85

موجودہ حالات میں سیاسی قائدین کی ذمہ داریاں (اداریہ)

جماعت اسلامی اور استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہوں نے الیکشن میں ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے پارٹی عہدے چھوڑ کر ایک اچھی جمہوری مثال قائم کر دی ہے، چیئرمین استحکام پاکستان پارٹی جہانگیر ترین نے آئی پی پی چیئرمین کے عہدے سے استعفیٰ دینے اور سیاست سے کنارہ کشی کرنے کا اعلان کر دیا، دوسری جانب سراج الحق نے جماعت اسلامی کی امارت سے استعفیٰ دیدیا جبکہ پرویز خٹک نے سیاست سے وقفہ لینے کا اعلان کیا ہے، یہ حقیقت ہے کہ یہ سیاسی قائدین بھرپور کوشش اور محنت کے باوجود عام انتخابات میں وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے جس کی توقع کی جا رہی تھی اور ان کا مستعفی ہونا جمہوری اقدار کو فروغ دینے کا باعث بنے گا، ان کی جماعتیں ان کے استعفوں پر غور کرینگی، موجودہ سیاسی صورتحال میں اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے، اﷲ کرے ملک میں حکومت سازی کے معاملہ پر بھی سیاستدان جمہوری اقدار کو مدنظر رکھیں، اس وقت معاشی حالات بھی غور طلب ہیں، حکومت سازی سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث پاکستان سٹاک ایکسچینج میں گزشتہ روز بھی مندی کا تسلسل برقرار رہا، مندی کے سبب 85فیصد حصص کی قیمتیں گر گئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے دو کھرب’ چونسٹھ ارب’ باون کروڑ’ انتیس لاکھ تین سو اٹھانوے روپے ڈوب گئے’ انتخابات میں غیر متوقع نتائج اور حکومت سازی کیلئے ابھی تک اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی کے بادل چھائے رہے جبکہ آئی ایم ایف کا اگلے جائزے کو نئی حکومت کے قیام کے ساتھ مشروط کئے جانے اور عام انتخابات کے بعد سیاسی افق پر موجودہ صورتحال ڈالر کی طلب میں اضافے کا باعث بھی بننے لگی ہے جس سے ڈالر کی قدر میں اتار چڑھائو کے بعد معمولی نوعیت کا اضافہ ہو گیا ہے، موجودہ سیاسی صورتحال میں اس طرح کی باتیں بھی سنائی دینے لگی ہیں کہ کیا پاکستان دوبارہ ڈیفالٹ کے دھانے پر آ جائے گا، پاکستانی حکام کو نئی حکومت کے قیام کے بعد آئی ایم ایف مشن کے دورے کی توقع ہے جو تین ارب ڈالرز کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) کی تکمیل کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے جو 12اپریل 2024ء کو ختم ہونے والا ہے اور پھر متوقع درمیانی مدت کے بیل آئوٹ پیکج کی نمایاں خصوصیات کو حتمی شکل دینا تاکہ بیرونی قرضوں کی واپسی پر ڈیفالٹ کو روکا جا سکے، آئی ایم ایف نے اپنی حالیہ سٹاف رپورٹ میں کہا ہے کہ پروگرام کے ڈھانچے کو مکمل کرنے کیلئے کافی وقت فراہم کرنے کیلئے 15مارچ 2024ء تک دوسرے جائزے کیلئے رسائی کو دوبارہ جاری رکھا جائے گا، وزارت خزانہ کے جائزے کے مطابق آئی ایم ایف کا جائزہ مشن رواں ماہ کے آخر یا اگلے ماہ کے شروع میں اسلام آباد کا دورہ کر سکتا ہے بشرطیکہ حکومت کی تشکیل وفاقی اور صوبائی سطح پر کر دی جائے، اگر نئی حکومت کی تشکیل کے معاملہ پر آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر ہوئی تو پاکستان کو ادائیگیوں کے توازن کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، یہ کام بڑا اہم ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے دوسرے جائزے کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے، موجودہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز عدم استحکام کے خاتمے کی فکر کریں، سیاسی مخالفت فیصلوں پر غالب نہیں آنی چاہیے، اپنی اپنی غلطیوں کا تجزیہ کیا جائے، کشادہ دلی سے سچائی اور تدبر کی بات کی جائے، اﷲ کریم ملک وقوم کا حافظ وناصر ہو، الیکشن کمیشن سمیت مختلف قومی ادارے عام انتخابات کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریاں پوری کر چکے ہیں، اب سیاسی جماعتوں کے قائدین اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور افہام وتفہیم کے ساتھ حکومت سازی کے مرحلے کو طے کیا جائے تاکہ ملک میں سیاسی ومعاشی استحکام پیدا ہو، ملک کو موجودہ صورتحال سے نکالنا سیاسی قائدین کا فرض ہے اور امید ہے کہ وہ اپنا یہ فرض قومی خدمت کے جذبہ سے ادا کرینگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں