71

سیاستدانوں کے درمیان افہام و تفہیم کی ضرورت (اداریہ)

قوم کی نظریں اس جانب مرکوز ہیں کہ عام انتخابات کے بعد مرکز میں حکومت کون بنائے گا، تاہم پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے وفاق اور پنجاب میں حکومت سازی کے معاملات پر اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں شرکاء نے کھل کر اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور وفاق میں حکومت بنانے یا نہ بنانے کے حوالے سے اراکین کی متضاد آرا سامنے آئیں، شرکاء نے تجویز دی کہ موجودہ حالات میں مسلم لیگ (ن) کو پیپلزپارٹی کے بغیر وفاق میں حکومت نہیں بنانی چاہیے جبکہ وفاق اور پنجاب میں حکومت سازی کے فریم ورک’ پنجاب میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر سمیت صوبائی کابینہ ارکان کے ممکنہ ناموں’ پنجاب میں اتحادی یا تنہا حکومت بنانے اور اتحادی جماعتوں کی خواہشات کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ وفاق میں پاکستان پیپلزپارٹی سمیت دیگر اتحادیوں کو دیئے جانیوالے ممکنہ عہدوں پر بھی مشاورت کی گئی، اراکین نے یہ تجویز بھی دی کہ سیاست نہیں ریاست بچائو فارمولے کے تحت وفاق میں حکومت بنانے کیلئے سنجیدہ کاوش کی جائے، تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر وفاق میں مشترکہ حکومت سازی کی جائے اور قومی مفاد میں اجتماعی ذمہ داریوں کے تحت ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کیلئے اپنا اپنا حصہ ڈالا جائے، مسلم لیگ (ن) کے اجلاس میں سیاست نہیں ریاست بچائو فارمولے کے تحت اقدامات اٹھانے کے حوالے سے جو تجاویز دی گئیں وہ خوش آئند ہیں، اس وقت نظر تو یہی آ رہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن)’ پاکستان پیپلزپارٹی اور دیگر اتحادی جماعتیں مرکز میں مخلوط حکومت قائم کرینگی اور اس سلسلے میں ان جماعتوں کے مابین بات چیت بھی جاری ہے، اﷲ کرے سیاسی جماعتیں حکومت سازی پر جلد کوئی فیصلہ کریں اور یہ فیصلہ ایسا ہونا چاہیے جو ملک وقوم کے بہترین مفاد میں ہو، عام انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے عوام میں اضطراب پیدا ہو رہا ہے، الیکشن میں دھاندلی کے الزامات کو عالمی ذرائع ابلاغ نے جس طرح کوریج دی اس نے پاکستان کے عالمی تشخص کو متاثر کیا ہے، عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کیخلاف گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے زیراہتمام جامشور میں دھرنا دیا گیا جبکہ جماعت اسلامی نے احتجاجی مظاہرے کئے اور پاکستان تحریک انصاف آج احتجاج کر رہی ہے اور اس نے آج عوام سے کاروباری سرگرمیاں معطل رکھنے کی اپیل کر دی ہے، عوام موجودہ صورتحال سے پہلے ہی مضطرب دکھائی دیتے ہیں اور اس کے معاشی حالات پر بھی اثرات ظاہر ہو چکے ہیں، انتخابی نتائج کے خلاف سیاسی جماعتوں کے احتجاجی مظاہروں’ دھرنوں سے پیدا حالات کے نتیجہ میں سیاسی بحران بڑھ جانے کا خدشہ ہے، گزشتہ روز سٹاک ایکسچینج میں مندی کے بادل چھائے رہے جس کے نتیجے میں انڈیکس کی 61000 اور 6000 کی دو نفسیاتی سطحیں بھی گر گئیں، مندی کے سبب 72 فیصد حصص کی قیمتیں گریں جبکہ سرمایہ کاروں کے مزید 1کھرب 66ارب 24کروڑ 2لاکھ 11ہزار 280 روپے ڈوب گئے، کاروبار کے آغاز پر چند لمحوں کے لیے 153 پوائنٹس کی تیزی بھی ہوئی لیکن سیاسی بے چینی اور مالیاتی مسائل کے تناظر میں نئی حکومت کیلئے چیلنجز کے خدشات پر سرمایہ کاروں نے حصص کی آف لوڈنگ میں اپنی عافیت تصور کیا، ان حالات سے ظاہر ہوا ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال سرمایہ کاروں کے اعتماد پر اثرانداز ہو رہی ہے لہٰذا ملک میں سیاسی ومعاشی استحکام کے لیے مل جل کر اقدامات اٹھانا سب کی ذمہ داری ہے، اس مرحلے پر حکومت سازی کیلئے کوششیں کرنے والی سیاسی جماعتوں کو وہ تمام ممکنہ مسائل سامنے رکھنا ہونگے جن کا انہیں حکومت سنبھالتے ہی سامنا کرنا پڑے گا، ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ نئی حکومت کو وجود میں آتے ہی آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے کرنا ہونگے، اس صورتحال سے نکلنے کیلئے ہمیں حکومتی سطح پر بھی سادگی کے کلچر کو فروغ دیکر قومی خزانے پر بوجھ کو کم کرنا ہو گا اور تمام سیاسی جماعتیں سیاست نہیں ریاست بچائو کے فارمولے پر عمل پیرا ہو جائیں تو ملک میں معاشی وسیاسی استحکام پیدا ہو گا اور ملک وقوم کو بحرانوں سے نکال کر ترقی وخوشحالی کی شاہراہ پر گامزن کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں