29

موسمیاتی تبدیلی اور جنگلات

موسمیاتی تبدیلی موجودہ دور کا ایک سنگین عالمی مسئلہ ہے جس کے اثرات قدرتی وسائل، انسانی زندگی اور ماحولیاتی نظام پر واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ جنگلات اس ماحولیاتی نظام کا ایک بنیادی جزو ہیں جو نہ صرف کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کر کے درجہ حرارت کو متوازن رکھتے ہیں بلکہ حیاتیاتی تنوع، پانی کے ذخائر اور انسانی معاش کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم، موسمیاتی تبدیلی نے جنگلات کے وجود، صحت اور پائیداری کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ جنگلات پر براہِ راست منفی اثر ڈال رہا ہے۔ زیادہ گرمی کی وجہ سے درختوں کی نشوونما متاثر ہوتی ہے، ان کی عمر کم ہو جاتی ہے اور بعض اقسام کے درخت مخصوص علاقوں میں زندہ نہیں رہ پاتے۔ اس کے علاوہ، گرمی میں اضافے سے جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتی درخت، جنگلی حیات اور قدرتی مسکن تباہ ہو رہے ہیں۔ یہ آگ فضا میں مزید کاربن کے اخراج کا سبب بنتی ہے اور موسمیاتی تبدیلی کی رفتار کو تیز کر دیتی ہے۔بارش کے نظام میں تبدیلی بھی جنگلات کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ کہیں شدید بارشیں سیلاب کا باعث بنتی ہیں جو درختوں کی جڑوں کو نقصان پہنچاتی ہیں، جبکہ کہیں طویل خشک سالی جنگلات کو کمزور کر دیتی ہے۔ پانی کی کمی کے باعث درخت بیماریوں اور کیڑوں کے حملوں کا شکار ہو جاتے ہیں، جس سے جنگلات کی بڑے پیمانے پر تباہی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس صورتحال میں جنگلات کی قدرتی بحالی کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے۔موسمیاتی تبدیلی جنگلا ت میں موجود حیاتیاتی تنوع کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر رہی ہے۔ موسم اور درجہ حرارت میں تبدیلی کے باعث کئی پودوں اور جانوروں کی اقسام اپنی قدرتی رہائش گاہیں تبدیل کرنے پر مجبور ہو رہی ہیں یا معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ حیاتیاتی تنوع میں کمی ماحولیاتی توازن کو بگاڑ دیتی ہے، جس کے منفی اثرات زراعت، پانی کے نظام اور انسانی خوراکی تحفظ پر بھی پڑتے ہیں۔ جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے درمیان تعلق دو طرفہ ہے۔ ایک جانب موسمیاتی تبدیلی جنگلات کو نقصان پہنچا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور تباہی موسمیاتی تبدیلی کو مزید شدید بنا رہی ہے۔ درخت کاربن جذب کرنے کی قدرتی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن جب جنگلات ختم ہوتے ہیں تو فضا میں گرین ہاس گیسوں کی مقدار میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسی لیے جنگلات کا تحفظ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی ایک موثر حکمتِ عملی ہے۔موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں جنگلات کے تحفظ اور فروغ کے لیے جامع اور موثر پالیسی اقدامات ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے، قومی اور صوبائی سطح پر جنگلاتی پالیسیوں کو موسمیاتی تبدیلی کی حکمتِ عملی کے ساتھ ہم آہنگ کیا جانا چاہیے، تاکہ جنگلات کو موسمیاتی موافقت اور تخفیف (Mitigation) دونوں کے لیے ایک کلیدی ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ اس ضمن میں جنگلات کے تحفظ کو قومی موسمیاتی پالیسی اور پائیدار ترقی کے اہداف سے جوڑنا ضروری ہے۔ دوسرے، جنگلات کی غیر قانونی کٹائی کی روک تھام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بنایا جانا چاہیے اور جدید ٹیکنالوجی جیسے سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور جیوگرافک انفارمیشن سسٹم (GIS)کو موثر انداز میں استعمال کیا جانا چاہیے۔ شفاف نگرانی اور سخت سزائیں جنگلاتی وسائل کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔تیسرے، بڑے پیمانے پر شجرکاری اور جنگلات کی بحالی کے منصوبوں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ منصوبے مقامی ماحولیاتی حالات کے مطابق مقامی اقسام کے درختوں پر مبنی ہونے چاہئیں تاکہ ماحولیاتی توازن برقرار رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، جنگلات کی بحالی میں مقامی کمیونٹیز کی شمولیت کو یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور مقامی سطح پر ملکیت کا احساس مضبوط ہو۔چوتھے، جنگلاتی علاقوں میں آگ سے بچائو کے لیے جامع فائر مینجمنٹ پالیسی متعارف کروائی جانی چاہیے، جس میں ابتدائی انتباہی نظام، مقامی سطح پر تربیت، اور فوری ردِعمل کے انتظامات شامل ہوں۔ اس سے نہ صرف جنگلات کو نقصان سے بچایا جا سکتا ہے بلکہ انسانی جانوں اور املاک کا تحفظ بھی ممکن ہو گا۔پانچویں، تحقیق اور ڈیٹا پر مبنی پالیسی سازی کو فروغ دینا ضروری ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اور جنگلات کے باہمی تعلق پر تحقیق، خطرات کا تجزیہ، اور طویل مدتی منصوبہ بندی بہتر فیصلوں میں مدد دے سکتی ہے۔ جامعات، تحقیقی اداروں اور پالیسی تھنک ٹینکس کے ساتھ اشتراک اس سلسلے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔آخر میں، عوامی آگاہی اور ماحولیاتی تعلیم کو پالیسی کا لازمی جزو بنایا جانا چاہیے۔ اسکولوں، کالجوں اور کمیونٹی سطح پر ماحولیاتی تعلیم کے ذریعے جنگلات کی اہمیت اور موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے متعلق شعور بیدار کیا جا سکتا ہے۔ جب تک عوام جنگلات کے تحفظ کو اپنی اجتماعی ذمہ داری نہیں سمجھیں گے، پالیسی اقدامات مکمل طور پر موثر ثابت نہیں ہو سکیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں