دیا ہے ایک طرف پھلوں سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے تو دوسری جانب کھجور کے کاروبار سے منسلک ذخیرہ اندوز اور دکاندار من مرضی کے ریٹ وصول کر رہے ہیں ذخیرہ اندوزی میں ملوث مافیا اور دکانداروں نے کھجور کی قیمت میں 4 ہزار روپے سے لیکر 12 ہزار روپے تک کا اضافہ کر دیا ہے رمضان المبارک سے قبل 400 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہونیوالی کھجور 500 سے 550 روپے تک اور 600 روپے فی کلو والی کھجور 700 سے 800 روپے تک جبکہ 800 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہونیوالی کھجور 1000 روپے تک فروخت ہو رہی ہے ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوری میں ملوث دکاندار ایک طرف خود ساختہ مہنگائی کرکے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ رہے ہیں تو دوسری جانب مبینہ طور پر غیر معیاری کھجوروں کی فروخت کرکے عوام کی حق تلفی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ روزہ داروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کی بجائے اضافہ ہو جاتا ہے کجھور کی قمیتوں میں بے تحاشا اضافہ نے مہنگائی کے بوجھ تلے دبی عوام کی مشکلات کو بڑھا دیا ہے اوپن مارکیٹ میں ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری میں ملوث دکانداروں کی جانب سے کھجور کی قیمت میں 4 ہزار روپے فی من سے لیکر 12 ہزار روپے من تک اصافہ سراسر زیادتی کے زمرے میں آتا ہے روزہ داروں کا کہنا ہے کہ تحصیل و ضلعی انتظامیہ عملی طور پر خود ساختہ مہنگائی کے مرتکب دکانداروں اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث مافیا کیخلاف بلاامتیاز کریک ڈان کرے اور حکومتی نرخوں کے مطابق کجھور سمیت پھلوں سبزیوں کی فراہمی یقینی بنائیں تاکہ روزہ دار اور عام شہری حقیقی معنوں میں حکومتی ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں