موجودہ ادائیگی کے غیر یقینی طریقہ کار کی وجہ سے ریجنل اخبارات مالی بحران کا شکار

لاہور(بیوروچیف)اے پی این ایس کی ریجنل پریس کمیٹی کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین محمد ہمایوں گلزار کی زیر صدارت لاہور کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا۔ شرکا اجلاس نے مطالبہ کیا کہ کلیئرنس کا سابقہ نظام بحال کیا جائے۔ کیونکہ کلائنٹ سے ڈائریکٹ ادائیگی میں بہت تاخیر کا سامنا ہے جس کے نتیجہ میں پرنٹ میڈیا کے ادارے بالخصوص ریجنل اخبارات موجودہ ادائیگی کے غیر یقینی طریقہ کار کی وجہ سے شدید مالی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ وفاق کے متعدد اداروں کی طرف سے اخبارات کے طویل عرصہ سے بل واجب الادا ہیں۔ اشتہارات کی سنٹر لائزیشن پالیسی ختم کی جائے اور کلائنٹ(اداروں) کو اپنا میڈیا تجویز کرنے کی سابقہ پالیسی بحال کی جائے اس سے اخبارات کے اشتہارات کے حجم میں نمایاں اضافہ ہو گا اورساتھ ہی ساتھ پی آئی ڈی کو مختلف اداروں کے اشتہارات کے میڈیا میں ایڈیشن کی زیادہ گنجائش میسر آئے گی۔پی آئی ڈی کے ریجنل دفاتر کراچی، حیدر آباد، کوئٹہ، لاہور اور پشاور کو بھی با اختیار بنایا جائے مذکورہ دفاتر کے تجویز کردہ میڈیا کو تبدیل کرنے کی پالیسی کو فوری طور پر ختم ہونا چاہئے۔ ریجنل اخبارات کے 25فیصد کوٹہ کے مطابق ریجنل اخبارات کی ایڈیشن کو یقینی بنایا جائے کیونکہ25 فیصد کوٹہ کے مطابق ریجنل اخبارات کو ان کا حق نہیں مل رہا کیونکہ ریجنل کوٹہ سے نیشنل اخبارات کی ایڈیشن کی جا رہی ہے اس طریقہ کار کو ختم ہونا چاہئے۔ رجسٹریشن کی تجدید اور پبلشر کے انتقال کے بعد ڈیکلریشن کے طریقہ کار کو سہل بنایا جائے اس ضمن میں غیر ضروری اور پیچیدہ کارروائی کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ عرصہ دراز سے حکومتی اشتہارات کے نرخوں میں اضافہ تاحال التوا کا شکار ہے، وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے اشتہارات کے نرخوں میں اضافہ کے فیصلے پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔ اجلاس میں اے پی این ایس کی ایگزیکٹو کمیٹی سے درخواست کی گئی کہ چاروں صوبائی کمیٹیوں میں سے ایک ایک یا دو دو فعال ممبرز کو شامل کر کے اسلام آباد میں موجود ریکوری کے معاملات کو دیکھنے کے لئے متحرک و فعال ریکوری کمیٹی بنائی جائے جو اسلام آباد سمیت مختلف تمام وفاقی و خود مختار سرکاری اداروں سے واجب الادا بلوں کی ادائیگی کے معاملات بہتر بنا سکے۔اجلاس میں درج ذیل اراکین نے شرکت فرمائے، وائس چیئرمین ریجنل اے پی این ایس ممتاز پھلپوٹو، جاوید مہر شمسی(کلیم)، ممتاز شاہ(مشرق کوئٹہ)، سید منیر جیلانی (پیغام) ، عرفان اطہر قاضی (جرات)، نور اللہ(جنگ)، محسن سیال(آفتاب)، ہمایوں طارق(ڈیلی بزنس رپورٹ) ،شاہد محمود(تجارتی رہبر) ، رائو نعمان اسلم(عبادت)، سید عرفان شاہ(رات)، فیضان اطہر قاضی(تجارت)۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں