16

موجودہ حکومت کی ناکامیوں اور چیلنجوں کا ایک سفر

پاکستان کی موجودہ حکومت، جو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں ہے اور جسے پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل ہے، اپنی حکمرانی کی کارکردگی پر شدید جانچ پڑتال کا سامنا کر رہی ہے۔ ان دو جماعتوں کے درمیان یہ اتحاد، جو کبھی ایک دوسرے کے سخت حریف تھے، عوام میں حیرت کا باعث بنا ہے اور عوامی اعتماد کو مجروح کیا ہے۔ملک کی معیشت شدید مشکلات کا شکار ہے، جس میں مہنگائی، بیروزگاری، اور غربت کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت کی ان اہم مسائل کو حل کرنے میں ناکامی نے اس کی معیشت کو مثر طریقے سے سنبھالنے کی صلاحیت پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔ کرنٹ اکائونٹ خسارہ بڑھ چکا ہے، اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ضروری اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے باعث عام آدمی کی زندگی دن بہ دن مشکل ہوتی جا رہی ہے۔سابقہ تحریک انصاف (PTI) کی حکومت نے غربت میں کمی، کرنٹ اکائونٹ کے توازن میں بہتری، اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کیا تھا۔ تاہم، موجودہ حکومت ان کامیابیوں کو برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہے اور معیشت کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ عام آدمی کی تکالیف میں مزید اضافہ حکومت کی طرف سے صحت کی مناسب سہولیات اور تعلیمی مراکز کی فراہمی میں ناکامی سے ہوا ہے۔ورلڈ بینک کے مطابق، پاکستان میں غربت کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، اور لاکھوں افراد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ حکومت کی معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی ناکامی نے عام آدمی کی زندگی کو بہتر بنانے کی اس کی صلاحیت پر سنگین سوالات کھڑے کیے ہیں۔ سابقہ حکومت کی احساس پروگرام جیسی سماجی بہبود کی سکیموں نے غربت کو کم کرنے اور عام آدمی کی زندگی کو بہتر بنانے میں مدد کی تھی۔ مگر موجودہ حکومت ان اقدامات کو آگے بڑھانے میں ناکام رہی ہے اور غربت کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔بدعنوانی موجودہ دورِ حکومت کے لیے ایک اہم چیلنج بنی ہوئی ہے، جہاں حکومتی اہلکاروں اور سیاست دانوں پر بدعنوانی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ بدعنوانی کو دور کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے میں حکومت کی ناکامی نے شفافیت اور احتساب کے حوالے سے اس کے عزم پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔ نیشنل اکائونٹیبلیٹی بیورو (NAB)کو بدعنوانی کے معاملات میں اس کے انتخابی طریقہ کار پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، بہت سے لوگوں کا الزام ہے کہ اس ادارے کو سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔حکومت کے اقتدار کے غلط استعمال نے ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں بھی تشویش پیدا کی ہے۔ جبری گمشدگیوں اور تشدد جیسے غیر قانونی اقدامات کے استعمال پر بڑے پیمانے پر تنقید کی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے آزادی اظہار اور اجتماع کو محدود کرنے کی کوششوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، بہت سے لوگ ان اقدامات کو اختلافِ رائے کو دبانے کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں۔حکومت نے میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے ہیں، جس سے ملک میں صحافت کی آزادی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ سچ کی آواز کو دبانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ رویہ شفافیت اور احتساب کی اقدار کے خلاف ہے، جو کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے ضروری ہے۔موجودہ حکومت کا زیادہ تر زور اپنی تشہیر اور میڈیا کو کنٹرول کرنے پر ہے۔ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی حقیقت سے زیادہ دعوں اور پروپیگنڈا پر توانائی صرف کی جا رہی ہے۔ یہ حکومت کا ایک اور بڑا مسئلہ ہے، جہاں عوامی وسائل کو حقائق کو چھپانے اور حکمرانوں کی شاندار امیج بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔موجودہ دورِ حکومت کی اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکامی نے ملک کو مثر طریقے سے چلانیکی اس کی صلاحیت پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ حکومت کو عام آدمی کی فلاح و بہبود کو ترجیح دینی چاہیے اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقداما ت کرنے چاہئیں۔ اس میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانا، انسانی حقوق کا تحفظ، اور جمہوری مکالمے کو فروغ دینا شامل ہے۔ حکومت کو سابقہ حکومت کی کامیابیوں سے سبق سیکھنا چاہیے اور ان اقدامات کو آگے بڑھانا چاہیے تاکہ عام آدمی کی زندگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ پاکستان کا مستقبل حکومت کی ان چیلنجز سے نمٹنے اور جمہوری مکالمے کو فروغ دینے کی صلاحیت پر منحصر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں